Tuesday , May 30 2017
Home / ہندوستان / ’ینگ انڈین‘ کو راحت دینے سے عدالت کا انکار

’ینگ انڈین‘ کو راحت دینے سے عدالت کا انکار

نیشنل ہیرالڈ کیس

نئی دہلی 12 مئی (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے آج نیشنل ہیرالڈ کیس میں ینگ انڈین پرائیوٹ لمیٹیڈ کے خلاف انکم ٹیکس کارروائی روکنے سے انکار کردیا اور اُن سے کہاکہ وہ ٹیکس حکام سے رجوع ہوں۔ اِس کیس میں کانگریس قائدین سونیا گاندھی اور راہول گاندھی بھی شامل ہیں۔ جسٹس ایس مرلی دھر اور جسٹس چندرشیکھر کی بنچ نے کہاکہ ہم اِس رٹ پٹیشن کو قبول کرنے آمادہ نہیں ہیں۔ بہتر ہے کہ آپ اِسے واپس لیں اور متعلقہ انکم ٹیکس آفیسر سے رجوع ہوں۔ عدالت نے یہ بھی کہاکہ کمپنی اپنی شکایات کے ساتھ متعلقہ عہدیدار سے رجوع نہیں ہوئی، لہذا اُسے پہلے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ سے رجوع ہوکر اپنے دستاویزات پیش کرنا چاہئے۔ بنچ نے مزید کہاکہ اب بھی اطمینان نہ ہونے کی صورت میں کمپنی بعد میں عدالت سے دوبارہ رجوع ہوسکتی ہے۔ بنچ کے موڈ کا اندازہ لگاتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ ابھیشک سنگھوی نے جو کمپنی کی پیروی کررہے ہیں، اپنی پٹیشن واپس لے لی جس کی عدالت نے اجازت دی اور اسے دستبرداری پر خارج قرار دیا۔ ینگ انڈین نے نیشنل ہیرالڈ تصرف بیجا کیس کے ضمن میں اِس کے خلاف دوبارہ تنقیح کی نوٹسوں کو کالعدم کرنے اور آئی ٹی کارروائی کو روکنے کی ہدایت کی استدعا کے ساتھ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ اِس کمپنی کو تخمینی سال 2011-12 ء کے ضمن میں نوٹسیں جاری کئے گئے تھے۔ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے کونسل نے اِس عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ یہ فرم انکم ٹیکس کے متعلقہ آفیسر سے رجوع نہیں ہوئی اور اِس لئے اِس کی عرضی قابل سماعت نہیں ہے۔ بی جے پی ایم پی سبرامنیم سوامی نے ایک نجی فوجداری شکایت میں سونیا اور راہول گاندھی کے علاوہ دیگر قائدین پر الزام عائد کیاکہ اُنھوں نے محض 50 لاکھ روپئے کی ادائیگی کے ذریعہ دھوکہ دہی اور فنڈس کے تصرف بیجا کی سازش رچائی جس کے ذریعہ ینگ انڈین نے کانگریس پارٹی کو اسوسی ایٹ جرنلس لمیٹیڈ کی طرف سے واجب الادا 90.25 کروڑ روپئے کی حصولیابی کا حق حاصل کرلیا۔ سونیا گاندھی اور راہول گاندھی اور دیگر ملزمین موتی لعل ووہرہ، آسکر فرنانڈیز، سمن دوبے اور سام پٹروڈا نے اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کی ہے۔ سماعتی عدالت نے اُنھیں اور ینگ انڈین کو ملزمین کی حیثیت سے 26 جون 2014 ء کو سمن جاری کیا تھا ۔ 7 ڈسمبر 2015 ء کو ہائیکورٹ نے یہ تمام سمن کالعدم کرنے کی اپیلیں مسترد کردیئے تھے۔ آئی ٹی ریکارڈس کے مطابق ینگ انڈین کا 83.3 فیصد حصہ سونیا اور راہول کے پاس ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT