Wednesday , September 20 2017
Home / کھیل کی خبریں / یوراج پر دروازے بند نہیں ہوئے ‘آرام دیا گیا ہے

یوراج پر دروازے بند نہیں ہوئے ‘آرام دیا گیا ہے

ہم ٹیم کے امتزاج پر توجہ کے ساتھ سب کھلاڑیوں پر غور کرتے ہیں ‘ چیف سلیکٹر پرساد
پلے کیل ( سری لنکا )14 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) یہ قیاس آرائیاں چل رہی ہیں کہ شائد یوراج سنگھ کا کیرئیر اختتام کے مراحل میں ہے تاہم چیف سلیکٹر ایم ایس کے پرساد نے آج یہ واضح کردیا کہ سینئر کرکٹر کیلئے قومی ٹیم کے دروازے ہنوز کھلے ہیں۔ نیشنل سلیکٹرس نے کل سری لنکا کے خلاف ونڈے سیریز کیلئے 36 سالہ یوراج سنگھ کو نظر انداز کردیا تھا جس سے یہ اشارے ملے تھے کہ 2019 کے ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھتے ہوئے سلیکٹرس نے ایک مشکل لیکن درست فیصلہ کیا ہے ۔ سلیکٹرس کے فیصلے کے بعد یہ چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں کہ یوراج سنگھ اب دوبارہ کبھی ہندوستان کیلئے نہیں کھیل پائیں گے ۔ تاہم آج ایم ایس کے پرساد نے وضاحت کی اور کہا کہ یوراج سنگھ کو آرام دیا گیا ہے اور وہ اب بھی قومی ٹیم میں واپسی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کیلئے بھی دروازے بند نہیں کئے گئے ہیں۔ کوئی بھی کرکٹ کھیلنے کا حق رکھتا ہے ۔ یہ ان کا جوش و جذبہ ہے ۔ یہ لوگ اپنے شوق کو پورا کر رہے ہیں۔ جہاں تک سلیکشن کی بات ہے ہم نے بہترین امکانی ٹیم کا انتخاب کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم ٹیم منتخب کرتے ہیں تو سب کے تعلق سے تبادلہ خیال ہوتا ہے ۔ بات صرف ایم ایس دھونی یا کسی اور کی نہیں ہے ۔ ٹیم کے انتخاب کے وقت اس کے امتزاج پر غور کیا جاتا ہے ۔ ہم ہر ایک کے تعلق سے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ ٹینس اسٹار آندرے اگاسی کی مثال پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگاسی کا کیرئیر 30 سال کی عمر کے بعد ہی بہتر ہوسکا تھا ۔ ایم ایس کے پرساد نے کہا کہ اگر یوراج سنگھ بہتر کارکردگی دکھاتے رہتے ہیں تو انہیں ٹیم میں واپسی کرنے کا ہر موقع مل سکتا ہے حالانکہ فٹنس اور عمر ان کے حق میں نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب کبھی کسی کھلاڑی کی عمر بڑھتی ہے مثال کے طور پر وہ اگاسی کی کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے ۔ ان کی عمر در اصل ٹینس میں شروع ہوئی 30 سال کے بعد ۔ اس وقت تک انہوں نے صرف دو یا تین خطاب جیتے تھے ۔ اس کے بعد ہی ان کی اصل عمر شروع ہوئی تھی ۔ پرساد نے کہا کہ اگاسی نے میڈیا کے دباؤ کو جھیلتے ہوئے کھیلا ہے ۔ میڈیا ان سے مسلسل سوال کر رہا تھا کہ وہ کب ریٹائر ہونگے تاہم انہوں نے 36 سال کی عمر تک کھیلنا جاری رکھا اور انہوں نے کئی گرانڈ سلام خطاب جیتے ۔ اس طرح آپ نہیں جانتے کہ آپ آنے والے وقتوں میں کیا کچھ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ از خود ہوتا ہے لیکن ہمرا بھی ذمہ ہے ۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ ہندوستانی ٹیم اچھی کارکردگی دکھائے ۔ اگر یوراج بھی اچھا مظاہرہ کرتے ہیں تو انہیں کیوں موقع نہیں دیا جائیگا ؟ ۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے ہیں تو ہمیں دوسرے امکانات کا جائزہ لینا پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ 2019 کیلئے ہندوستانی ٹیم کی شناخت آئندہ تین تا چار ماہ میں روٹیشن پالیسی کی بنیاد پر ہوجائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چار تا پانچ ماہ میں کچھ کھلاڑیوں کو موقع دے کر پرکھا جائیگا جن کی شناخت کرلی گئی ہے ۔

 

TOPPOPULARRECENT