Saturday , October 21 2017
Home / دنیا / یوروپی ممالک آسٹریلیائی پالیسی پر عمل پیرا ہوجائیں: ایبٹ

یوروپی ممالک آسٹریلیائی پالیسی پر عمل پیرا ہوجائیں: ایبٹ

کبھی کبھی ضرورت سے زیادہ رحمدلی دوسروں کیلئے انصاف کو مشکل بنادیتی ہے
ملبورن 28 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سابق آسٹریلیائی وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے آج ایک ایسا بیان دیا جو یقینا انسانیت نواز نہیں ہوسکتا۔ اُنھوں نے تمام یوروپی ممالک کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کے لئے اپنے ملک کے دروازے بند کرلیں اور اُنھیں اسی طرح واپس لوٹادیں جس طرح آسٹریلیا نے کیا ہے اور اس کے لئے سرحدوں کو بند کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر یوروپی ممالک ایسا کرنے میں ناکام رہے تو یہ ایک ایسی غلطی ہوگی جس کا خمیازہ زندگی بھر بھگتنا پڑے گا۔ لندن کے گلڈ ہال میں مارگریٹ تھیچر لیکچر دیتے ہوئے ایبٹ نے یہ بات کہی۔ یاد رہے کہ وزیراعظم کے عہدہ سے برطرفی کے بعد یہ اُن کا پہلا اہم خطاب تھا۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ اگر پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا تو کوئی بھی ملک خود کمزور ہوئے بغیر اُن کے ساتھ (پناہ گزینوں) انصاف نہیں کرسکتا۔ ذرا سوچئے تارکین وطن کا سی ل رواں اگر کسی بھی ملک کا رُخ کرتا ہے تو وہاں کی مقامی آبادی کا کیا ہوگا۔ رہن سہن اور دیگر سہولیات کا کیا ہوگا۔ ملک کی معیشت کا کیا ہوگا۔ بڑی تعداد میں آئے ہوئے لوگوں کے لئے گزارے کے لئے بڑی بڑی رقومات کہاں سے آئیں گی۔ یہ سب وہ بنیادی باتیں ہیں جن کے بارے میں ہر یوروپی ملک کو سوچنا ہوگا اور مجھے اس بات کی تشویش ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر ہمیں اپنی غلطی پر پچھتاوے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔ اُنھوں نے اس سلسلہ میں ہارورڈ گورنمنٹ کے ذریعہ پناہ گزینوں کے لئے اپنائے گئے فارمولے کا تذکرہ کیا اور کہاکہ اس فارمولے کے تحت آسٹریلیا نے پناہ گزینوں کی کشتیوں کو واپس لوٹادیا ہے۔ کبھی کبھی ضرورت سے زیادہ رحم دلی بھی مہنگی ثابت ہوسکتی ہے کیوں کہ اس سے دیگر مستحق لوگوں کے لئے انصاف کا حصول مشکل ہوجاتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ دولت اسلامیہ جیسے عسکریت پسند گروپس سے نمٹنے کے لئے مزید مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اُنھیں اپنے ملک (آسٹریلیا) پر بیحد فخر ہے جو دنیا کا واحد ملک ہے جس نے انسانی اسمگلنگ کی کوششوں کو ایک بار نہیں بلکہ دو بار ناکام کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT