Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / یوروپی ممالک میں ہزاروں شامی پناہ گزینوں کے داخلہ سے بحران

یوروپی ممالک میں ہزاروں شامی پناہ گزینوں کے داخلہ سے بحران

ترکی سے یونان میںجنگ زدہ مسلم ملکوں سے 1,60,000 پناہ گزینوں کی آمد،بازآبادکاری کیلئے حکومتیں مصروف

ایتھنز ۔ 19 ۔ اگست (سیاست  ڈاٹ کام) حکومت یونان کی طرف سے حاصل کردہ ایک سمندری کشتی کے ذریعہ 2,600 شامی پناہ گزینوں کو پرخطر جزیرہ سے محفوظ علاقوں کو منتقل کیا گیا۔ اس دوران ترکی سے پہنچنے والے ہزاروں شامی پناہ گزینوں کے اچانک امڈ پڑنے سے جزیرہ میں تشویش پیدا ہوگئی ہے اور صحت عامہ کو لاحق بحران کے خلاف حکام نے خبردار کیا ہے۔ حالیہ عرصہ کے دوران تقریباً ایک لاکھ شامی پناہ گزین جن میں مردوں کے علاوہ مختلف عمروںکی خواتین اور بچوں کی کثیر تعداد بھی شامل ہے۔ براہ ترکی کئی یوروپی ممالک میں داخل ہوگئے ہیں جس کے نتیجہ میں متعلقہ ممالک کی حکومتوں کو ان کی رہائش اور بازآبادکاری کیلئے مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ تازہ ترین واقعہ میں یونانی حکومت نے ایک بحری کشتی کو جزیرہ کوس روانہ کیا اور یہ کشتی توقع ہے کہ 1,700 شامی پناہ گزینوں کے ساتھ کل صبح شمالی بندرگاہ تھیسالونیکی پہنچے گی۔ علاوہ ازیں جزائر کلیمناؤس، لیروس اور لیس باس کے حکام نے وہاں موجود 900 سے زائد شامی پناہ گزینوں کو محفوظ مقامات منتقل کرنے کی ہدایت دی۔

 

ان تمام شامی پناہ گزینوں کو بسوں میں سوار کرنے کے بعد مقدونیہ سے متصلہ سرحد پر روانہ کردیا جائے گا۔ لیروس کے میئر مشالیس کھولیاس نے اپنے ایک مکتوب میں حکومت سے کہا کہ ’’صورتحال قابو سے باہر ہوچکی ہے‘‘۔ انہوں نے اس جزیرہ سے سینکڑوں مہاجرین کو منتقل کرنے میں مدد کی درخواست بھی کی ہے ۔ کھولیاس نے کہا کہ ’’کئی غیر مجاز پناہ گزینوںکی زندگیوںکو خطرہ لاحق ہوگیا ہے‘‘۔ سرحدی ایجنسی فرنٹیکس کے مطابق 107.500 شامی مہاجرین حالیہ عرصہ کے دوران یوروپی یونین کے رکن ممالک کی سرحدوں میں داخل ہوئے ہیں، جس کے پیش نظر 28 رکنی یوروپی یونین میں انسانی بحران کے اندیشوں میں خطرناک اضافہ ہوگیا ہے۔ یونان میں اس سال جنوری سے تاحال 160.000 مہاجرین پہنچے ہیں، جن میں اکثر کا تعلق جنگ زدہ ممالک شام ، عراق اور افغانستان سے ہے۔ ترکی سے قریب یونانی جزائر ایجیان پناہ گزینوں کی اندھادھند بھرمار سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ حکام اگرچہ پناہ گزینوں کے  غیر قانونی داخلوں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انسانی حقوق اداروں کی جانب سے حکومت پر تنقید کی جارہی ہے ۔ انسانی امداد میں مصروف اداروں کا کہناہے کہ مہاجرین انتہائی دشوار گزار حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کئی ہفتوں سے کھلے میدانوں میں رہنے اور سونے پر مجبور ہیں۔ محض خروج کے دستاویزات کے حصول کیلئے کئی دن قطار میں ٹھہرے انتظار کرنا پڑتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT