Tuesday , August 22 2017
Home / دنیا / یوروپی یونین سے مذاکرات کیلئے برطانیہ کو مزید وقت درکار: مے

یوروپی یونین سے مذاکرات کیلئے برطانیہ کو مزید وقت درکار: مے

لندن۔14 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) برطانیہ کی نئی وزیر اعظم تھریسا مے نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد کابینہ میں چار نئے وزرا شامل کیے ہیں اور کہا ہے کہ یورپی یونین سے بات چیت کے لیے برطانیہ کو مزید وقت درکار ہے۔ وہ ڈیوڈ کیمرون کے مستعفی ہونے کے بعد چہارشنبہ کو ملک کی نئی وزیراعظم بنیں تھیں۔ وزیراعظم بننے کے بعد تھریسا مے نے جرمنی کی چانسلر انجیلا میرکل اور فرانس کے صدر فرانسوا اولاند سے ٹیلی فون پر بات کی۔ اس بات چیت میں انھوں نے کہا کہ یورپی یونین سے انخلا کے حوالے سے مذاکرات شروع کرنے کے لیے برطانیہ کو مزید وقت چاہیے۔ یورپی یونین کے صدر ژاں کلاد ینکر نے بھی تھریسا مے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انھوں نے برطانوی حکومت کی جانب سے یورپی یونین سے باقاعدہ انخلا کے لیے بات چیت شروع نہ کرنے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ برطانیہ کی نئی وزیر اعظم تھریسا مے نے چہارشنبہ کی رات اپنی نئی کابینہ کے پانچ وزرا کا اعلان کیا جن میں بورس جانسن کے علاوہ فلپ ہیمنڈ ، ڈیوڈ ڈیوس، ثلیئم فوکس اور ایمبر رڈ کے نام شامل ہیں۔ خیال رہے کہ بورس جانسن نے برطانیہ کے یورپی یونین سے الگ ہونے کی مہم چلائی تھی۔ بورس جانسن نے سابق وزیرِ خارجہ فلپ ہیمنڈ کی جگہ لی ہے جنھیں اب برطانیہ کا وزیرِ خزانہ بنایا گیا ہے۔ سابق وزیرِ خزانہ جارج اوزبورن نے چانسلر کے عہدے سے گذشتہ رات استعفیٰ دے دیا تھا۔ برطانیہ کی سابق وزیر توانائی ایمبر رڈ کو وزیر داخلہ جب کہ ڈیوڈ ڈیوس کو بریگزٹ یعنی یورپی یونین سے انخلا کے لیے قائم کیے گئے نئے شعبے کا وزیر مقرر کیا گیا ہے۔ برطانیہ کے سابق وزیرِ دفاع لیئم فوکس کو جنھوں نے 2011ء میں اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا، بین الاقوامی وزیرِ تجارت مقرر کیا گیا ہے جب کہ مائیکل فالن وزیرِ دفاع کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔‘

TOPPOPULARRECENT