Tuesday , October 17 2017
Home / دنیا / یوروپ کو ہجرت ‘ لیبیا میں پروسیسنگ مراکز قائم کئے جائینگے

یوروپ کو ہجرت ‘ لیبیا میں پروسیسنگ مراکز قائم کئے جائینگے

صدر فرانس میکران کا اعلان ۔ یوروپ سے تعاون نہ ملنے پر تنہا کوشش کا بھی عزم
آرلیانس 27 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) فرانس کی جانب سے لیبیا میں پناہ حاصل کرنے کے ان خواہشمندوں کیلئے پروسیسنگ مراکز قائم کئے جائیں گے جو یوروپ پہونچنا چاہتے ہیں۔ صدر فرانس ایمانیول میکران نے آج یہ اعلان کیا ۔ میکران نے وسطی فرانس میں ایک پناہ گزین سنٹر کا دورہ کرنے کے بعد کہا کہ اس خیال کا مقصد ایسے مراکز قائم کرنا ہے جہاں لوگ پناہ حاصل کرنے کی کوشش کرسکیں اور انہیں سنگین خطرات مول لینے سے روکا جاسکے ۔ جو لوگ پناہ حاصل کرنے کے طریقہ کار کو پورا کرنے کے موقف میں نہیں ہیں ہمیں ان تک پہونچنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ پر یوروپی یونین کے دوسرے ممالک کے ساتھ یا پھر تنہا ہی جاریہ سال موسم گرما تک عمل آوری کی جائیگی۔ تاہم فرانس کے دفتر صدارت کے عہدیداروں نے اندیشوں کا اظہار کیا کہ شائد یہ مراکز اتنی جلدی قائم نہ ہوسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی یہاں سکیوریٹی صورتحال بہتر نہیں ہے ۔ حقوق انسانی گروپ نے کہا کہ اسے میکران کے اعلان پر شدید تشویش لاحق ہے کیونکہ اس سے کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ میکران نے یہ اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جبکہ دو دن قبل ہی انہوں نے لیبیا میں دو متحارب گروپس کے قائدین کے مابین بات چیت کے پیرس میں انعقاد کو ییقنی بنایا تھا ۔ ان گروپس نے مشروط جنگ بندی سے اتفاق کیا تھا ۔ مسٹر میکران نے آج اپنے اس منصوبہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ لیبیا میں جلد ہی استحکام قائم ہوجائیگا اور یہاں سے ہجرت کرنے والے عوام کی تعداد میں کمی آئیگی ۔ ماہ جنوری سے زائد سے ایک لاکھ افراد نے بحیرہ روم کو عبور کرکے یوروپ میں داخل ہونے کی کوشش کی ہے ۔ نقل مقامی سے متعلق بین الاقوامی تنظیم نے یہ بات بتائی ۔ اس تنظیم کا ادعا ہے کہ اس کوشش میں تقریبا 2,300 افراد غرقاب بھی ہوگئے ہیں۔ یہاں سے ہجرت کرنے والوں کی اکثریت اٹلی میں توقف کرتی ہے جو یوروپی یونین کا قریبی ملک ہے اور شمالی افریقہ سے قریب ہے ۔ مسٹر میکران نے کہا کہ وہ فرانسیسی پناہ گزین بیورو سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کو اٹلی روانہ کرینگے تاکہ وہاں پناہ حاصل کرنے والوں کی مدد کی جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ کچھ عہدیداروں کو لیبیا روانہ کرنے کیلئے بھی تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر دوسرے یوروپی ممالک اس کام میں ان کا ساتھ دینے تیار نہ بھی ہوں تو وہ تنہا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے یوروپی ممالک اس معاملہ میں بہت پس و پیش کا شکار ہیں۔ ہم یہ کام کوروپ کے ساتھ مل کر کرنے کی کوشش کرینگے تاہم فراہم یہ کام تنہا بھی کرنے کو تیار ہے ۔

TOPPOPULARRECENT