Wednesday , August 16 2017
Home / کھیل کی خبریں / یورو 2016: حیران کن و غیرمتوقع نتائج والا ٹورنمنٹ

یورو 2016: حیران کن و غیرمتوقع نتائج والا ٹورنمنٹ

لندن ، 12 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) فرانس کے خلاف یورو کپ فائنل، وہ بھی پیرس میں اور مخالف ٹیم بھی وہ جس میں کوئی اور نہیں بلکہ دنیا کا سب سے مشہور کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو کھیل رہا ہو۔ 1998ء میں ایک مشہور برازیلی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہوا تھا جب وہ زخمی ہوگیا تھا اور چاہتے ہوئے بھی میدان میں وہ نہ کر سکا جو اس کی خواہش تھی۔ اتوار کی رات بھی کچھ ایسا ہی ہوا اور جب کھیل کے آغاز میں ہی زخمی ہونے کے بعد مشہور پرتگالی کھلاڑی کو میدان سے باہر جانا پڑا تو لگا کہ آج قسمت اس کے ساتھ بھی وہی کھیل کھیلنے جارہی ہے جو برازیلی رونالڈو کے ساتھ ہوا تھا۔ 1998ء میں جب وہ رونالڈو زخمی ہو گئے تھے تو فرانس نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور میچ جیت لیا تھا۔ یورو 2016ء فائنل میں بھی لوگ شاید یہی سوچنے لگے تھے کہ تاریخ خود کو دہرانے جا رہی ہے۔ لیکن گزشتہ دنوں میں اس ٹورنمنٹ میں اتنی انہونیاں ہو چکی تھیں کہ اتوار کی رات ایک اور انہونی کے ساتھ ٹورنمنٹ اختتام کو پہنچا۔ کسے معلوم تھا کہ اس ٹورنمنٹ سے پہلے جو جرمنی کبھی بھی اٹلی کو (ناک آؤٹ مرحلے میں) نہیں ہرا پایا تھا وہ اس ایونٹ میں یہ بھی کرگزرے گا۔اسی طرح اس سے پہلے نہ تو فرانس نے جرمنی کو شکست دی تھی اور نہ ہی کبھی پرتگال نے فرانس کو ہرایا تھا۔ اتوار کو جب اضافی وقت کے بھی آخری منٹ میں ایڈر نے میچ کا واحد گول کیا تو لگا کہ اس ٹورنمنٹ کے تین میچوں میں تین انہونیاں ہو گئیں۔ جب فائنل شروع ہوا تو حسب توقع اس ٹونمنٹ کی فیورٹ ٹیم فرانس ہی کھیل پر چھائی نظر آ رہی تھی اور لگ یہی رہا تھا کہ وہ اپنے گول کی تعداد بڑھا کر ہی دم لیں گے۔

لیکن لگتا ہے کہ رونالڈو کا زخمی ہو جانا دونوں ٹیموں کیلئے اچھا ثابت نہیں ہوا، کیونکہ اُن کے زخمی ہو جانے کے بعد فرانس کی جانب سے بھی اُس تیزی اور ردھم میں کمی آ گئی جس سے انھوں نے فائنل کا آغاز کیا تھا۔ ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ میزبان ٹیم کو سمجھ نہیں آ رہا کہ رونالڈو کے میدان سے چلے جانے پر اُن کا رد عمل کیا ہونا چاہئے۔ اپنے اسٹار اسٹرائیکر کے چلے جانے کے بعد پرتگال نے خلافِ توقع دفاعی کھیل شروع کر دیا اور زیادہ توجہ اپنے ہاف پر مرکوز کر دی۔ اس حکمت ِعملی نے میچ کو بے کیف بنا کر رکھ دیا۔ ہر کوئی مایوس ہو گیا کہ پرتگال کے پاس رونالڈو کی جگہ لینے والا کوئی نہیں اور ان کی جانب سے اب کوئی بڑا حملہ نہیں ہوسکتا۔ مگر غیرمعروف ایڈر کے فیصلہ کن گول کا نتیجہ یہ نکلا کہ کافی دیر میدان کے کنارے کھڑے لنگڑاتے رونالڈو نے اپنے انٹرنیشنل کیریئر کی پہلی بڑی ٹروفی اٹھا لی۔ اگر آپ سوچیں کہ چند ہی ہفتے پہلے دنیائے فٹبال میں اُن کے سب سے بڑے حریف لیونل میسی کو ایک فائنل ہارنے کے بعد خالی ہاتھ اور آنسوؤں کے ساتھ میدان سے رخصت ہونا پڑا تھا، تو اتوار کی رات کی کامیابی ایسی فتح ہے جس کیلئے رونالڈو کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ فتح جتنی اہم رونالڈو کیلئے ہے اتنی ہی تاریخی پرتگال کیلئے بھی ہے۔ اس فائنل سے پہلے پرتگال بہت سے سیمی فائنل کھیل چکا تھا اور کئی ایونٹس سے شکستہ دل لوٹ چکا تھا۔ بڑی مایوسی تو 2004ء میں ہوئی جب وہ وطن میں فائنل میں یونان سے ہارے تھے۔ لیکن اس مرتبہ پرتگال کی باری تھی ، انھوں نے آخر کار پانسہ پلٹا اور ایک نئی تاریخ رقم کرلی۔

TOPPOPULARRECENT