Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / یورپ بددیانتی کا مرتکب ہورہا ہے : ایمنیسٹی انٹرنیشنل

یورپ بددیانتی کا مرتکب ہورہا ہے : ایمنیسٹی انٹرنیشنل

پناہ گزینوں کے بارے میں معاہدہ نافذ العمل  ‘استنبول دھماکہ کے زخمیوں کی بازآبادکاری کا اسرائیل۔ ترکی معاہدہ
انقرہ ۔20مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) ہزاروں پناہ گزین ترکی اور مقدونیہ کی سرحد پر یورپ میں داخلے کے منتظر ہیں۔انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے پناہ گزینوں کو واپس ترکی بھیجنے کے معاہدے پر یورپی رہنماؤں پر ’بددیانتی‘ کا الزام عائد کیا ہے۔ادارے نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ یورپی یونین کی جانب سے ’پناہ گزینوں کے بحران سے منھ موڑنے کی سرگرم کوشش‘ کے مترادف ہے۔اس منصوبے کے تحت یونان پہنچنے والے مہاجرین اگر پناہ کے لیے درخواست نہ دیں یا ان کی درخواست نامنظور ہو جائے تو انھیں واپس ترکی بھیج دیا جائے گا۔اس کے بدلے میں ترکی کو امداد اور سیاسی مراعات دی جائیں گی۔ اس کے علاوہ معاہدے کے تحت یونانی حکام پناہ کی درخواستوں پر فرداً فرداً غور کریں گے۔تاہم شامی شہریوں سمیت بہت سے پناہ گزین جرمنی اور شمالی یورپ کے دوسرے ممالک جانا چاہتے ہیں، اور یونان میں پناہ کی درخواست دینے سے کتراتے ہیں۔معاہدے کے مطابق ہر شامی جسے ترکی واپس بھیجا جائے گا، اس کے عوض ترکی میں پہلے سے موجود ایک شامی کو یورپی یونین میں بسایا جائے گا۔ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے یورپ اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جان ڈیلہوئسن نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے بین الاقوامی اور یورپی یونین کے قانون کی پاسداری کے لیے کیے جانے والے وعدے ’زہریلی گولیوں کے اوپر چینی کی تہہ کی مانند ہیں جنھیں یورپ میں پناہ کے متلاشیوں کے حلق میں ٹھونسا جا رہا ہے۔

‘انھوں نے مزید کہا: ’بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے وعدے اتوار کے روز یونانی جزیروں پر پہنچنے والے پناہ گزینوں کی ترکی واپسی سے متصادم ہیں۔‘یورپی یونین اور ترکی کے درمیان پناہ گزینوں کے بحران پر معاہدہ نافذالعمل ہو گیا ہے۔ اگر یونان پہنچنے والے پناہ گزین وہاں پناہ کی درخواست دائر نہ کریں، یا ان کی درخواست مسترد ہو جائے تو انھیں واپس ترکی بھیجا جا سکتا ہے۔معاہدے کی حتمی مہلت آنے سے قبل یونان کے جزیروں پر پہنچنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ اسی دوران یورپ کے مختلف شہروں میں اس معاہدے کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ہر شامی شہری جسے ترکی واپس بھیجا جائے گا، اس کے عوض ترکی میں پہلے سے موجود ایک شامی کو یورپی یونین میں بسایا جائے گا۔تاہم اب بھی معاہدے کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات قائم ہیں، بشمول اس بات کے کہ پناہ گزینوں کی واپسی کا طریقہ کار کیا ہو گا۔تقریباً 23 صیانتی ملازمین تارکین وطن کے امور کے حکام اور مترجم یونان پہنچنے والے ہیں تاکہ وہ معاہدے کے نفاذ میں مدد دے سکیں۔

توقع ہے کہ اس معاہدے کے بعد لوگ ترکی سے یونان کا خطرناک سفر اختیار نہیں کریں گے۔ اس کے بدلے میں ترکی کو امداد اور سیاسی مراعات دی جائیں گی۔عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز ڈیڑھ ہزار کے قریب لوگ بحرایجیئن عبور کر کے یونان کے جزائر پہنچے۔ یہ تعداد گذشتہ روز کے مقابلے پر دگنی ہے، جب کہ ایک ہفتہ قبل صرف چند سو لوگوں ہی نے یہ راستہ اختیار کیا تھا۔دوسری طرف ترکی کے ایک خبررساں ادارے انادولو نے خبر دی ہے کہ پناہ گزینوں کی ایک کشتی الٹنے سے ایک چار ماہ کی بچی ڈوب گئی۔انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق جنوری 2015 کے بعد سے دس لاکھ کے قریب پناہ گزین کشتیوں کے ذریعے ترکی سے یونان میں داخل ہوئے ہیں۔ صرف اسی سال 143000 افراد یونان پہنچے ہیں، جب کہ 460 راستے میں ہلاک ہو گئے۔ یروشلم سے موصولہ اطلاع کے بموجب اسرائیل نے آج دو طیاروں کو ترکی روانہ کیا تاکہ ایک خودکش بم حملے میں استنبول میں زخمی افراد کو اسرائیل لایا جائے ۔ اسرائیل اور ترکی کے درمیان اس دھماکہ کے زخمی افراد اور مہلوکین کے ورثاء کو بازآبادکاری میں اسرائیل مدد کرے گا ۔ سی این این کی اطلاع کے بموجب ایک 60سالہ اور 40سالہ اسرائیلی شہری بھی اس خودکش حملہ میں ہلاک ہوگئے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT