Thursday , September 21 2017
Home / دنیا / یورپ میں پناہ گزینوں کے بحران کے خاتمہ کے آثار نہیں

یورپ میں پناہ گزینوں کے بحران کے خاتمہ کے آثار نہیں

روم۔20 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) یورپی کمیشن ،پناہ کی تلاش میں یورپ کا رُخ کرنے والے افراد کا بوجھ یورپی یونین کے رکن ممالک میں منصفانہ طور پر بانٹنے کے منصوبے پر غور کر رہا ہے۔گزشتہ برس 10 لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کی یورپ آمد سے ایک بحران پیدا ہوگیا ہے جس کے فوری خاتمہ کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ یورپی کونسل کے صدر ڈونالڈ ٹسک نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے پاس اس معاملے پر قابو پانے کیلئے دو ماہ سے زیادہ کا وقت نہیں ہے۔یورپی یونین کے موجود ڈبلن نظام کے تحت پناہ کے خواہشمند افراد کو اس یورپی ملک میں درخواست دینا ہوتی ہے جہاں وہ سب سے پہلے پہنچتے ہیں۔تاہم یہ نظام گزشتہ برس اس وقت ناکام ہوگیا جب اٹلی اور یونان کے ساحلوں پر پہنچنے والے پناہ گزینوں نے بغیر رجسٹریشن شمالی یورپ کا رخ کر لیا تھا۔اس نظام کی ناکامی کے بعد تنظیم کے کچھ رکن ممالک نے اپنے طور پر سرحدی پابندیاں بھی عائد کر دی تھیں۔یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلاڈ جنکر نے کل کہا تھا کہ ’ڈبلن قوانین‘ کے جائزے کی تجاویز جلد ہی سامنے لائی جائیں گی۔کمیشن نے کہا کہ اس سلسلے میں مختلف امکانات زیر غور ہیں جن کا مقصد ایک ایسے نظام کی تشکیل ہے جس کے تحت پورے براعظم میں پناہ گزینوں کی منصفانہ تقسیم ہو سکے۔ ادھر یورپی ملک ناروے نے اپنے ان نئے قوانین پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے جن کے تحت پناہ کے طالب ایسے افراد کو واپس بھیج دیا جائیگا جو کسی محفوظ ملک سے ناروے میں داخل ہوں گے۔ اس سلسلے میں 13 پناہ گزینوں کو بذریعہ بس واپس روس بھیجا گیا ہے۔ ناروے میں اس وقت 5,500 پناہ گزین ایسے ہیں جنہیں روس بھیجا جانا ہے اور ان میں سے بیشتر کا تعلق شام سے ہے۔ یہ افراد 2015ء کے آخری چھ ماہ کے دوران ناروے پہنچے تھے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیں کا کہنا ہے کہ 2015ء  میں صرف سمندر کے راستے ہی 10 لاکھ سے زیادہ پناہ گزین یورپ پہنچے تھے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT