Sunday , September 24 2017
Home / ہندوستان / یوم آزادی تقاریب کے سلسلہ میں بے مثال حفاظتی انتظامات

یوم آزادی تقاریب کے سلسلہ میں بے مثال حفاظتی انتظامات

لال قلعہ دہلی کے اطراف ہزاروں صیانتی ارکان عملہ تعینات، کئی مرحلوں پر مشتمل حفاظت
نئی دہلی ۔ 15 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ہزاروں مسلح صیانتی ارکان عملہ نے آج پورے قومی دارالحکومت پر عقابی نظروں سے نگرانی کا انتظام کیا تھا کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی نے یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل پر ترنگا لہرایا اور قوم سے یوم آزادی خطاب کیا۔ صیانتی عملہ کے ہزاروں افراد بشمول 5 ہزار دہلی پولیس کے ملازمین بے عیب صیانتی انتظامات کو یقینی بنانے کیلئے تاریخی مغل قلعہ کے اطراف و اکناف میں تعینات کئے گئے تھے۔ یہاں پر سینئر وزراء، اعلیٰ سرکاری عہدیدار، غیرملکی اہم شخصیات اور عوام کا کثیر مجمع تھا۔ کئی مرحلوں پر مشتمل صیانتی انتظامات راج پتھ اور اس کے مضافات میں کئے گئے تھے۔ تمام سرکاری عمارتوں بشمول شمالی اور جنوبی بلاک کو کل غروب آفتاب کے ساتھ ہی روشنیوں سے معمور کردیا گیا تھا۔ لال قلعہ پر این ایس جی کے نشانہ بازوں کی ایک خصوصی ٹیم اور کمانڈوز ان مرحلوں میں شامل تھے جنہوں نے اس علاقہ کا صیانتی محاصرہ کر رکھا تھا۔ طیارہ شکن توپیں کسی بھی فضائی دراندازی کے انسداد کیلئے تعینات کی گئی تھی۔ ڈرون طیاروں اور اسی قسم کے دوسرے طیاروں کو دیکھتے ہی مار گرانے کے انتظامات کئے گئے تھے۔ دہلی پولیس نے اس علاقہ کو عدم پرواز خطہ قرار دیا تھا۔ اس علاقہ میں ڈرون طیاروں کی پرواز، پیرالائڈنگ اور گرم ہوا کے غبارے اڑانے پر بھی 10 اکٹوبر تک امتناع عائد کردیا گیا ہے۔ پولیس نے لال قلعہ کے تمام مضافاتی علاقوں کا سروے کیا اور وہاں مقیم 9 ہزار افراد کے بارے میں تفصیلات سے واقفیت حاصل کی۔ لال قلعہ کے روبرو موجود تمام عمارتوں کو پولیس اور نیم فوجی عملہ کی تعیناتی کے ذریعہ محفوظ کرلیا گیا تھا۔ داخلے اور اخراج کے پھاٹکوں پر، تمام میٹرو اسٹیشنوں پر سخت جانچ کی جارہی تھی۔ تصویرکشی پر گہری نظر رکھی جارہی تھی۔ لال قلعہ کی جانب کھلنے والی 605 بالونیوں اور 104 کھڑکیوں کی اور اس علاقہ کے 3000 سے زیادہ درختوں پر کڑی نگرانی رکھی گئی تھی۔ فوج اور این ایس جی کے عہدیدار خصوصی مواصلات کا نظام قائم کئے ہوئے تھے اور کمانڈ سنٹر لال قلعہ میں جاری کارروائی کی سخت نگرانی کررہا تھا۔ اس کے علاوہ 200 سی سی ٹی وی اور دو اونچے ستون کیمروں سے آراستہ نصب کئے گئے تھے جن کے ذریعہ 3 کنٹرول رومس سے لال قلعہ کے احاطہ پر نگرانی کی جارہی تھی۔ خصوصی مقامات پر دہلی پولیس اور نیم فوجی فورس کے سپاہیوں نے نگرانی رکھی تھی۔ 60 سے زیادہ کھوجی کتے بھی صیانتی انتظامات کا ایک حصہ تھے۔ ابتدائی صیانتی انتظامات ماہ جولائی سے ہی شروع کردیئے گئے تھے۔ پولیس اور محکمہ سراغ رسانی کے سینئر عہدیدار کسی بھی کوتاہی اور خرابی کو دور کرنے کیلئے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھے اور حفاظتی انتظامات وقفہ وقفہ سے جائزہ لے رہے تھے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بلیٹ پروف شیشہ کے پیچھے خطاب کرنے سے انکار کردیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT