Wednesday , September 20 2017
Home / ہندوستان / یوم آزادی پر وزیر اعظم کی تقریر مایوس کن

یوم آزادی پر وزیر اعظم کی تقریر مایوس کن

کشمیر کے حالات بہتر بنانے میں حکومت ناکام:مفتی مکرم احمد
نئی دہلی۔/19اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) شاہی امام مسجد فتحپوری دہلی مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں کہا کہ مذہب اسلام محبت اور رواداری، امن و سلامتی کا مذہب ہے اس میں دورائے نہیں ہوسکتیں۔ مذہب اسلام کو مقبولیت اس کی بہترین تعلیمات کی وجہ سے ہی حاصل ہوئی ہے اور مخالفین کچھ بھی کرلیں وہ مذہب اسلام کی مقبولیت کم نہیں کرسکتے۔ دہشت گردی اور تشدد کی حمایت مذہب اسلام نے کبھی نہیں کی اور جو لوگ ایسا کررہے ہیں وہ سچے پیروکار مومن نہیں ہیں۔ 15اگسٹ یوم آزادی پر وزیراعظم نے اپنی تقریر میں مسلمانوں، اقلیتوں اور کشمیریوں کو نظرانداز کیا اس سے ہر طبقہ میں مایوسی پیدا ہوئی ہے۔ اگر ملک میں پرامن ماحول نہیں ہے تو یہ اچھی علامت نہیں ہے۔ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد اور شرپسند عناصر مختلف تنظیموں کے بیانر لے کر بدامنی کا ماحول پیدا کررہے ہیں اس پر حکومت کو لگام کسنی ضروری ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اپنے دفاتر کئی شہروں میں بند کرچکی ہے۔ گاؤ رکھشا کے نام پر بدامنی پھیلانے والوں پر قانون کا کوئی اثر نہیں ہے۔ کشمیر کے حالات چالیس روز سے بے قابو ہیں لوگ انٹر نیٹ اور موبائیل وغیرہ خدمات بند ہونے کی وجہ سے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے حالات کی خبر لینے کے لئے بے چین ہیں۔ وادی کشمیر میں ایس پی او یعنی گولی چلانے کیلئے مقررہ قواعد کی خلاف ورزی جاری ہے، ستر سے زیادہ لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ سینکڑوں اپنی بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔ ہزاروں زخمی اور پریشان حال ہیں۔ وادی کے حالات روز بروز بگڑ رہے ہیں حکومت ناکام نظر آرہی ہے۔ وزیر اعظم کی طرف نظریں جمائے کشمیری مدد کی آس لگائے بیٹھے ہیں لہذا بلا تاخیر کشمیریوں کے دکھ درد کو دور کیا جائے۔ مغربی دہلی کے شکتی وہار موہن گارڈن کی نورانی مسجد میں ظہر کی نماز کے بعد اگر علاقہ کے مسلمان صبر و ضبط کا دامن ہاتھ میں نہ لیتے تو حالات مزید بگڑ سکتے تھے جوکہ وہاں پر بی جے پی اور اس کی ہمنوا تنظیموں کے کارکنان مسجد کے اندر آکر جھگڑے پر آمادہ تھے اور مسجد میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو بہانہ بناکر فساد پر آمادہ تھے۔ مراد نگر میں بازوالی مسجد میں مغرب کی نماز کے وقت سنگباری سے نماز پڑھتے ہوئے شخص کا زخمی ہونا بھی تازہ واقعہ ہے۔ شاہی امام نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسی بھی حکمت اور مصلحت کا انتظار کئے بغیر ان شرارتی فرقہ پرستوں پر کارروائی کرکے انہیں جیلوں میں ڈالا جائے اور سخت کارروائی کی جائے چونکہ اب بقرعید میں ایک ماہ بھی نہیںہے ایک سو پچیس کروڑ لوگوں کی پکار ہے پُرامن زندگی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا تحفظ ۔ ہمیں امید ہے کہ بلا تاخیر حکومت اس جائز مطالبہ کو پورا کرے گی اور ملک میں امن و سلامتی بحال کرے گی۔
علی گڑھ میں نوجوان کا چاقو مار کر قتل
علی گڑھ۔/19اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) اتر پردیش میں علی گڑھ کے کوارسی علاقہ میں دشمنی کی وجہ سے کچھ لوگوں نے ایک نوجوان کو چاقو سے وار کرکے قتل کردیا۔ پولیس نے آج یہاں بتایا کہ علی گڑھ شہر کے قلع نگر علاقہ میں کل شام احتشام اور کچھ نوجوانوں نے عادل 22سالہ پر حملہ کردیا۔اسے میڈیکل کالج روانہ کیا گیا جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔

TOPPOPULARRECENT