Saturday , August 19 2017
Home / اداریہ / یوم آزادی ہند

یوم آزادی ہند

یہ شاخ نور جسے ظلمتوں نے سینچا ہے
اگر پھلی تو شراروں کے پھول لائے گی
یوم آزادی ہند
آج ہندوستان کا یوم آزادی ہے ۔ ہم اپنی آزادی کے 70 سال کا جشن منا رہے ہیں۔ ہم کو یہ آزادی بے تکان جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی ہے ۔ ہمارے مجاہدین آزادی نے عظیم قربانیاں پیش کرتے ہوئے آزادی دلائی تھی اور اس ملک سے انگریزوں کے راج اور ان کی غلامی کو ختم کیا تھا ۔ ہم آزاد ہندوستان میں سات دہوں کا طویل سفر مکمل کرچکے ہیں اور آٹھویں دہے میں قدم رکھ رہے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے مجاہدین آزادی نے جس آزادی کا خواب دیکھا تھا کیا ہم ان خوابوںکو شرمندہ تعبیر کرر ہے ہیں۔ کیا ہم اپنے مجاہدین آزادی کی عظیم قربانیوں کی لاج رکھنے میں کامیاب ہیں ؟ ۔ آزاد ہندوستان اپنے سات دہوں کے سفر کے باوجود بے طرح مسائل کا شکار ہے اور ہم کو ان مسائل کی یکسوئی اور حل کیلئے ایک علیحدہ جدوجہد شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔ آج ہندوستان اپنے دیرینہ مسائل سے آگے تو نہیںآسکا ہے لیکن ہم کو مزید نت نئے مسائل کا شکار کیا جا رہا ہے ۔ آزاد ہندوستان میں کسی کو اپنی پسند کی غذا استعمال کرنے کی آزادی نہیں دی جا رہی ہے ۔ مٹھی بھر عناصر اپنی مرضی اور ہٹ دھرمی ساری قوم پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کی وجہ سے ملک کا ہم آہنگی کا ماحول پراگندہ ہو رہا ہے ۔ قومی یکجہتی کے تانے بانے بکھرنے لگے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے بغلگیر ہونے کی بجائے خوفزدہ ہو رہے ہیں۔ آزاد ہندوستان میں خواتین کے احترام تک کو ملحوظ نہیں رکھا جا رہا ہے اور انہیں محض ایک شک کی بنیاد پر سر عام مار پیٹ کی جا رہی ہے ۔ دھڑلے کے ساتھ انسانوں کا خون بہایا جا رہا ہے ۔ بہانہ جانوروں کے حقوق کا پیش کیا جا رہا ہے ۔ ہمارے مجاہدین آزادی نے کم سے کم اس ہندوستان کا خواب نہیں دیکھا تھا جس میں ایک برادری دوسری برادری سے متنفر ہوجائے ۔ ایک طبقہ دوسرے طبقہ پر راج کرے اور اسے اس کے جائز حقوق سے محروم کردے ۔ ہمارے مجاہدین آزادی نے سماجی مساوات اور ہم آہنگی کا خواب دیکھا تھا جو شرمندہ تعبیر تو نہیں ہوا بلکہ اس خواب کو چکنا چور کیا جا رہا ہے ۔ جو حالات پیش آ رہے ہیں وہ ہمارے مجاہدین آزادی کے خوابوں کی تعبیر ہرگز نہیں کہے جاسکتے ۔
آج کے ہندوستان میں اقلیتوں اور دلتوں میں احساس عدم تحفظ پیدا کردیا گیا ہے ۔ انہیں طرح طرح کے مظالم کا شکار کیا جا رہا ہے ۔ ان کے حقوق سلب کئے جا رہے ہیں اور انہیں عملا دوسرے درجہ کا شہری بناکر رکھ دیا گیا ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سبب کچھ چند مٹھی بھر عناصر کر رہے ہیںاور ان پر لگام کسنے کوئی حکومت آگے نہیں آ رہی ہے ۔ اگر کسی گوشے سے ایسی حرکتوں کی مذمت ہوتی بھی ہے تو صرف زبانی جمع خرچ کی حد تک ہوتی ہے ۔ عملی میدان میں کوئی کارروائی نہیں ہوتی ۔ آج کے ہندوستان میں ایسے مسائل پیدا ہوگئے ہیں جنہیں فوری توجہ کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ سماج میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ تعلیم کو فروغ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ نوجوان جو ہمارے ملک کا مستقبل ہیں تعلیم کے ذریعہ ہی ساری دنیا پر راج کرسکتے ہیں۔ ہمیں خواتین کے خلاف ہونے والے مظالم کو روکنے کیلئے کمر کسنے کی ضرورت ہے ۔ خواتین کی عزت و احترام کو اس معاشرہ میں بحال کرنے کی ضرورت ہے ۔ بچوں کو ان کے حقوق دئے جانے چاہئیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ کوئی ہندوستان بھوکا نہ رہنے پائے ۔ کسی ہندوستانی کو بنیادی سہولیات سے محرومی برداشت کرنی نہ پڑے ۔ کوئی ہندوستانی علاج کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے بیماریوں سے تنگ آکر خود کشی کرلے ۔ کسی کسان کو اپنے قرض اور حالات کے بوجھ کی وجہ سے اپنا گلا گھونٹنا نہ پڑے ۔ سماج میںہم آہنگی ہو اور سماجی مساوات کو یقینی بنانے اور اسے حقیقت کا روپ دینے کیلئے ہر گوشہ سے متحدہ کوشش ہو ۔
آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ جانوروں کے تحفظ کے نام پر انسانوں کو قتل کیا جا رہا ہے ۔ ان سے غیر انسانی سلوک کیا جا رہاہے ۔ خواتین کی عزتیں محفوظ نہیںہیں ۔ ان کا احترام ختم ہوگیا ہے ۔ سماج میں اخلاق و اقدار اور کردار ناپید ہوگئے ہیں ۔ ہندوستان کی اصل دولت یہی ہے کہ ان سماجی اخلاق و اقدار کو بحال کیا جائے ۔ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جائے جس کا خواب ہمارے مجاہدین آزادی نے دیکھا تھا ۔ ایک ایسا ہندوستان تعمیر کیا جائے جو ساری دنیا کیلئے ایک مثال بن کر ابھر سکے اور دوسرے ہماری تہذیب و تمدن کی مثالیں پیش کریں۔ ایسا ہندوستان اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب حکومتیں تنگ نظری اور متعصب ذہنیت سے کام کرنا ترک کردیں اور سماج کے ہر فرقہ اور ہر طبقہ کے ساتھ انصاف کیا جائے ۔ ہندوستان کے ہر شہری کو اس کا جائز حق دیا جائے اور ایک طبقہ کو دوسرے طبقہ پر فوقیت حاصل نہ رہے ۔

TOPPOPULARRECENT