Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / یوم اساتذہ کے موقع پر یونیورسٹی و کالجس کے اساتذہ کیلئے ریاستی ایوارڈز

یوم اساتذہ کے موقع پر یونیورسٹی و کالجس کے اساتذہ کیلئے ریاستی ایوارڈز

سلیکشن کمیٹی کی سفارشات قبول ۔ احکام کی اجرائی ‘ اقلیتی اساتذہ کی انتہائی کم نمائندگی
حیدرآباد۔/4ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے یوم اساتذہ کے موقع پر یونیورسٹی اور کالجس کے اساتذہ کیلئے ریاستی ایوارڈز 2015کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے ایوارڈز کے سلسلہ میں ریاستی سطح کی سلیکشن کمیٹی کی سفارشات کو قبول کرتے ہوئے آج احکامات جاری کئے۔ پرنسپال سکریٹری اعلیٰ تعلیم راجیو آر اچاریہ کے مطابق تلنگانہ کی 10یونیورسٹیز کے 22 اساتذہ، ملحقہ کالجس کے 11 اساتذہ، جونیر کالجس کے 7 اور گورنمنٹ پالی ٹیکنک کے 2 لکچررس کو اسٹیٹ ایوارڈ کیلئے منتخب کیا گیا۔ حکومت نے ایوارڈ یافتگان کی جو فہرست جاری کی ہے اس میں یونیورسٹی اور یونیورسٹی سے ملحقہ کالجس کے زمرہ میں ایک بھی اقلیتی امیدوار موجود نہیں۔ جونیر کالجس کے زمرہ میں جن 7 اساتذہ کو ایوارڈ کیلئے منتخب کیا گیا ان میں صرف ایک کا تعلق اقلیتی طبقہ سے ہے۔ محمد رضی الدین اسلم جونیر لکچرر فزکس گورنمنٹ جونیر کالج بوائز نظام آباد کو ایوارڈ کیلئے منتخب کیا گیا۔ تلنگانہ کی 10یونیورسٹیز میں سے پانچ میں 3، 3 اساتذہ کا ایوارڈ کیلئے انتخاب کیا گیا جبکہ دو یونیورسٹیز میں دو، دو اساتذہ منتخب کئے گئے باقی میں ایک، ایک کا انتخاب عمل میں آیا۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے پروفیسر بی این ریڈی ڈپارٹمنٹ آف باٹنی، ڈاکٹر وی سدرشن پرنسپال یونیورسٹی کالج آف سائنس اور ڈاکٹر وی بھیما اسسٹنٹ پروفیسر مائیکرو بیالوجی کا انتخاب کیا گیا۔ جونیر لکچررس کے زمرہ میں نلگنڈہ سے 2 لکچررس منتخب کئے گئے جبکہ حیدرآباد، رنگاریڈی، نظام آباد، کریم نگر اور میدک سے ایک ، ایک کا انتخاب عمل میں آیا۔ پالی ٹیکنک اساتذہ کے زمرہ میں محبوب نگر اور ورنگل کے لکچررس کا انتخاب کیا گیا۔ واضح رہے کہ تلنگانہ حکومت اقلیتوں کو تعلیم اور روزگار میں `12فیصد تحفظات کا وعدہ کررہی ہے لیکن ایوارڈ کیلئے منتخب اساتذہ میں اقلیتوں کی تعداد 4فیصد بھی نہیں ہے جو تلنگانہ میں نافذ العمل ہے۔ اس سلسلہ میں اقلیتی تنظیموں اور خاص طور پر اردو اداروں کی خاموشی معنی خیز ہے۔ حکومت میں شامل افراد و برسراقتدار پارٹی کے اقلیتی قائدین کو اس جانب توجہ مبذول کرنی چاہیئے۔ یونیورسٹیز، جونیر کالجس اور پالی ٹیکنکس میں اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کی کمی نہیں جنہیں ان کی صلاحیت کی بنیاد پر ایوارڈ کیلئے منتخب کیا جاسکتا تھا۔ حکومت کی جاری کردہ فہرست سے اقلیتی طبقہ کے اساتذہ میں مایوسی پائی جاتی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT