Thursday , July 27 2017
Home / اضلاع کی خبریں / یوم اقلیتی بہبود، روایتی و نمائشی پروگراموں تک محدود

یوم اقلیتی بہبود، روایتی و نمائشی پروگراموں تک محدود

صرف توصیف ناموں کی تقسیم ، حکومت کی مدح سرائی، تعلیمی و ملی مسائل یکسر نظر انداز
نظام آباد:13؍ نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) انڈین یونین مسلم لیگ نظام آباد کے صدر محمد عبدالمقیت سابق کارپوریٹر نے اپنے صحافتی بیان میں کہا کہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد کی 128 ویں یوم پیدائش کے موقع پر تقریب یوم اقلیتی وبہبود ایک روایتی و نمائشی پروگرام بن کر رہ گیا حکومت کی تعریف عوامی نمائندوں کے مدح سرائی، گلپوشی توصیف نامہ اور تہنیت اقلیتی بہبود پروگرام کی خاص بات رہی جبکہ ملی مسائل یکساں نظر انداز کردئیے گئے ۔ مسلمانوں کے مسائل جیسے شادی مبارک اسکیم کی رقم گذشتہ جنوری سے مستحقین کو ادا نہیں کی گئی جس سے کئی غریب خاندان پریشان ہے۔ انکوائری کے نام غریب خاندانوں کو بار بار ہراساں کیا جارہا ہے غریب خاندانوں میں اپنی لڑکی کی شادی کیلئے قرض اور فینانس سے رقم حاصل کی تھی بار بار توجہ دہانی کے باوجود بھی رقم جاری نہیں کی جارہی ہے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو گذشتہ دوسالوں سے اسکالرشپ ادا نہیں کی گئی ۔ اس سے غریب طلبہ اسکول فیس ادا نہیں کر پارہے ہیں طلبہ کے ترک تعلیم کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ بینک لون کے نام پر گذشتہ دو سالوں سے بیروزگارنوجوان محکمہ اقلیت کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ اُردو میڈیم گورنمنٹ اسکول اساتذہ کی کمی کی وجہ سے اسکول میں طلبہ کی تعداد دن بہ دن کمی ہوتی جارہی ہے ۔ ان تمام اہم مسائل پر اقلیتی بہبود کے پروگرام میں نہ ہی ضلع کلکٹر اور ریاستی وزیر کی جانب سے ان مسائل کو حل کرنے کیلئے نہ ہی تیقن دیا گیا اور نہ ہی ذکر کیا گیا۔ محکمہ اقلیتی بہبود ایک نمائشی اور غیر کار کرد ادارہ بن کر رہ گیا ہے ۔ گذشتہ ڈھائی سال سے کوئی نئی اسکیم متعارف نہیں کی گئی اور نہ ہی پرانی ویلفیر اسکیموں پر عمل آوری ہو پارہی ہے۔ ریاستی حکومت اقلیتوں کیلئے ایک ہزار کروڑ سے زائد کا بجٹ کا اعلان کرتی ہے پر رقم کا 30 فیصد حصہ بھی سال کے ختم تک بھی خرچ نہیں کیا گیا ۔ ریاستی وزیر اعلیٰ کے سی آر سے مسلم لیگ پرُزور مطالبہ کرتی ہے وعدوں سے ہٹ کر عملی میدان میں اقلیتوں، خاص کر مسلمانوں کے مسائل کو حل کریں ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT