Thursday , September 21 2017
Home / مضامین / یوم آزادی پر کیرالا میں موہن بھاگوت کی پرچم کشائی

یوم آزادی پر کیرالا میں موہن بھاگوت کی پرچم کشائی

 

برندا کرت
ملک کے 70 ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک کے دو کونوں میں دو واقعات ہوئے ۔ ایک واقعہ کیرالا میں اور دوسرا تریپورہ میں پیش ٓیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ مرکزی حکومت کی سیاست میں کیا غلط ہے اور یہ حکومت کس طرح کی سیاست کی نمائندہ ہے ۔
پہلے کیرالا کے واقعہ کا جائزہ لیں گے ۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے فیصلہ کرلیا کہ وہ کیرالا میں پالکڑ کے مقام پر ایک سرکاری فنڈنگ والے اسکول کی عمارت پر پرچم کشائی کرینگے ۔ اہم موقعوں پر پرچم کشائی کے تعلق سے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے کچھ اصول و قواعد ہیں جن کی پاسداری کی جاتی ہے ۔ کیرالا میں بھی متعلقہ محکمہ کی جانب سے 5 اگسٹ 2017 کو درکار احکام جاری کردئے گئے تھے کہ یوم ازادی کا تمام تعلیمی اداروں میں مناسب طور پر اہتمام ہونا چاہئے ۔ یہ کہا گیا تھا کہ قومی پرچم کشائی تعلیمی ادارے کے سربراہ کرینگے ۔ یہ احکام بالکل درست تھے اور ریاستی حکومت کا یہ حق ہے کہ وہ اس طرح کے احکام جاری کرے ۔ موہن بھاگوت اسکول کے پرنسپل نہیں ہیں ۔ موہن بھاگوت جس تنظیم کے سربراہ ہیں وہ ناگپور میں ہے لیکن بھاگوت نے اس حکمنامہ کی خلاف ورزی کا فیصلہ کیا ۔

اترپردیش میں موہن بھاگوت کے منتخب کردہ چیف منسٹر آدتیہ ناتھ کی قیادت والی حکومت نے بھی ایک سرکلر جاری کیا ۔ یہ دینی مدارس میں پرچم کشائی ‘ قومی ترانہ گانے سے متعلق ہے ۔ مدرسوںکو انتباہ دیا گیا تھا کہ ان احکام کی خلاف ورزی پر ان کے خلاف کارروائی کی جائیگی ۔ مدراس کے ذمہ داروں سے ساری کارروائی کی ویڈیو گرافی کرنے کو کہا گیا تھا تاکہ ثبوت رہ سکے ۔ جیسا کہ میڈیا میں بھی آیا کہ یہی سب کچھ یو پی کے اسکولس اور مدرسوں میں برسوں سے ہو رہا ہے لیکن آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریات سے متاثر افراد کیلئے یہ معمول کی بات ہے کہ وہ یہ ظاہر کریں کہ اقلیتی اداروں کو قومی تہوار منانے پر مجبور کیاگیا ہے ۔
اترپردیش میں جو سرکلر جاری کیا گیا اس کے پوشیدہ اغراض و مقاصد تھے ۔ کیرالا میں جو سرکلر تھا ویہ معمول کے مطابق تھا ۔ لیکن دونوں حکومتوں کو یہ پورا اختیار تھا کہ وہ اپنے اپنے سرکلر پر عمل آوری کو یقینی بنائیں۔ کیرالا میں جو سرکلر تھا وہ نہ صرف موہن بھاگوت پر بلکہ سب پر لاگو تھا ۔ اس کا مقصد کسی دوسری جگہ پر انہیں پرچم کشائی سے روکنا نہیں تھا ۔ یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ انہیں پرچم کشائی سے روک دیا گیا جیسا کہ کچھ چینلوں اور اخبارات نے پیش کیا ہے ۔ اس کیس میں موہن بھاگوت متاثرہ شخص نہیں ہیں ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آر ایس ایس کے سربراہ کیوں ناگپور سے کیرالا تک محض اس لئے آتے ہیں کہ ریاستی حکومت کے ایک رول کو توڑا جائے ۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ آر ایس ایس نے ترنگے کو قومی پرچم قرار دینے دستور ساز اسمبلی کے فیصلے کی مخالفت کی تھی ۔ آر ایس ایس کی جانب سے قومی پرچم لہرائے جانے کیلئے آزادی کے بعد 51 سال لگے وہ بھی واجپائی حکومت کے اقتدار پر آنے کے بعد۔ آزادی کے موقع پر آر ایس ایس کے ترجمان آرگنائزر میں ایک مضمون شائع کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ جو لوگ دھکہ سے اقتدار پر آگئے ہیں وہ ہمارے ہاتھوں میں ترنگا پرچم دے سکتے ہیںلیکن ہندو کبھی اس کو قبول یا اس کا احترام نہیں کرینگے ۔ 3 کا ہندسہ خود میں منحوس ہے اور تین رنگوں والا پرچم یقینی طور پر ایک نفسیاتی دباو پیدا کریگا اور یہ ملک کیلئے اچھا نہیں ہوگا ۔
آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کیرالا کے پالکڑ میں ایک اسکول پر قومی پرچم کو لہرایا ۔ آر ایس ایس نے زعفرانی پرچم کو قومی پرچم قرار دینے کے اپنے خیال کو ترک نہیں کیا ہے ۔ ایسے میں یہ قومی پرچم کی محبت نہیں تھی جو موہن بھاگوت کو کیرالا کے اسکول تک لے آئی تھی ۔ وہ کیا ثابت کرنا چاہتے تھے ؟ ۔ یہی کہ اب ان کا ایک پرچارک ملک کا وزیر اعظم بن گیا ہے اور وہ اتنے طاقتور ہوگئے ہیں کہ ایک ریاستی حکومت کے احکام کو خاطر میں لانے تیار نہیں ہیں۔ اکثر یہ جھوٹ پھیلایا جاتا ہے کہ کیرالا میں آر ایس ایس کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ اس تناظر میں موہن بھاگوت نے عمدا لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ کی حکومت کے خلاف اشتعال انگیزی کی ہے ۔ یہ ایک ریاستی حکومت کی عمدا ہتک تھی ۔

لیکن انہوں نے صرف یہی ایک رول نہیں توڑا ہے ۔ جو دوسرا رول انہوں نے توڑا ہے وہ قومی ترانے سے متعلق ہے ۔ یہ رول مرکزی حکومت کا ہے ۔ 2002 میں واجپائی حکومت نے ہندوستان کے فلیگ کوڈ کو منظوری دی تھی جس میں پرچم کشائی کے وقت کئے جانے اور نہ کئے جانے والے کاموں کی صراحت کردی گئی تھی ۔ اس وقت کئی لوگوں نے اسے غیر ضروری قرار دیا تھا لیکن یہ ملک کا قانون بن گیا ۔ اس کے تین حصے ہیں۔ دوسرے حصے میں واضح کیا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں کو کس طرح سے اہم موقعوں پرچم کشائی کی تقاریب منعقد کرنی چاہئیں۔ اس کے علاوہ کہا گیا ہے کہ پرچم کو سلامی کے بعد قومی ترانہ گایا جائیگا ۔ پریڈ کو بھی تیار رکھا جائیگا ۔ تاہم بھاگوت کی تقریب میں کیا ہوا ؟ ۔ یہ کوئی قومی ترانہ نہیں تھا بلکہ وندے ماترم گایا گیا ۔ جب یہ تقریب ختم ہوئی اور لوگ جا رہے تھے اسی وقت کسی نے یاد دہانی کروائی کہ قومی ترانہ نہیں گایا گیا ہے تب پھر سے لوگوں کو جمع کیا گیا اور تب قومی ترانہ گایا گیا ۔ تو قومی ترانے کیلئے آر ایس ایس کی یہ محبت ہے ۔ ریاستی حکومت کے قوانین کی ہتک ‘ حد درجہ ڈوغلا پن اور دوہرے معیارات ہی یوم آزادی کے موقع پر موہن بھاگوت کے کیرالا دورہ سے ظاہر ہوئے ہیں۔
تریپورہ میں ایک اور کہانی ہے ۔ یہاں ایک عوامی منتخبہ چیف منسٹر مانک سرکار کی ہتک کرنے میں مرکزی حکومت راست طور پر ملوث ہے ۔ چیف منسٹر نے حسب روایت دور درشن اور آل انڈیا ریڈیو سے نشریہ کیلئے اپنی تقریر ریکارڈ کی ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان اداروں نے چیف منسٹر کی تقریر کو سنسر کرنے کی کوشش کی ۔ جب انہوں نے ایک بھی لفظ بدلنے سے انکار کردیا تو کہا گیا کہ سی ای او پرسار بھارتی سے مشورہ کیا گیا اور مرکز کی ہدایت پر اس خطاب کو اس کی موجودہ شکل میں نشر نہیں کیا جاسکتا ۔

مانک سرکار کی تقریر سی پی ایم کے فیس بک پیج پر دستیا ہے ۔ اس میں دستوری اقدار کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ اس میں ریاستی حکومت کے اقدامات کا تذکرہ ہے اور مرکزی حکومت کی مخالف عوام پالیسیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ مودی نے کئی وعدے کئے ہیں۔ انہوں نے خود کرپٹ ہونے سے قبل تمام حکومتوں پر تنقید کی ہے ۔ یہ قابل قبول ہے ۔ لیکن اگر ایک منتخبہ چیف منسٹر اپنی حکومت کی پالیسیاں پیش کرنا چاہتا ہے تو اسے اس کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔ یہ ’ تعاون پر مبنی وفاقیت ‘ کی اصلیت ہے جس کا وزیر اعظم دعوی کرتے رہتے ہیں۔ دہلی میں بیٹھے عہدیداروں کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ ایک چیف منسٹر کے نشریہ کو روک دیں۔ واضح ہے کہ مرکزی حکومت دور درشن اور آل انڈیا ریڈیو اور پرسار بھارتی کی خود مختاری کو کنٹرول کر رہی ہے ۔ یہ تریپورہ کے عوام کی اور ریاست کے حقوق کی توہین اور ہتک ہے ۔
جب وزیر اعظم لال قلعہ کی فصیل سے جمہوریت اور بہتر حکمرانی کی بات کر رہے تھے اسی وقت اسی دن ان دونوں واقعات نے حقیقت اور فرضی منظر کشی میں فرق کو واضح کردیا ہے ۔
( برندا کرت سی پی ایم کی پولیٹ بیورو رکن اور راجیہ سبھا کی سابق رکن ہیں )

TOPPOPULARRECENT