Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / یوم سقوط حیدرآباد کے موقع پر تلنگانہ میں بی جے پی کی نفرت

یوم سقوط حیدرآباد کے موقع پر تلنگانہ میں بی جے پی کی نفرت

حیدرآباد۔18ستمبر(سیاست نیوز) پولیس ایکشن یادگار کمیٹی کے زیر اہتمام جلسہ یومِ شہدائے پولیس ایکشن کا اُردو گھر مغل پورہ میںمنعقد ہوا۔ جناب عبدالستا ر مجاہد نے کی نگرانی کی۔ جہدکار ڈاکٹر کولیوری چرنجیوی ‘  جناب عثمان شہید اورمولوی علائو الدین انصاری ایڈوکیٹس نے خطاب کیا۔ ڈاکٹر چرنجیوی نے پولیس ایکشن کے نام پر ملٹر ی کے ذریعہ مسلمانوں کے قتل عام کو یاد کرنے کا بی جے پی کو مشورہ دیتے ہوئے تلنگانہ میں 17ستمبر کو یوم نجات منانے اور تلنگانہ کی پرامن فضاء کو مکدر کرنے سے باز رہنے کامشورہ دیا۔ ڈاکٹر چرنجیوی نے کہاکہ سیاست فائدہ کے لئے بی جے پی تلنگانہ میں سقوط حیدرآباد کے دن نفرت پھیلانے کی کوشش کررہی ہے۔ انھوں نے چند دستاویزی ثبوت پیش کرتے ہوئے بی جے پی قائدین سے سوال کیاکہ آیا آصف جاہ صابع اگر فرقہ پرست ہوتے یا پھر ریاست حیدرآباد آصف جاہیوں سے جبراً حاصل کی جاتی تو آصف جاہ سابع کو انڈین یونین میںشامل ریاست حیدرآباد کاراج پرمکھ کس طرح مقرر کیاجاتا۔ انہوں نے حکومت تلنگانہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ سقوط حیدرآباد کے متعلق بی جے پی اور دیگر فرقہ پرست تنظیموں کی سرگرمیو ں پر کنٹرول کریں۔ سینئر ایڈوکیٹ ہائی کورٹ جناب عثمان شہید نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ انگریزی ذرائع ابلاغ عین سقوط حیدرآباد کے دن ہی جھوٹ پر مبنی آرٹیکل کے ذریعہ دیگر ابنائے وطن کے دلوں میں ریاست حیدرآباد کے مسلم حکمرانوں کے متعلق نفرت بھرنے کاکام کررہے ہیں۔ انہوں نے ایک انگریزی اخبار میںشائع مضمون کے حوالے سے بتایاکہ رضاکاروں کو ظالم قراردینے والا یہ اخبارپولیس ایکشن کے نام پرتین لاکھ مسلمانوں کو شہید کردینے کے واقعات اپنے اخبار میںکیو ں رقم نہیں کرتا۔ جناب عثمان شہید نے کہاکہ ایسے انگریزی اخبار مسلمانوں کی پاکستان مخالفت کو اپنے کالموں میںجگہ کیوں فراہم نہیں کرتے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ سقوط حیدرآباد کے بعد جن حالات کا مسلمانوں نے سامنا کیاہے ان کا یہ اخبار کیوں ذکر نہیں کرتے۔ جناب عثمان شہید نے تاریخ کے حوالے سے بتایا کہ مسلمانوں کے ساتھ تعصب کوئی نئی بات نہیںہے مگرذرائع ابلاغ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ امن وفرقہ وارانہ یکجہتی کو فروغ دینے کاکام کرے۔ جناب عبدالستار مجاہد نے پنڈت سندر لال پٹوا کمیٹی کو منظر عام پر لانے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ آزادی کے بعد چھ سو سے زائد شاہی ریاستیں تھیںجن کو انڈین یونین میں شامل کیا گیا۔ مولوی علائو الدین انصاری نے ماضی کے حالات کا جائزہ لینے والی قوموں کے بہتر مستقبل کی ضمانت دی۔

TOPPOPULARRECENT