Wednesday , August 16 2017
Home / مذہبی صفحہ / یوم محبت …ویلنٹائن ڈے

یوم محبت …ویلنٹائن ڈے

مفتی سید صادق محی الدین فہیمؔ

اللہ سبحانہ نے زندگی گزارنے کا ایک پاکیزہ طریقہ انسانیت کو دیا ہے،جسمانی پاکیزگی کے ساتھ روحانی پاکیزگی کی بھی وہ تعلیم دیتاہے ،انسان کا ظاہربھی پاک ہواورباطن بھی ،جسم بھی پاک ہو اور لباس بھی ،معاشی نظام بھی پاک ہواورمعاشرت بھی ۔معاشرت کی پاکی کیلئے جوقوانین اسلام نے دیئے ہیں ان میں مردوعورت کے صنفی تعلق کی پاکی کیلئے نکاح کا جائزراستہ بتایا ہے۔انسان کو اللہ سبحانہ نے جہاں انگنت نعمتوں سے نوازاہے وہیں ان نعمتوں کے استعمال کی جائزراہ بھی دکھائی ہے ،انسان کو بہت سی قوتیں بخشی گئی ہیں،ان قوتوں میں ایک قوت قوائے شہوانی بھی ہے۔نکاح کے ذریعہ اس قوت کا استعمال ایک عظیم مقصد کیلئے رکھا گیاہے،جس سے ایک خاندانی نظام کی بنیاد قائم ہوتی ہے اور جس سے نسل انسانی کا تحفظ ہوتاہے ،اس پاکیزہ قوت کو غلط راستے پر لے جانے سے انسانوں کو بچانے کیلئے اللہ سبحانہ نے انسانوںکے اندر’’حیاء ‘‘کی صفت رکھی ہے۔اوراس صفت حیاء کو ایمان کا ایک اہم شعبہ قراردیاہے ،اسلام میں حیاء کا تصوربہت اعلی اوربڑاوسیع ہے ،جوانسانی زندگی کے سارے شعبوں کو محیط ہے ،یعنی اللہ سبحانہ نے انسانوں کو جواحکامات دیئے ہیں ان کے آگے سرتسلیم خم کیا جائے اورپوری بشاشت قلبی کے ساتھ ان احکامات کی تعمیل کی جائے ۔جن چیزوں کے کرنے کا حکم دیا گیاہے ان کوبجالایا جائے اورجن سے منع کردیاگیاہے ان سے سخت اجتناب کیا جائے،حیاء کے وسیع تصور میں ایک یہ بھی ہے کہ صنفی تقاضوں کی تکمیل میں اللہ کے فطری نظام قانون کی پابندی کی جائے ،اسلام نے نکاح کاقانون بنایاہے ،دیگراورمذاہب کے ماننے والے بھی اس فطری تقاضے کی تکمیل کیلئے شادی بیاہ کوضروری مانتے ہیں۔اس کے بغیرایک مرد وعورت کا ایک ساتھ زندگی گزارنا ان کے ہا ں بھی رائج نہیں۔ ایک اچھا معاشرہ اس کو ’’بے حیائی‘‘ سے تعبیر کرتاہے ۔

انسانی معاشرہ دھیرے دھیرے خدابیزاری کی طرف بڑھنے لگاہے اورانسانوں نے مذہبی پابندی کا لبادہ آہستہ آہستہ اتارنا شروع کردیا۔جس کی وجہ معاشرہ میں بے حیائی کو فروغ ملتا جارہا ہے ۔’’یوم محبت ‘‘( ویلنٹائن ڈے)بے حیائی کے پروگرام ہی کا ایک حصہ ہے ۔اس کے تاریخی پس منظر میں بہت سے واقعات بتائے جاتے ہیں ،جومتضاداورمختلف ہیں ،کہا جاتاہے ’’کہ قدیم رومی سماج میں ایک تہوارمنایا جاتا تھا جس کا نام’’ لوپرکالیا‘‘تھا اس دن لڑکے اپنی گرل فریڈکانام اپنے قمیص کے آستین پر لکھ لیا کرتے تھے ان کے درمیان بطور تحفہ گلاب کے پھولوں کا تبادلہ بھی ہواکرتاتھا،بعد ازاں یہی تہوار’سینٹ ویلنٹا ئن‘کے نام سے منسوب کیا گیاجو اپنی رفیق زندگی کی تلاش میں تھا۔اس نسبت سے اس دن کو ان افرادکیلئے خاص کردیاگیاجواپنے لئے رفیق زندگی یا رفیقہ زندگی کے متلاشی رہے ہیں ،ایک ایسی دوشیزہ کی طرف بھی اس دن کی نسبت کی جاتی ہے جس نے سونے سے قبل اپنے تکیہ کے ساتھ پانچ پتے ٹاکے اس کا یہ احساس تھا کہ ایساکرنے سے وہ خواب میں اپنے ہونے والے شوہرکا دیدارکرسکے گی ،یہ بات بھی مشہورہے کہ ویلنٹائن نامی ایک راہب تھا اوروہ ایک راہبہ کی دام محبت میں گرفتارتھا ،عیسائی نقطہ نظر سے چونکہ راہبائوں کیلئے نکاح کرنا جائزنہیں ۔اس لئے اس نے ایک جھوٹی کہانی گھڑی اوراپنی محبوبہ کو بتایاکہ اس کو خواب میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ ۱۴ فروری کے دن اگرکوئی راہب وراہبہ صنفی تعلق قائم کرلیتے ہیں تووہ گناہ کا کام نہیں ہوگا،چنانچہ راہبہ نے اس کی بات پر یقین کرکے راہب کی عملی تصدیق کردی ۔عیسائی دستورکے مطابق رہبانیت کی دھجیاں اڑانے کی پاداش میں ان کا قتل کردیا گیا،نفس وشیطان کے دام تزویرمیں پھنسے کچھ نوجوانوں نے ان دونوں کو شہید محبت کا درجہ دیدیا،اوران کی یاد میں اس دن کو تہوارکے طورپر منانا شروع کردیا‘‘۔ ( ملخص :۔ویلنٹائن ڈے :۔محمد عطاء اللہ صدیقی)

ایک واقعہ یوں بھی مشہورہے کہ تیسری صدی عیسوی کی اواخرمیں رومانی بادشاہ کلاڈیس ثانی کی حکومت تھی ،کسی جرم کی پا داش میں بادشاہ نے ایک پادری کو جیل کی سلاخوں میں      بند کردیا،اس پادری کا جیل خانہ میں چوکیدارکی لڑکی سے معاشقہ ہوگیا،وہ لڑکی بھی اس کے دام عشق میں گرفتارہوئی جب بھی اس کے ہاں آتی سرخ رنگ کا گلاب تحفۃً لے آتی۔بادشاد کو اس کا پتہ چل گیااس نے یکے بعد دیگرے دونوں کو تختہ دارپر چڑھادیا ،یورپ کے بہت سے علاقوں میں اس دن کو یوم محبت کے عنوان سے منایا جانے لگا۔جس میں لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کو مبارک بادی کے کارڈس پھول اور تحائف دیتے ہیں ۔

ان واقعات کی تصدیق یا تحقیق مقصود نہیں ہے ،ان واقعات کے پس منظرمیں آج پوری دنیا جو’’یوم محبت ‘‘کی لپیٹ میں ہے ،اور ۱۴ فروری کو بڑے زوروشور کے ساتھ اس کا اہتمام ہورہا ہے۔جس میں فواحش ومنکرات کوشامل کرلیا گیاہے، شراب نوشی ،رقص وسرودکی محفلیں سجائی جاتی ہیں ، حیا ء وآبرو کی چادراتار کر بے حیائی وبے شرمی کے چلن کو فروغ دیا جارہا ہے۔انسانیت وشرافت کی ساری حدیں توڑی جارہی ہیں ،الغرض’’ یوم محبت‘‘ کے عنوان سے وہ کچھ کیا جارہا ہے جوانسانیت اورشرافت کو داغدارکررہا ہے ،اوراقوام وملل کے افراد غیرانسانی وغیرفطری ،بے حیائی سے آلودہ سیلاب میں بہہ رہے ہوں تو اسکا زیادہ افسو س نہیں۔ لیکن اگرایمان واسلام کی نعمت سے مشرف ایمانی ،اخلاقی ،معاشرتی پاکی ،حیاء کی پاسداربے حیائی پر نکیر کرنے کی امین امت مسلمہ کے اگرکچھ نوجوان یوم محبت کے دلدل میں پھنس جاتے ہیں تویہ خون کی آنسو رونے کا مقام ہے۔ ،اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے ’’ جولوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے متمنی رہتے ہیں ان کے لئے دنیا وآخرت میں درد نا ک عذاب ہے ‘‘(النور۱۹) ۔
معاشرہ میں بے حیائی کے کاموں کو فروغ دینے پر سخت وعید وارد ہے ۔اوراگرکوئی بے حیائی کو پھیلانے اور اس کی ترویج واشاعت میں حصہ داربنے توظاہر ہے وہ اس سخت وعید کا مستحق ہے۔ اسلام نے تو غیراقوام سے ہرطرح کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا ہے۔حضرت نبی پا ک ﷺ کا ارشاد ہے ’’ جو کوئی کسی اورقوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے ‘‘۔ (سنن ابوداؤد) اس حدیث پا ک کی روسے اوراقوام سے اقوال  وافعال میں،لباس و پہناوے میں عبادات واعیاد میں معاشرت وطرز زندگی میں مشابہت اختیارکرنا سخت منع ہے ۔
ایسے تہوار یا ایسے پروگرام جس میں کفروشرک کے اعمال اختیار کئے جاتے ہوںیا بے دینی وبے حیائی کی اشاعت ہوتی ہو ان میں شرکت کرنا یا کسی بھی طرح کی اس میں اپنی حصہ داری اداکرنا اسلامی نقطہ نظر سے ناجائز وحرام ہے۔کفروشرک کے مخصوص شعائرگمراہ طبقات کے طورطریق بے حیائی وبے شرمی کے سارے عوامل سے دامن بچانا ملت اسلامیہ کا فریضہ ہے۔
اسلام کے دامن میں قرآن وحدیث اوراسوئہ رسول اکرم ﷺ کی شکل میں وہ قیمتی خزانے محفوظ ہیں جو ملت اسلامیہ کی ہر ضرورت کو پوراکرسکتے ہیں ،اسلام نے ایک ایسا معتدل ومتوازن دستور وقانو ن دیاہے جو فطرت کے عین مطابق ہے ،اس لئے امت مسلمہ کو کسی اورکی طرف جھانکنے کی ضرورت نہیں ہے، رنج وغم کے مواقع ہو ں کہ خوشی ومسرت کے اسلام نے مسلمانوں کوہر طرح بے نیاز رکھا ہے ،ان کو کسی اورسے بھیک مانگنے یا کسی کے آگے اپنا دامن پسارنے کا محتاج نہیں رکھا ۔معاشرہ میں جو کچھ خرابیا ں اس وقت رونما ہیں نیز بد عات وخرافات،رسوم ورواج نے کچھ اس طرح اپنا سائبان تانا ہے کہ جس سے اسلامی حقائق اوراسلامی افکار واقدار ماند پڑتے نظرآرہے ہیں ،اسلام کی عظمت کا حقیقی ادراک وشعور ہی اسلامی حقائق پر چھائے ہوئے دھندلکے کو دور کرسکتا ہے ۔

ہندوستان مشرقی تہذیب کا علم برداررہا ہے،اس لئے بلا لحاظ مذہب وملت ہندوستان کا ہر باسی جوانسانیت وشرافت ،حیاء واخلاق پر یقین رکھتاہے وہ’’ یوم محبت‘‘ کے عنوان سے پھیلائی جانے والی اخلاقی گندگی کو کسی حال میں پسند نہیں کرتا،برائی ہرحال میں برائی ہے۔اس لئے سب کویک جٹ ہو کراس برائی کے خلاف صف آراہونا چاہیئے اورمشرقی تہذیب کو داغدارہونے سے بچانے کی بھرپورکوشش کرنی چاہیئے۔

TOPPOPULARRECENT