Wednesday , April 26 2017
Home / شہر کی خبریں / یونانی طریقہ علاج کو فروغ دینے مرکزی و ریاستی حکومتیں سنجیدہ

یونانی طریقہ علاج کو فروغ دینے مرکزی و ریاستی حکومتیں سنجیدہ

یونا۔ کان کا انعقاد، ڈاکٹر میر یوسف علی و دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔8 اپریل (سیاست نیوز) ممتاز ماہر حکیم و طبیب محمد عبدالرزاق نے اپنی ساری زندگی خدمت خلق میں صرف کردی، جنہوں نے مختلف کہنہ امراض سے انسانیت کو نجات دلوانے کیلئے تحقیقی امور انجام دیئے۔ آج ضرورت اس بات کی ہیکہ یونانی جو قدیم طریقہ علاج ہے، اس کو بعض گوشوں سے بدنام کرنے کی سعی و جہد کی جارہی ہے۔ اسے ناکام بنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے آج حکیم محمد عبدالرزاق مرحوم کی 25 ویں برسی کے موقع پر یہ بات کہی۔ یہ تعزیتی اجلاس میڈیا پلس آڈیٹوریم، فورتھ فلور، روبرو اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد جامعہ نظامیہ کامپلکس گن فاؤنڈری (عابڈز) میں منعقد ہوا۔ اس جلسہ میں شہر کے ڈاکٹرس و حکماء اور بی یو ایم ایس کے طلباء و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ نامور حکیم محمد عبدالرزاق مرحوم کی یاد میں منائے جانے والے یونا۔کان 2017ء کا اہتمام یونانی میڈیکل اسوسی ایشن نے کیا۔ ڈاکٹر لطف علی صدیقی کی قرأت کلام پاک اور ڈاکٹر عمر علی فاروقی کی نعت شریف سے اجلاس کا آغاز ہوا۔ ڈاکٹر میر یوسف علی ایڈیشنل ڈائرکٹر یونانی نے کہا کہ موجودہ دور میں طب یونانی کو فروغ حاصل ہورہا ہے اور اس کا یہ پرچم اقطاع عالم میں لہرائے گا۔ انہوں نے حکیم محمد عبدالرزاق مرحوم کے حق میں دعائے مغفرت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے نامور حکماء نے اپنی محنت شاقہ کے ذریعہ اپنا کام انجام دے دیا۔ اب ہماری ذمہ داری ہیکہ اس ملک میں حکومت نے اس یونانی نظام کو متحرک کرنے کا منصوبہ بنائی ہے۔ اس کا ساتھ دیا جائے۔ اس لئے مرکزی اور ریاستی حکومت اس بات پر اٹل ہیکہ یونانی طریقہ علاج کو فروغ دیا جائے۔ ڈاکٹر ثمینہ بیگم نے کہا کہ یونانی طریقہ علاج ہر حیثیت سے مقبول ہوتے جارہا ہے۔ اس لئے اس کے استعمال کیلئے عوام کی توجہات کو مبذول کروانا ضروری ہے۔ ڈاکٹر مسعود وکیل قریشی نے کہا کہ اس طریقہ علاج کے ذریعہ ماڈرن ٹیکنالوجی کے ذریعہ جوڑا جائے تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ ڈاکٹر حامد اللہ قادری، حکیم خواجہ بدرالدین قادری اور ڈاکٹر شکیب نے بھی مخاطب کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر اطہر معین، ڈاکٹر نظام الدین، جناب سہیل عبدالرزاق فرزند حکیم محمد عبدالرزاق مرحوم، حکیم غلام محی الدین، حکیم قدسیہ، ڈاکٹر توحید احمد، ڈاکٹر نجیب، ڈاکٹر فضل احمد، ڈاکٹر سراج الحق، ڈاکٹر وجیہ تکمیلی، ڈاکٹر بہاؤالدین انصاری، ڈاکٹر صدر الدین شاہد، ڈاکٹر انواراللہ، مولانا سید یداللہ، ڈاکٹر پروین، پروین سلطانہ اور دیگر کی کثیر تعداد موجود تھی۔ ڈاکٹر شائستہ رحمن نے شکریہ ادا کیا۔
یہ نئی کتاب کو عثمانیہ یونیورسٹی صد سالہ تقریب موقع پر یونیورسٹی کے نام موسوم کیا گیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT