Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / یونس یافعی کا ریوالور2009 سے مئی 2011تک ڈپازٹ تھا

یونس یافعی کا ریوالور2009 سے مئی 2011تک ڈپازٹ تھا

حملہ کے بعد پولیس کو اسلحہ کے محفوظ رہنے کی اطلاع دی گئی تھی‘ اکبراویسی کیس میں گواہ کا بیان
حیدرآباد ۔ 29 اگسٹ ۔ ( سیاست نیوز) اکبرالدین اویسی حملہ کیس کی سماعت کے دوران آج ایک اور اسلحہ و گولہ بارود ڈیلر نے عدالت میں اپنا بیان قلمبند کروایا ۔ معین آرمری کے مالک مسٹر خواجہ بہاء الدین نے اپنے بیان میں بتایا کہ حملہ کیس کے ملزم نمبر 3 حسن بن عمر یافعی کا لائیسنس یافتہ ریوالور 31 ڈسمبر سال 2009 ء میں اُن کی دوکان میں جمع کیا گیا تھا اور 2 مئی 2011 ء تک اُن کے پاس موجود تھا ۔ مسٹر بہاء الدین نے بتایا کہ حملے کے بعد اُنھوں نے حسن بن عمر یافعی کے ہتھیار ڈپازٹ ہونے کی اطلاع متعلقہ پولیس کو دی جس کے نتیجہ میں پولیس نے اُن کی دوکان کے رجسٹر کی نقل حاصل کی اور بعد ازاں رجسٹر عدالت میں بھی پیش کیا گیا ۔ اسپیشل پبلک پراسکیوٹر مسٹر اوما مہیشور راؤ کی جراح کے دوران مذکورہ گواہ نے یہ تفصیلات بتائی۔ وکیل دفاع ایڈوکیٹ گرو مورتی نے گواہ پر جراح کے دوران پوچھا کہ اسلحہ و گولہ بارود دوکان میں کس قسم کا ریکارڈ رکھاجاتا ہے؟ جس کے جواب میں گواہ نے بتایا کہ کاروباری رجسٹر میں لائیسنس رینیول ، لائیسنس نمبر ڈپازٹ کرنے والے کے دستخط وغیرہ موجود ہوتی ہیں ۔ مزید سوالات کئے جانے پر انھوں نے بتایا کہ سال 1994 میں اسلحہ و گولہ بارود کے کاروبار میں قدم رکھا اور یہ اُن کے آباء و اجداد کا کاروبار ہے ۔ جراح کے دوران یہ بھی بتایا کہ ریوالوار اور بندوق میں کافی فرق ہوتا ہے ، چونکہ ریوالور میں کارتوس رکھنے کا باکس موجود ہوتا ہے ۔ کل گواہ نمبر 28 عینی شاہد باوزیر کا بیان قلمبند کیا جائیگا۔

TOPPOPULARRECENT