Wednesday , July 26 2017
Home / Top Stories / یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں میں تشدد و غلبہ سے آزاد ماحول ضروری

یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں میں تشدد و غلبہ سے آزاد ماحول ضروری

دہشت گردی کی لعنت سے نمٹنے کیلئے ساری دنیا موثر حکمت عملی اختیار کرے ،صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کا خطاب

نالندہ ۔ /19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں میں آزادانہ ماحول ضروری ہے جہاں تشدد ، ظلم یا کسی کی مرضی مسلط نہ کئے جائے تاکہ تعلیمی سفر عمدگی سے جاری رہے ۔ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے انٹرنیشنل بدھسٹ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ قدیم تعلیمی مراکز نالندہ ، ٹیکسیلا اور وکرم شیلا نے طلباء اور اساتذہ کی شکل میں دنیا بھر سے کئی ذہنوں کو اپنی طرف راغب کیا ہے ۔ یہ صرف سیکھنے کے مراکز نہیں تھے بلکہ یہاں تہذیب و تمدن کا بھی درس دیا جاتا تھا ۔ یہ چار مشہور تہذیبوں ہند ، فارسی ، یونان اور چین کا مرکز تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ان یونیورسٹیز میں کھلے ذہن کے ساتھ تعلیم کے مواقع فراہم کئے جاتے تھے اور مذاکرات کی پوری آزادی تھی ۔ اچاریہ اور اپادھیائے سوالات کیلئے طلباء کی حوصلہ افزائی کرتے ۔ اگر یونیورسٹیز میں آزاد ماحول نہ ہو تو پھر ہم اپنے طلباء کو کس طرح کا سبق سکھا پائیں گے ۔ تعلیم کا مطلب ذہن کی ترقی ہے اور اساتذہ و طلباء کے مابین مسلسل مشاورت ہونی چاہئیے ۔ اس کے لئے ایک سازگار ماحول ضروری ہے جہاں تشدد ، ظلم ، غم و غصہ نہ ہو اور کوئی اپنی مرضی دوسرے پر مسلط نہ کریں ۔ دہشت گردی کا حوالہ دیتے ہوئے صدرجمہوریہ نے کہا کہ یہ صرف ایک کارروائی نہیں بلکہ ذہنی سوچ کا بھی نام ہے جو ایک مخصوص ذہنیت کا اظہار کرتی ہے ۔

لہذا تمام ممالک کو چاہئیے کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ دہشت گردی کی لعنت سے کس طرح نمٹا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بحران تیزی سے پھیل چکا ہے ۔ یہ صرف عوام کو ہلاک یا زخمی کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس سے اقدار ، قدیم ورثے اور صدیوں کے اثاثے تباہ ہورہے ہیں ۔ ان کا اشارہ افغانستان میں طالبان کی جانب سے بدھ مت کے قدیم آثار کو تباہ کرنے کی طرف تھا ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ آج دنیا کا کوئی بھی حصہ تشدد سے پاک نہیں ہے ۔ لہذا ایسے دور میں بدھ مت کا فلسفہ امن کیلئے اہمیت رکھتا ہے ۔ صدرجمہوریہ نے کہا کہ بادشاہ اشوک کو تاریخ میں جنگجو اشوک کے مقابلے ایک ہمدرد بادشاہ سے یاد کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اگر تاریخ پر چنگیز خان یا تیمور کا غلبہ نہیں تھا تو پھر موجودہ تاریخ پر بھی ہٹلر کے نیلے شرٹ ، اٹلی کے ڈکٹیٹر مسولینی کے سیاہ شرٹ یا پھر سویت یونین کے اسٹالین کے سرخ شرٹ کا غلبہ نہیں رہے گا بلکہ تاریخ پر اگر کسی کا غلبہ ہوگا تو وہ ایسا شخص ہے جس نے کوئی شرٹ نہیں پہنا یعنی وہ موہن داس کرم چند گاندھی ہیں ۔ چیف منسٹر  بہار نتیش کمار نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوتم بدھ کی تعلیمات موجودہ دور میں افادیت رکھتی ہیں ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT