Saturday , October 21 2017
Home / Top Stories / یونیورسٹیز میں ریسرچ کیلئے سازگار ماحول بنانے پر زور

یونیورسٹیز میں ریسرچ کیلئے سازگار ماحول بنانے پر زور

کسی ڈٹرجنٹ کی فروخت کیلئے آئی آئی ٹی ماہر کو ضائع نہ کیا جائے ۔ صدر جمہوریہ کا خطاب

نئی دہلی 13 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے آج طلبا پر زور دیا کہ وہ اعلی تعلیمی اداروں میں ریسرچ پر زیادہ توجہ دیں۔ انہوں نے تعلیمی شعبہ میں سازگار ماحول کے فقدان پر سوال کیا اور کہا کہ اس کے نتیجہ میں بہترین صلاحیتوں کے حامل افراد اہمیت کا حامل ریسرچ کرنے کی بجائے معمول کے روزگار حاصل کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ پرنب مکرجی نے طلبا پر زور دیا کہ وہ تحقیق کے جذبہ کو پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ علم ہی اس دور کا نظم بننے والا ہے ۔ صدر جمہوریہ نے راشٹرپتی بھون کے یلو ڈرائنگ روم میں منتخب افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں بہترین آئی آئی ٹیز ‘ این آئی ٹیز ‘ مینجمنٹ ڈیولپمنٹ ادارے وغیرہ ہیں جہاں کیمپس رکروٹمنٹ کی شرح بہت اچھی ہے ۔ یہ شرح تقریبا 100 فیصد ہے اور ان کالجس کے کئی گریجویٹس عالمی معیار کے ادارے دنیا بھر میں چلا رہے ہیں۔ یہ ہمارے اداروں کی بہترین مثال ہے اور اس سے انہیں خوشی ہوتی ہے ۔ یہ تقریب رامجاس کلاج کی صدی تقاریب کے اختتام پر منعقد ہوئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر افسوس بھی ہے کہ کوئی بھی ہندوستانی اسکالر جو ہندوستانی یونیورسٹی میں کام کر رہا ہے اس نے 1930 کے عد سے کوئی نوبل انعام حاصل نہیں کیا ہے ۔ سر سی وی رمن کو یہ ایوارڈ حاصل کئے 80 سال ہوگئے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال ہے کہ شائد ہم وہ سازگار ماحول پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں جو ریسرچ کے شعبہ کیلئے ضروری ہے ۔ صدر جمہوریہ نے صدی تقاریب پر ایک یادگار ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ ایک مارکٹنگ کمپنی کی اشیا کو فروغ دینا ایک اچھاکام ہے لیکن ایک ڈٹرجنٹ کی فروخت کو فروغ دینے کیلئے کسی آئی آئی ٹی گریجویٹ کی صلاحیتیں ضروری نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ طلبا اپنا وقت اور توانائی ریسرچ کرنے پر صرف کرتے تو پھر ہمارے ملک کو اس سے بہت فائدہ ہوتا لیکن ہم کو صرف طلبا اور گریجویٹس پر بوجھ عائد نہیں کردینا چاہئے ۔ ملک میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ہے تاہم ہم کو ایسا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو ریسرچ کیلئے سازگار ہو اگر ہم چاہتے ہیں کہ صلاحیت والے افراد یہ کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ہمیں اچھا اور سازگار ماحول پیدا کرنا چاہئے وہیں طلبا ‘ فیکلٹی اور منتظمین سب کو مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ صدر جمہوریہ نے عالمی سطح پر رینکنگ رکھنے والی 200 یونیورسٹیز کا تذکرہ بھی کیا اور کہا کہ ان میں گذشتہ دو سال پہلے تک کوئی ہندوستانی یونیورسٹی نہیں تھی بعد ازاں صرف دو یونیورسٹیز اس میں جگہ بناسکی ہیں ۔ ان جامعات کو بھی فہرست میں سب سے نیچے یہ مقام مل سکا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT