Saturday , June 24 2017
Home / مضامین / یونیورسٹیز کی طلبہ برادری میں نظریاتی اختلافات

یونیورسٹیز کی طلبہ برادری میں نظریاتی اختلافات

غضنفر علی خان

ملک کی نہایت باوقار جامعات (یونیورسٹیز) کے طلبہ وطالبات ان دونوں نظریاتی طور پر دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ دہلی یونیورسٹی ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، جامعہ ملیہ کے علاوہ کلکتہ کی ایک اور مشہور جامعہ کے طلبہ و طالبات اس بات پر غم و غصہ کا شکار ہوگئے ہیں کہ بی جے پی کا اسٹوڈنٹس ونگ اے بی وی پی (اکھیل بھارتیہ ودیارتھی پریشد) ساری طلبہ برادری پر اپنی فکر اور سوچ مسلط کرنا چاہتا ہے ۔ اے بی وی پی دراصل آر ایس ایس ہی کی دین ہے جس کے تنگ و تاریک نظریات سے سبھی واقف ہیں۔ آج کل دہلی یونیورسٹی کے ملحقہ ایک کالج کی طالبہ گر مہر کور کا چرچہ عام ہے۔ یہ 20 سالہ لڑکی دراصل ہمارے سابقہ فوجی جو 1999 ء میں دہشت پسندوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے کی صاحبزادی ہیں ۔ ان کے کالج میں کسی سمینار میں طلبہ نے کچھ لوگوں کو مدعو کیا تھا ۔ یونیورسٹی میں اے بی وی پی کا بھی وجود ہے ۔ اس گروپ نے ان مدعوئین پر اعترا ض کرتے ہوئے پرتشدد احتجاج کیا تھا جس کی مخالفت کرتے ہوئے گرمہر کور نے ٹوئیٹ کیا تھا کہ وہ ایک سابقہ فوجی عہدیدار کی بیٹی ہیں۔ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ ان کے والد کو پاکستان نے نہیں بلکہ ہند و پاک مسلح جھڑپ نے مارا ہے ۔ اب ان کے اس خیال میں بھی اکھیل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کو وطن دشمنی نظر آئی ۔ گرمہر سنگھ نے اے بی وی پی کے نظریہ کی مخالفت کی اور دیکھتے ہی دیکھتے سارے کیمپس میں احتجاج کا ماحول گرم ہوگیا ۔ احتجاج تو صرف دہلی یونیورسٹی کا تھا لیکن طلبہ برادری نے اس سے اظہار یگانگت کے لئے دوسری یونیورسٹیز میں بھی احتجاج کیا ۔ چند ہی دنوں میں طلبہ دو گروپس میں تقسیم ہوگئے ۔ ایک وہ گروپ ہے جو اے بی وی پی کا حامی ہے اور دوسرا وہ جو ملک میں شخصی آزادیٔ خیال اور ترقی پسند خیالات کی تائید کرتا ہے۔ بی جے پی نے اس احتجاج کو دبانے کیلئے فوراً پولیس کا سہارا لیا ۔

یہ صحیح ہے کہ تادمِ تحریر پولیس نے طلبہ کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کیا لیکن جس جوش اور ولولہ کے ساتھ طلبہ احتجاج کر رہے ہیں۔ اس سے یہ اندیشہ پیدا ہوگیا ہے کہ پولیس (جو بی جے پی حکومت کے کنٹرول میں ہے) طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرے گی ۔ طلبہ بھی اپنا احتجاج پرامن طریقہ سے کر رہے ہیں لیکن دونوں متصادم گروپس میں بے اعتمادی کی بارود بچھی ہوئی ہے جو معمولی سے چنگاری کے بعد خطرناک آگ میں تبدیل ہوسکتی ہے ۔ طلبہ کا پروگریسیو ونگ صاف ستھرے ذہن کا حامل ہے ۔ ان طلبہ کا یہ کہنا ہے کہ اے پی وی پی ان کی فکر ی آزادی ختم کرنا چاہتی ہے ۔ یہ خیال غلط نہیں ہے بلکہ صد فیصد درست ہے ۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کے حامی اے بی وی پی اپنے افکار ساری طلبہ برادری پر مسلط کرنا چاہتی ہے ۔ فکر و خیال کی آزادی کے حامی طلبہ اس کو برداشت کرنا نہیں چاہتے ۔ صاف طور پر ہماری یونیورسٹیز کے طلبہ دو متصادم گروپس  میں بٹ گئے ہیں جو ہماری خصوصی یکجہتی اور ہمارے سیکولر  ڈھانچہ کے لئے زہر قاتل ثابت ہوگی ۔ اصل بات تو یہ ہے کہ طلبہ برادری کی بڑی تعداد آر ایس ایس اور بی جے پی یا وسیع تر معنوں میں ہندوتوا کے نظریات کی تائید نہیں کرتی۔ اس پس منظر میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ انتہا پسندی کو کسی بھی صورت میں ہمارے ملک کے طلبہ اور نوجوان ناپسند کرتے ہیں ۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کیلئے یہ بہت بری علامت ہے ۔ ہمارا مستقبل اسی نسل کے ہاتھ میں ہے جو وسیع النظری ، رواداری اور پرامن بقائے باہم Peaceful Coexistance کی علمبردار ہے کیونکہ نئی نسل ہر قسم کی دقیانوسی فکر کی مخالف ہے ۔ اس کا اظہار ہماری یونیورسٹیوں میں آج کل جاری اس نظریاتی تصادم سے بھی ہوتا ہے ۔ اے بی وی پی کی فکر کو علحدہ برادری مسترد کرتی دکھائی دیتی ہے ۔ یہ نسل ایک درخشاں مستقبل ایک خوشحال زندگی کیلئے آج ان درسگاہوں میں تعلیم حاصل کر رہی ہے ۔ کل یہی ہمارے طلبہ ملک کی قیادت کریں گے جو مسجد مندر کی سیاست نہیں چاہتے جنہیں اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ کونسا ہندوستانی باشندہ ٹوپی کُرتا پائجامہ پہنتا ہے ۔ کونسا گوشت کھاتا ہے ۔ کس مندر میں پوجا کرتا ہے یا کس مسجد میں سر بسجود ہوتا ہے۔ اب بی جے پی اور اکھیل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے پرجوش حامیوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ان کی مایوسی کن فکر ازکار رفتہ ہوگئی ہے ، انہیں اگر اللہ کی زمین پر رہنا ہے تو اپنی فکر بدلنا پڑے گا ۔ دنیا میں صرف وہی قومیں زندہ رہ سکتی ہیں جو اپنی فکر کو (مذہبی عقیدے کو چھو ڑ کر) تغیر پسند بناتی ہیں۔ نئی نسل وہی ہے جو آج اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہی ہے ۔ یہ وہی نسل ہے جو آج دہلی یونیور سٹی ، جواہر لال یونیورسٹی ، جامعہ ملیہ اور ایسی کئی جامعات میں زیر تعلیم ہے ۔ ان کی ذہنیت ہندوتوا تحریک کے اثرات کو قبول کرنے تیار نہیں ہے ۔ البتہ ہمارے طلبہ کے اس احتجاج میں سیاسی پارٹیوں کی بیجا مداخلت نہیں ہونی چاہئے، حالانکہ اس سچائی کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ سیاسی جماعتیں یونیورسٹیوں کے روز مرہ کے معاملات میں مداخلت کرتی ہیں۔ روہت کی خودکشی سے لیکر (حیدرآباد) دہلی یونیو رسٹی کے طالبعلم نجیب کا اغواء اور ہنوز اس کے لاپتہ ہونے کا واقعہ ہی کیا سینکڑوں دیگر مثالیں بھی دی جا سکتی ہیں جن سے سیاسی پارٹیوں کی مداخلت کے جاری رہنے اور ان سے جامعات کا ماحول پراگندہ ہونے کا کھلا ثبوت ملتا ہے ۔ آج جو احتجاج یونیورسٹیوں میں ہورہا ہے ، اس کو اگر غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیا جائے تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ طلبہ پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا جانا چاہئے۔ ان کے خلاف طاقت کا استعمال قطعی نہیں کیا جانا چاہئے ۔ اگر اس قسم کی غلطی مودی حکومت سے ہوتی ہے تو پھر امن وامان کی خیرنہیں ہوگی ۔ طلبہ کو اپنے نظریات کے اظہار کی آزادی پوری طرح ملنی چاہئے ۔ ہمارے طلبہ کی وطن دوستی پر کوئی شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا اور نہ انہیں کسی مخصوص طرح کی وطن دوستی کا سبق دیا جاسکتا ہے ۔ آر ایس ایس اور بی جے پی یا وشوا ہندو پریشد کی پسندکی وطن پرستی کوئی جگہ نہیں رکھتی۔ کسی بھی ہندوستانی کی حب الوطنی پر شبہ نہیں کیا جاسکتا ۔ اس لئے طلبہ برادری کو اے بی وی پی کی تعلیمات کی ضرورت نہیں ہے وہ خود جانتی ہے کہ اس کو کیا کرنا چاہئے اور وہ کیا کرسکتی ہے۔ طلبہ برادری میں نظریاتی اختلاف کی اس ابتدائی شکل کو غیر اہم سمجھ کو نظر انداز کرنا سب سے بڑی غلطی ہوگی ۔ حکمراں بی جے پی اور اس کے درپردہ گرو آر ایس ایس کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ طلبہ برادری ان کے کسی بھی دباؤ کو ان کی زور زبر دستیوں کو قبول کرنے تیار نہیں ہے اور یہ بھی آر ایس ایس و بی جے پی کو خبر ہونی چاہئے کہ ہماری طلبہ برادری ساری نوجوان نسل ان کے انداز فکر کو قبول نہیں کرتی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT