Tuesday , June 27 2017
Home / Top Stories / یوپی اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلہ میں آج رائے دہی

یوپی اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلہ میں آج رائے دہی

لکھنؤ 10 فروری (سیاست ڈاٹ کام) مغربی اترپردیش کے 73 انتخابی حلقوں میں تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ افراد اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کریں گے۔ پہلی بار ملک کی اِس وسیع ریاست میں اسمبلی انتخابات 7 مرحلوں میں منعقد کئے جارہے ہیں۔ پہلے مرحلہ کی رائے دہی وزیراعظم نریندر مودی کے 3 سالہ دور حکومت کی آزمائش بھی ثابت ہونے کا امکان ہے۔ 839 امیدوار انتخابی مقابلہ کے میدان میں ہیں جن میں اہم سیاسی پارٹیوں بی جے پی، بی ایس پی، کانگریس ۔ سماج وادی اتحاد، آر ایل ڈی کے علاوہ آزاد امیدوار بھی ہیں۔ آج جن انتخابی حلقوں میں رائے دہی ہونے والی ہے اُن کا تعلق 15 اضلاع سے ہے جہاں 26823 مراکز رائے دہی قائم کئے گئے ہیں۔ رائے دہندوں میں ایک کروڑ 17 لاکھ خواتین اور 1508 تیسری سمت کے رائے دہندے شامل ہیں۔ سب سے زیادہ انتخابی حلقہ رائے دہندوں کے اعتبار سے صاحب آباد ہے جبکہ سب سے چھوٹا حلقہ جلیسر ہے۔ اعظم ترین تعداد میں 26 امیدوار جنوبی آگرہ سے مقابلہ کررہے ہیں۔ سب سے کم امیدواروں کی تعداد حستنا پور میں ہے جہاں 6 امیدوار مقابلہ میں ہیں۔ مقابلہ کرنے والے نمایاں امیدواروں میں نوئیڈا سے پنکج سنگھ مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کے فرزند، کانگریس مقننہ پارٹی کے قائد پردیپ ماتھر متھرا سے بی جے پی کے ترجمان شری کانت شرما کے مقابل ہیں۔ میریگن کا سنگھ کیرانہ سے مقابلہ کررہی ہیں۔ وہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ حکم سنگھ کی دختر ہیں۔ متنازعہ بی جے پی ارکان اسمبلی سنگیت سوم اور سریش رانا ، سردھن اور تنا بھون ہیں۔ سابق بی جے پی ریاستی صدر لکشمی کانت باجپائی میرٹھ سے آر جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد کے داماد سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر راہول سنگھ سکندرآباد اور سندیپ سنگھ گورنر راجستھان کلیان سنگھ کے پوتے اترولی سے مقابلہ میں ہیں۔ 2012 ء میں سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی دونوں نے فی کس 24 نشستیں حاصل کی تھیں۔ اجیت سنگھ کی آر ایل ڈی کو 9 ، کانگریس کو 5 اور بی جے پی کو 11 نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ بی جے پی کو اِس بار بہتر مظاہرہ کی توقع ہے۔ 2014 ء کے عام انتخابات میں پارٹی کو لوک سبھا میں اکثریت حاصل ہوچکی ہے۔ دیگر پارٹیوں میں سے کوئی بھی اِس علاقہ سے ایک بھی نشست حاصل نہیں کرسکا تھا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT