Monday , May 29 2017
Home / مضامین / یوپی اسمبلی انتخابات 2017 ….. بولتا جہل ہے بدنام خرد ہوتی ہے !

یوپی اسمبلی انتخابات 2017 ….. بولتا جہل ہے بدنام خرد ہوتی ہے !

محمدجسیم الدین نظامی
کسی دانش مند کا قول ہے ،جس معاشرے میں’’ سب چلتا ہے‘‘ وہ معاشرہ کم ہی چلتا ہے ،کتابیں اور درسگاہیں ہمیں جوکچھ سکھاتی ہیں ،معاشرہ اس کے برعکس سبق پڑھاتا ہے ..اس لیئے ’’منافقت ‘‘ ہمارے اندر نا چاہتے ہوئے بھی رچ بس جاتی ہے‘‘ ۔صداقت پرمبنی اس قول کی تصدیق ملک کی پانچ ریاستوںمیں ہونے والے اسمبلی الیکشن کیلئے چلائی جارہی مہم اوراسمیں ’’سیاسی رقیبوں‘‘ کیلئے استعمال کئے جانے والے زبان و بیان سے باآسانی لگایا جاسکتاہے، جہاں ’’ سیاسی شعبدہ بازوں‘‘ اور’’ حریصان اقتدار‘‘کے بھاشنوں کو سن کرایسا محسوس ہوتاہے کہ اب راتو رات آسمان سے تارے توڑ لائے جائنگے…بارش کا ہرقطرہ یوپی پنجاب اور اترا کھنڈ کی زمین پرٹپک پڑیگا..اور ان ریاستوںکی بنجر زمینیں سونا اگلنا شروع کردیں گی۔ غربت ،مفلسی ،خوشحالی اورتونگری میں بدل جائے گیاور خودکشی کرنے والے کسانوںکے اراضیات پراچانک سے ’’من و سلوی‘‘ پھوٹ پڑینگے.. مگرزمینی حقیقت یہ ہے کہ آزادی کے تین سال بعد 1950میں جتنی تعداد ووٹروں( 17 کروڑ 32 لاکھ، 12 ہزار، 343 ) کی تھی ..آج 67سال بعد اس سے دگنی تعداد غربت کی لکیر سے نیچے کھڑا  ہے…جبکہ تر قی اورخوشحالی، سیاسی جماعتوںکے انتخابی منشور اور انتخابی بھاشنوںمیں ہی سمٹ کر رہ گئی ،مگرمسئلہ اب غریبی کے نعرہ پر اقتدار حاصل کرنے کی حد تک محدود نہیں رہا،اب اقتدار کی ہڈ ی کو چھیننے کیلئے ’’مذہبی منافرت‘‘کا کارڈبھی کھلے عام کھیلا جارہا ہے،سیاسی مہم کا یہی و ہ رخ یارجحان ہے جو سیکولر پسند ہندوستانیو ں کیلئے تشویش کا سبب بن چکاہے، عین الیکشن کے وقت پھرسے تین طلاق ،رام مندر ،لو جہاد،کیرانہ سے نقل مکانی اورمغربی یوپی کا کشمیر سے تقابل جیسے بیانات ووٹروںکو مذہبی خطوط پرمنقسم کرنے کی ’’سازش ‘ ‘ نہیں، ایک ’’واضح اعلان ‘‘ہے،جس پر وہ ببانگ دہل عمل پیرا ہیں۔ذراغور کیجئے، بی جے پی لیڈر سریش رانا انتخابی جلسے میں دھمکی دیتا ہے’’ اگروہ کامیاب ہوگئے تو دیوبند ،مرادآباد میں کرفیو نافذ ہوجا ئگا‘‘… یوگی آدتیہ ناتھ کو رات میں خواب آتا ہے اور وہ صبح اٹھ کر بڑبڑا نا شروع کردیتے ہیں کہ ’’ کیرانہ سے ہندوکمیونیٹی نقل مکانی پہ مجبورہے اور مغربی اترپریش بہت جلد دوسرا کشمیر بننے والا ہے‘‘۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ او ر مرکزی وزیر سنجیو بالیان کو نجومیت کا بخار چڑھا تو بیان جاری کردیا۔’’ ملائم سنگھ کے مرنے کا وقت آگیاہے،اب انکے زندہ رہنے کا وقت نہیںرہا ‘‘ …دہلی سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی جب بدزبانی پر اُتر آئے تو ،سونیا گاندھی ،مایاوتی کو زانیوکی فہرست میں کھڑا کردیا۔ سوامی پرساد موریہ اپنی اصلیت پر آئے تو ا نہوںنے شیلا دکشت کو ’’دہلی کاریجکٹیڈمال‘‘ قرار دیدیا شرافت گئی تیل لینے ’’ انتخابی ضابطہ اخلاق‘‘ جائے بھاڑ میں۔ ’’سیّا ںبھئے کوتوال تو اب ڈرکا ہے کا‘‘ اور کوتوال کی منافقت کا حال یہ ہے کہ مسلم خواتین کے حوالے سے صرف اس بات پر انکے پیٹ میں ’’مروڑ ‘‘  اٹھ جاتاہے کہ تین طلاق کی وجہہ سے مسلم خواتین پربہت ظلم ہورہا ہے ،لہذا انتخابی نتائج کے بعد اس پرامتناع عائدکردینا چاہئے مگر ایوان اقتدار سے محض چند کیلو میٹر کے فاصلے پر ایک مسلم بوڑبھی ماں اپنے جگر کے ٹکڑے (نجیب) کو پچھلے دو مہینے سے تلاش کر رہی ہے، اس ماں کے لئے انکے سینے میں در نہیںاٹھتا ۔ذکیہ جعفری ،اور عشرت کی ماں جیسی سینکڑوںمسلم خواتین کی مظلومیت انہیں نظر نہیں آتی؟… انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ یوپی کے 12کروڑ عوام خط غربت سے نیچے زندگی گذارنے پرکیو ںمجبورہے؟  ہاں! یہ رات تمام کروٹیں اس بے چینی میں بدلتے رہیں گے کہ رام مندر کا مسئلہ اچھال کر مذہبی منافرت کس طرح  پھیلائی جائے ۔تین تا چار فیصد برہمن 80 تا 85 فیصد عہدوں پر قابض رہیں تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن اگر کوئی ملازمت میں ریزر ویشن کی بات کرد ے تو ناگپور سے دہلی تک زلزلہ آجائے ۔راج موہن گاندھی جو عملی طور پر سیاست میں شامل تو نہیں تاہم سیاسی حالات پرگہری نظررکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیںکہ’’ ایک طرف تو وزیر اعظم نریندر مودی ترقی کی بات کرتے ہیں ،بلٹ ٹرین کی بات کرتے ہیں، وہیں دوسری طرف یوپی میں فرقہ پرستی کی باتیں ہوتی ہیں … مذہبی جذبات کو ووٹوںمیں تبدیل کرنے باتیں کی جاتی ہیں۔آخر دوقسم کا اسٹنڈرڈ کیوں ہے؟ سوال یہ ہے کہ یوپی کس طرف جائے گا؟نریندر مودی کے نعرئہ ترقی کی جانب یا یوگی آدتیہ ناتھ، ساکشی مہاراج اور کیشوموریہ کے نفرت انگیز نعروں کی طرف؟‘‘ دراصل یہی وہ’’ متضاد موقف‘‘ ہے جس میں بی جے پی کا حقیقی چہرہ نظر آتاہے۔عین الیکشن کے وقت رام مندر اورتین طلاق کا مسئلہ چھیڑنا اس حقیقت کا غماز ہے کہ حکمراں جماعت حساس جذباتی مسائل پر’’ پولرائیزیشن ‘‘کی سیاست کرنا چاہتی ہے اور یہی وہ وقت ہے جب ملک کے مسلمان اس چال کا جواب ،جوابی شعلہ بیانی اور ٹی وی اسٹوڈیو میں بیٹھ کر بحث کرکے بی جے پی کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس نے کے بجائے ’’خاموش ردعمل‘‘ سے دے سکتے ہیں کیونکہ حساس اورمذہبی مسائل کا چھیڑنا بی جے پی کی ’’مجبوری‘‘ ہے انکے وجودکی عمارت ’’منافرت کی اینٹ‘‘ پرہی کھڑی ہے۔ اگروہ ایسا نہیں کریگی تواپنا وجود کھودے گی۔ آپ ہی بتائے آخر وہ کرے تو کیا کرے ؟ انکے پاس کوئی’’ ٹھوس مُدّا‘‘ بھی تو نہیں ،پچھلے ڈھائی سال میںانہوںنے ایسا کوئی کارنامہ بھی ا نجام نہیں دیا جو ملک کی عوام کیلئے قابل قبول ہو،رہی سہی کسر نوٹ بندی نے پوری کردی ’’راستے بند ہیں سب کوچہ قاتل کے سوا‘ اسلئے یہ پارٹی اپنے پرانے آزمود ہ نسخے کوہی آز مارہی ہے ۔آپکو یاد ہوگا، گذشتہ اسمبلی انتخابات میںبی جے پی نے ’’سد بھاؤنا مشن ‘‘ کے ذریعہ مسلمانوں کی ناراضگی کم کرنے کی کوشش کی تھی،مگر مسلمان انکے جھانسے میں نہیں آئے ۔لہذا اس بار وہ کھلم کھلا کہتے نظرآرہے ہیں کہ انہیں ’’مسلم ووٹ ‘‘کی نہیں ۔’’مسلم ووٹوںکی تقسیم ‘‘کی ضرورت ہے ۔یہی انکی کامیابی کیلئے کافی ہے۔ اگر یقین نہ آئے تو بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی کا آج تک کودیا گیا انٹرویو سن لیجئے ۔وقت کا تقاضہ تویہ ہے کہ صرف مسلم ووٹرس ہی نہیں ،سیکولر رائے دہندوںکی بھی اس وقت رہنمائی کرنے اوریہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ بی جے پی برسراقتدارآنے کے بعد ملک کس سمت میں چلا جارہا ہے ۔ غریبی ،کرپشن ،بے روزگاری اور دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر، مرکزی حکومت کے آمرانہ اور دور اند یشی سے عاری متعدد فیصلوںنے ملک اورملک کے عوام کو تباہی کس دہانے پرلاکھڑ ا کردیاہے… انکے ذہنوںمیں یہ بٹھانے کی ضرورت ہے کہ، بی جے پی کی ’’کرنی کتھنی‘‘ میںکتنا واضح فرق ہے۔ مثلاً دو دن پہلے انہوں نے ایک ریلی میں سینہ ٹھوک کر کہا’’بی جے پی کا چناوی ایجنڈہ ،ایجنڈہ نہیں بلکہ’’ سنکلپ ‘‘(عہدو پیمان)ہوتاہے ۔مگر سال 2014 کے اپنے اس سنکلپ کو وہ بھول گئے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ میں جتنے داغی ارکان ہیں انہیں سال بھر کے اندر جیل بھیجا جائے گا اور جو پاک صاف ہیںوہی لوک تنتر کی اس مندر کی عزت بڑ ھائنگے ..مگر ڈھائی سال ہوگئے ، ہوا کیا؟ … آج وہی داغی ارکان پارلیمنٹ میں وزیرآعظم کی ناک اور آنکھ بنے ہوئے ہیں۔وہ چھوڑئے، جب اترپردیش کے لیے پارٹی صدر کے نام کا مسئلہ آیا تو انھوں نے اس کیشو موریہ کا انتخاب کیا جس پر قتل، اغوا اور دیگرکئی ایک مقدمات زیردورا ہیں۔ الیکشن سے پہلے بی جے پی کی ورکنگ کمیٹی میں وزیر اعظم نے اپنی’’ پارسائی‘‘ کا اظہارکرتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی اپنے بیٹے بیٹی ،بھتیجا بھتیجی کے لیے ٹکٹ طلب نہ کرے اور جب ٹکٹ دینے کا وقت آیا تو دوسری پارٹیوںکے مقابلے بیٹوں اور بیٹیوں اور پوتوں کو سب سے زیاد ٹکٹ بی جے پی میں ہی دئے گئے ہیں،قول وفعل میں اتنا واضح تضاد ،  پھر بھی دعوی ہے کہ’’ اصلاح ِ دوعالم ہم سے ہے‘‘ ۔شاید اسی لئے مظفر وارثی نے کہا تھا   ؎
شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس
بولتا جہل ہے ، بدنام خرد ہوتی ہے

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT