Thursday , March 23 2017
Home / Top Stories / یوپی انتخابات : چوتھے مرحلہ کی رائے دہی میں 61 فیصد ووٹنگ

یوپی انتخابات : چوتھے مرحلہ کی رائے دہی میں 61 فیصد ووٹنگ

بحیثیت مجموعی رائے دہی پرامن، 681 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ
لکھنؤ ۔ 23 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) یوپی اسمبلی انتخابات کے چوتھے مرحلہ کی رائے دہی میں 53 اسمبلی انتخابی حلقوں میں ریاستی الیکشن کمیشن کے بموجب 61 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ اکا دکا پرتشدد واقعات کے سوائے رائے دہی پرامن رہی۔ اسمبلی حلقے 12 اضلاع میں بشمول پسماندہ علاقہ بندیل کھنڈ میں پھیلے ہوئے تھے۔ 5 بجے شام تک 61 فیصد رائے دہی ہوئی۔ مراکز رائے دہی پر رائے دہندوں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ مہوبا سے پرتشدد واقعہ کی اطلاع ملی جہاں دو حریف گروپس میں جھڑپ ہوئی جس کے نتیجہ میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس میں 3 افراد زخمی ہوگئے۔ سماج وادی پارٹی کے امیدوار سدھ گوپال شاہ کے فرزند ساکیت ساہو اور بی ایس پی امیدوار اری مردان سنگھ کے فرزند ہمانچل سنگھ کے درمیان تصادم ہوا جس کے نتیجہ میں مبینہ طور پر سنگھ اور ان کے حامیوں نے فائرنگ کی۔ دو افراد لالہ بھیا اور طارق زخمی ہوگئے، جنہیں دواخانہ منتقل کیا گیا۔ ان کی  حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک ایف آئی آر درج کرکے دو افرادکو گرفتار کرلیا گیا۔ پہلے دو گھنٹوں میں رائے دہی سست رفتار تھی لیکن دن گذرنے کے ساتھ ساتھ تیز رفتار ہوتی گئی۔ آج جن اسمبلی حلقوں میں رائے دہی ہوئی ان میں پسماندہ علاقہ بندیل کھنڈ کے علاوہ نہرو ۔ گاندھی خاندان کا مستحکم گڑھ رائے بریلی بھی شامل ہیں جہاں کی نمائندگی صدر کانگریس سونیا گاندھی لوک سبھا میں کرتی ہیں۔

بین ضلعی اور بین ریاستی سرحدوں کی ناکہ بندی کردی گئی تھی تاکہ پرامن رائے دہی یقینی بنائی جاسکے۔ مرکزی نیم فوجی تنظیم کے ارکان عملہ تعینات کئے گئے تھے۔ 680 امیدوار بشمول 61 خواتین 53 نشستوں کیلئے انتخابی مقابلہ میں تھے۔ 2012ء کے انتخابات میں سماج وادی پارٹی کو 24، بی ایس پی کو 15، کانگریس کو 6، بی جے پی کو 5 اور دیگر کو 3 نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ اکادکا واقعات کے سوائے بحیثیت مجموعی رائے دہی پرامن رہی۔ الہ آباد کے 12 اسمبلی حلقوں میں تقریباً 55 فیصد رائے دہی ہوئی جس میں 43 لاکھ 60 ہزار رائے دہندوں نے حصہ لیا اور 181 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کردیا۔ 2012ء میں 55.35، 2007ء میں 43.94 اور 2002ء میں 47.75 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی تھی۔ دیہات اتخاریا میں ایک ایس آئی کو بی جے پی کارکنوں نے سنگباری کا نشانہ بنایا۔ بعض افراد برسراقتدار سماج وادی پارٹی کی تائید کیلئے رائے دہندوں کو ترغیب دیتے دکھائی دیئے۔ تاہم کوئی ایف آئی آر درج نہیں کروایا گیا۔ شنکرگڑھ میں اس وقت کشیدگی پیدا ہوئی جبکہ ایک سرکاری انٹر کالج کے احاطہ میں قائم مرکز رائے دہی پر برہم دیہی رائے دہندوں نے رائے دہی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا لیکن عہدیداروں نے انہیں راضی کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT