Sunday , April 23 2017
Home / Top Stories / یوپی اور ملک کو لوٹنے والی پارٹیوں سے خبردار

یوپی اور ملک کو لوٹنے والی پارٹیوں سے خبردار

وزیراعظم نریندر مودی کا یوپی کے شہر بجنور میں انتخابی جلسہ سے خطاب
بجنور 10 فروری (سیاست ڈاٹ کام) خاندانی سیاست اور یوپی کی نظم و ضبط کی صورتحال پر تقریر کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے سماج وادی پارٹی ۔ کانگریس اتحاد کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ یہ دو خاندانوں کا اتحاد ہے جنھوں نے یوپی اور ملک کو لوٹ لیا ہے۔ اُنھوں نے راہول گاندھی کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہاکہ کوئی بھی قائد اب تک ان پر اتنے طنز کے تیر نہیں چلایا جتنے کہ اس (راہول) نے بچکانہ کارروائیاں کرتے ہوئے چلائے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ جب دونوں خاندان علیحدہ تھے تو اُنھوں نے یوپی کی صنعت کو اتنا تباہ نہیں کیا تھا جب دونوں متحد ہوجائیں گے تو کتنی تباہی مچائیں گے اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر آپ یوپی کو بچانا چاہتے ہیں تو آپ کو اِسے اِن خاندانوں سے بچانا ہوگا۔ وہ بجنور میں انتخابی جلسہ سے خطاب کررہے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ بی جے پی نے ریاستی اسمبلی انتخابات میں سخت مسابقت کا سامنے کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور طویل مدتی خاندانی حکمرانی یادو خاندان کے یوراج سے ٹکرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاکہ اُن کے بڑے بڑے جرائم بشمول کرپشن منظر عام پر آجائیں۔ اکھلیش یادو اور مایاوتی دور حکومت میں کئی اسکام ہوچکے ہیں۔ نریندر مودی نے کانگریس پر الزام عائد کیاکہ وہ گندی زبان استعمال کررہی ہے اور بار بار اپوزیشن کی اُن کے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ پر ’’برساتی‘‘ کے تبصرے کے بعد توہین کررہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ نہیں جانتے کہ اکھلیش یادو حکومت نے کتنا کام کیا ہے۔ وہ اُن سے اجلاسوں میں چند مرتبہ ملاقات کرچکے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مختلف اطلاعات پڑھنے کے بعد یہ نوجوان تعلیم یافتہ ہوگیا ہے اور مزید سیکھنے کی کوشش کررہا ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ ایک نوجوان آئندہ 5 تا 10 سال میں اچھا سیاستداں بن جائے گا۔ دوسری طرف کانگریس قائدین جو اتنی زیادہ بچکانی حرکتیں کررہے ہیں کہ اگر آپ ایک کمپیوٹر پر تلاش کریں تو آپ کو کسی دوسرے قائد کے اُن کے بارے میں اتنے لطیفے نہیں ملیں گے جتنے کہ کانگریس قائدین کے ملیں گے۔ سینئر کانگریس قائدین اُن سے دوری اختیار کئے ہوئے ہیں اور اکھلیش کو گلے لگاتے ہیں اب اُنھیں اُن کی عقل بندی پر شک ہورہا ہے۔ جانے وہ اپنی گہری نیند سے کب جاگیں گے ۔ اُنھوں نے کہاکہ کانگریس اور ایس پی اتحاد دوخاندانوں کا اتحاد ہے جن میں سے ایک نے ملک کو لوٹا ہے اور دوسرے نے یو پی کو لوٹا ہے۔

 

’’دیو بھومی‘‘ کی شبیہہ مسخ کرنے والی حکومت ہٹادو
ہردوار میں وزیراعظم نریندر مودی کا اتراکھنڈ کے انتخابی جلسہ سے خطاب

ہردوار 10 فروری (سیاست ڈاٹ کام) ایک نوٹ کرتے ہوئے کہ آئندہ 5 سال یا اتراکھنڈ میں جیسے بھی حالات ہوں 16 سال تک اُنھوں نے اپنی شرح ترقی برقرار رکھی تھی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے آج عوام سے دریافت کیاکہ کیا وہ ایسی حکومت کو دوبارہ ووٹ دیں گے جس نے ’’دیو بھومی‘‘ کے نام کو بدنام کردیا ہے اور اِس کی جگہ ایک ایسا نام اِسے حاصل ہوگیا ہے جو اٹل بہاری واجپائی حکومت کے ریاست کے لئے نظریہ کو مکمل طور پر تبدیل کرسکتا ہے۔ ہر شخص کی زندگی میں 16 ویں سال کی انتہائی اہمیت ہوتی ہے کیوں کہ آئندہ 5 سال میں اُس کی ساخت کا تعین ہوتا ہے چنانچہ اتراکھنڈ کا بھی سولہواں سال اُس کے وجود کے لئے انتہائی اہم ہے۔ آئندہ پانچ سال اِس بات کا تعین کریں گے کہ اتراکھنڈ کی جہت کیا ہے اور یہ کس سمت میں پیشرفت کرے گا۔ وزیراعظم نریندر مودی وجئے میدان رشی کیش پر بی جے پی کی وجئے سنکلپ ریالی سے خطاب کررہے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ ایک وقت وہ بھی تھا جبکہ ’’دیو بھومی‘‘ کا نام لیتے ہی ہر شخص میں تقدیس کا احساس پیدا ہوتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اب اِس لفظ سے ذہن میں ایک داغدار حکومت کا نام آتا ہے۔ پورا ملک ٹی وی پر سب کچھ دیکھ چکا ہے۔ مودی واضح طور پر مبینہ اسٹنگ آپریشن کا تذکرہ کررہے تھے جس میں چیف منسٹر ہریش راوت کو مبینہ طور پر ایک سودا کرتے دکھایا گیا تھا۔ وہ پارٹی کے ناراض ارکان اسمبلی کو خریدنے کے لئے سودا کررہے تھے جبکہ گزشتہ سال ریاست میں سیاسی بحران پیدا ہوا تھا۔ وزیراعظم نے سوال کیاکہ کیا آپ ایسی حکومت کو ووٹ نہیں دیں گے جو دیو بھومی کی ساکھ بحال کرنا چاہتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ اُن تمام افراد کے خلاف کارروائی کریں گے جنھوں نے واجپائی کے اتراکھنڈ کے بارے میں نظریہ کو حقیقت بننے سے روک دیا۔ اُنھوں نے پرزور انداز میں کہاکہ اتراکھنڈ میں بی جے پی حکومت دوبارہ قائم ہوگی اور یہاں بی جے پی کا طوفان آجائے گا۔ اُنھوں نے بڑے مالیاتی کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے بارے میں کہاکہ بعض لوگ اب بھی اِس اقدام کو سمجھنے سے قاصر ہیں حالانکہ اِس اقدام نے  تمام کالے دھن کا کاروبار کرنے والوں کو بینکوں میں جوابدہ بنادیا۔ اُنھوں نے کہاکہ اُن کے پاس یہ رقم کہاں سے آئی، کتنی آئی اور کون اِسے کیسے حاصل کیا یہ تمام سوالات اب کیمروں میں قید ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں کی نیند اُڑ گئی ہے۔ اِس ملک کو ان لوگوں نے 70 سال تک لوٹا ہے۔ کیا کوئی بھی اِس کی تردید کرسکتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ کسی کا کچھ بھی موقف ہو وہ اِس کو حاصل کرنے کے لئے سخت محنت کرتا ہے اور یہ موقف حاصل کرنے کے بعد لوٹنا شروع کردیتا ہے۔ اُن کو اِس کی عادت پڑگئی ہے۔ چنانچہ وہ چور بازاری سے باز نہیں آتے۔ اُنھوں نے کرپشن اور کالے دھن کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے جو کچھ اُنھوں نے غریبوں سے لوٹا تھا وہ غریبوں کو واپس دینا چاہتے ہیں۔ اتراکھنڈ میں وزیراعظم مودی کا یہ دوسرا انتخابی جلسہ تھا جس میں اُنھوں نے اپنی اصل حریف کانگریس کو دل کھول کر تنقید کا نشانہ بنایا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT