Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / یوپی : بی جے پی کا انتخابی منشور متنازعہ مسائل سے بھرپور

یوپی : بی جے پی کا انتخابی منشور متنازعہ مسائل سے بھرپور

رام مندر، طلاق ثلاثہ ، مسالخ ترجیحات، عوام کی بہبود کا بھی عہد
لکھنؤ 28 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) صدر بی جے پی امیت شاہ نے یوپی اسمبلی چناؤ کے لئے آج ’لوک کلیان سنکلپ پتر‘ (عوام کی بہبود کا عہد) کے نام سے پارٹی کا انتخابی منشور جاری کیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بہار، مدھیہ پردیش اور راجستھان جیسی ریاستوں میں بہتری آئی ہے لیکن اترپردیش ہنوز پچھڑی ریاست ہے۔ مرکز نے یوپی کے لئے ایک لاکھ کروڑ روپئے منظور کئے لیکن بنیادی سطح پر کوئی ترقیاتی کام دکھائی نہیں دیتا ہے اور لاء اینڈ آرڈر تو انتہائی پستی کا شکار ہے۔ یوپی کو 15 سال سے ایس پی اور بی ایس پی نے بگاڑا ہے۔ ہم اِس ریاست کی ہیئت بدلنے کا عہد لے کر آئے ہیں۔ امیت شاہ نے کہاکہ اکھلیش یادو کو اِس ریاست کو درپیش مسائل کے تعلق سے جواب دینا پڑے گا، جہاں برسر اقتدار پارٹی کے غنڈوں نے زمینات ہڑپ لئے ہیں۔  اُنھوں نے دعویٰ کیاکہ محض انتخابی اتحاد کرتے ہوئے لوگوں کو بے وقوف نہیں بنایا جاسکے گا۔ صدر بی جے پی کا کہنا ہے کہ زرعی قرضے معاف کئے جانے ہیں۔ اسپیشل ٹاسک فورس تشکیل دیتے ہوئے ریاست میں غیر قانونی کانکنی کا خاتمہ کیا جائے گا۔ صدر بی جے پی نے وعدہ کیاکہ اگر پارٹی برسر اقتدار آتی ہے کہ اترپردیش کی سرکاری نوکریوں میں درجہ سوّم اور چہارم کے لئے انٹرویو نہیں ہوگا تاکہ بھرتی کے معاملہ میں بدعنوانی کا خاتمہ ہوجائے۔ اُنھوں نے کہاکہ بارہویں جماعت تک مفت تعلیم دی جائے گی اور بہت نمایاں تعلیمی قابلیت والے طلباء کی گریجویشن تک فیس معاف کردی جائے گی۔ فرقہ وارانہ کشیدگی کا موضوع چھیڑتے ہوئے امیت شاہ نے کہاکہ اِس کے سبب عوام کے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے سدباب کی خاطر بی جے پی ضلع سطح پر ٹیمیں تشکیل دے گی۔ یوپی میں فوڈ پراسیسنگ پارک بھی قائم کیا جائے گا اور ساری ریاست میں 24 گھنٹے برقی سربراہی کو یقینی بناتے ہوئے غریبوں کے لئے کم شرحیں رکھی جائیں گی۔ رام مندر کے تعلق سے صدر بی جے پی نے کہاکہ دستوری گنجائشوں کے تحت رام مندر کی تعمیر کو یقینی بنانے کی کوششیں کی جائیں گی۔ طلاق ثلاثہ کے بارے میں صدر بی جے پی نے کہاکہ خواتین کی رائے حاصل کرنے کے بعد بی جے پی حکومت اپنی رائے سپریم کورٹ کے سامنے رکھے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ اترپردیش میں مسالخ بند کردیئے جائیں گے۔ بی جے پی کو خاص طور پر نوٹ بندی اقدام کے بعد عوام کی ناراضگی کا سامنا ہے اور اِس کا یوپی اسمبلی چناؤ کے نتائج پر اثر پڑسکتا ہے۔ یہی عنصر برسر اقتدار ایس پی اور کانگریس کے اتحاد کو کچھ فائدہ بھی پہنچا سکتا ہے۔

بی جے پی کو منشور کی اجرائی کا حق نہیں : مایاوتی
لکھنو ۔ 28 ۔ جنوری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : بہوجن سماج پارٹی ( بی ایس پی ) کی سربراہ اور اترپردیش کی سابق چیف منسٹر مایاوتی نے آج کہا کہ اچھے دن کا وعدہ پورا کرنے میں ناکامی کے بعد زعفرانی جماعت بی جے پی اترپردیش اسمبلی کے لیے اپنا انتخابی منشور جاری کرنے کے اخلاقی حق سے محروم ہوگئی ہے ۔ بی ایس پی کی سربراہ یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران بی جے پی کی جانب سے انتخابی منشور کی اجرائی کی اطلاعات پر تبصرہ کررہی تھیں ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی 2014 کے پارلیمانی انتخابات کے موقع پر اپنے منشور میں کیے گئے وعدوں کی تکمیل میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT