Wednesday , June 28 2017
Home / Top Stories / یوپی میں دو مسالخ ’مہربند‘، دیگر تمام کے وجود کو بھی خطرہ لاحق

یوپی میں دو مسالخ ’مہربند‘، دیگر تمام کے وجود کو بھی خطرہ لاحق

ادتیہ ناتھ کے چیف منسٹر بنتے ہی کارروائی ، کروڑہا روپئے کی تجارت متاثر ہوگی ، سرمایہ کاروں میں تشویش
الہٰ آباد۔20 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام) کل رات عہدیداروں نے دو مسلخوں کو مہربند کردیا، یہ تبدیلی بی جے پی قائد یوگی ادتیہ ناتھ کی بحیثیت چیف منسٹر یوپی حلف برداری کے چند گھنٹوں کے اندر پیش آئی ۔ تقریباً ایک سال قبل قومی گرین ٹریبونل نے ان دو مسلخوں کو بند کردینے کا حکم دیا تھا ۔ ایک عہدیدار نے کہاکہ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اٹالہ اور نینی محلوں میں دو مسلخوں کو مہربند کردیا تھا ، جن میں سے ایک شہر میں دوسرا مضافات میں واقع ہے ۔ این جی ٹی نے مئی 2016 ء میں انھیں بند کرنے کا حکم دیا تھا ۔ ضلع کے ویٹرنری آفیسر دھیرج گوئیل نے کہا کہ یہ اقدام ان خبروں کے بعد کیا گیا کہ یہ مسلخ صرف کاغذات پر بند ظاہر کئے گئے ہیں،درحقیقت کاروبار حسب معمول جاری ہے ۔ گوئیل نے کہاکہ این جی ٹی نے اسی طرح اس علاقہ کے ایک اور مسلخ کو بند کردینے کی سفارش کی تھی لیکن چونکہ غیرقانونی کاروبار کی کوئی اطلاع نہیں تھی ، اُن کے محکمہ نے پولیس سے درخواست کی ہیکہ نگرانی رکھی جائے ۔ اپنی پہلی پریس کانفرنس میں لکھنو میں نئے چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ نے کہا تھا کہ اُن کی حکومت مسلخوں کے بارے میں بی جے پی کی اسمبلی انتخابی مہم کے دوران کئے ہوئے تیقنات کی تکمیل کریگی۔ بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں جس کا عنوان ’’کلیان سنکلپ پتر‘‘میں تیقن دیا تھا کہ برسراقتدار آنے پر تمام غیرقانونی مسلخ بند کردینے اور میکانیکی ذبیح کرنے والے مسلخوں پر امتناع عائد کرنے کے سخت اقدامات کئے جائیں گے ۔ ہندوستان 2016 ء میں دنیا بھر کو 13,14,158.05 میٹرک ٹن بھینس کا گوشت مالیتی 26,681.56 کروڑ روپئے برآمد کرچکا ہے ۔ قبل ازیں سخت گیر ہندوتوا پوسٹر بوائے یوگی آدتیہ ناتھ کے چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہونے کے ساتھ ہی ریاست بھر کے کئی بڑے مسالخ کے مالکین میں تشویش پیدا ہوگئی تھی کیونکہ بی جے پی نے اقتدار ملنے کی صورت میں ریاست کے تمام مسالخ بند کرنے کاوعدہ کیا تھا۔ یوپی میں ایک درجن سے زائد رجسٹرڈ عصری مسالخ کے مالکین نے کہا ہے کہ امتناع سے متعلق کوئی اقدام اس ریاست سے گوشت کی برآمدات ، کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری اور ہزاروں افراد کے گذر بسر کو بری طرح متاثر کرسکتا ہے ۔ محمد عمران یعقوب نے جن کے الفھیم میٹکس مسلخ میں 1,500 افراد کام کرتے ہیں کہا کہ ’’رجسٹرڈ مسلخ کو کوئی کس طرح بند کرسکتا ہے؟۔ ہم گائے نہیں بلکہ نہ گاؤ (بیل ) کے گوشت کا کاروبار کرتے ہیں ۔ گوشت کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے عصری مشینوں کا استعمال کیا جاتا ہے ‘‘۔ اس ضمن میں کاروباری افراد کے ادعاء جات اور حقائق اپنی جگہ لیکن بی جے پی کا انتخابی منشور بھی واضح ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جس روز بی جے پی حکومت حلف لے گی اسی شب آرڈیننس کی اجرائی کے ذریعہ تمام غیرقانونی اور حتیٰ کہ قانونی مسالخ بند کردیئے جائیں گے ۔ بی جے پی نے دعویٰ کیا ہے کہ ذبیحہ اور اسمگلنگ کے سبب مویشیوں کی تعداد میں بھاری کمی ہوئی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT