Saturday , September 23 2017
Home / سیاسیات / یوپی میں صرف غیرقانونی مسالخ کیخلاف کارروائی

یوپی میں صرف غیرقانونی مسالخ کیخلاف کارروائی

مرغ، مچھلی اور انڈوںکے تاجروں کو خوفزدہ نہ ہونے کا مشورہ، یوپی کے وزیرصحت کی پریس کانفرنس
لکھنؤ ۔ 27 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ریاستی مسلخوں کے خلاف کارروائی کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے حکومت یوپی نے آج کہا کہ حکومت کی کارروائی صرف غیرقانونی مسالخ کے خلاف کی جارہی ہے۔ ایسے مسالخ جن کے پاس لائسنس ہے ان سے درخواست کی گئی ہیکہ وہ معیاروں کی پابندی کریں۔ ریاستی وزیرصحت سدھارتھ ناتھ سنگھ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لائسنس یافتہ مسلخ جو لائسنس میں درج معیاروں کی پابندی کررہے ہیں، انہیں خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کسی بھی دکان میں اگر مرغ، مچھلی یا انڈے فروخت کئے جاتے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔ انہیں بھی خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ریاستی وزیرصحت نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ حد سے زیادہ جوش و جذبہ کے ساتھ کارروائیاں نہ کریں اور نہ اپنے دائرہ کار سے تجاوز کرکے کارروائی کریں۔ انہوں نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ لائسنس میں درج ایک ہدایت کے بموجب سی سی ٹی وی کیمرے مسلخ کے احاطہ میں نصب کئے جانے چاہئیں۔ اگر اس ہدایت کی تکمیل نہیں کی جاتی تو مسلخ بند کرنے کے احکام جاری کرنے کے بجائے مسلخ کے مالک کو نوٹس جاری کی جانی چاہئیں اور اسے ہدایت دی جانی چاہئے کہ ضروری انسدادی اقدامات مقررہ مہلت کے دوران کریں۔ انہوں نے کہا کہ قومی برین ٹریبونل غیرقانونی مسلخوں کو بند کرنے پر زور دیا ہے۔ ریاستی وزیر صحت نے کہاکہ 2015ء میں این جی ٹی نے تبصرہ کیا تھا کہ غیرقانونی مسلخ ماحولیات کیلئے خطرہ ہیں اور ان کے بند کرنے پر زور دینے کے بجائے سابق حکومت نے غیرقانونی مسلخوں کو بند کرنے کیلئے کچھ نہیں کیا۔ اتفاق سے ریاست گیر سطح پر گوشت فروخت کرنے والے آج سے غیرقانونی اور میکانیکی مسلخوں کے خلاف کارروائی پر غیرمعینہ مدت کی ہڑتال کررہے ہیں۔ سدھارتھ ناتھ سنگھ نے کہا کہ ایک پروپگنڈہ گشت کررہا ہے جس کے ذریعہ مختلف سوشیل میڈیا کی پلیٹ فامس نے ان تمام کا احاطہ کیا ہے جو ہمارے نظریہ سے اتفاق نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ پروپگنڈہ کے شکار نہ ہوں۔ اس سوال پر کہ کیا ریاستی حکومت گوشت فروخت کرنے والوں کے ساتھ کھلے دل سے مذاکرات کرنے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاحال گوشت فروخت کرنے والوں کے کسی بھی وفد نے ان سے ملاقات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ ملاقات کرنا چاہتے ہیں اور اپنا نقطہ نظر پیش کرنا چاہتے ہیں تو ان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ ہم کھلے ذہن کے ساتھ ان سے ملاقات کریں گے لیکن غیرقانونی کارروائیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مخالف رومیو اسکواڈس کے بارے میں انہوں نے کہاکہ حکومت کسی بھی قسم کی نگرانی کی مہمات کو برداشت نہیں کرے گی اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسے سنگین مشکلات کا سامنا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT