Thursday , July 27 2017
Home / Top Stories / یوپی میں مسلمانوں کو گاؤں چھوڑکر چلے جانے کا حکم

یوپی میں مسلمانوں کو گاؤں چھوڑکر چلے جانے کا حکم

بی جے پی کو اب کوئی طاقت روک نہیں سکتی ،موضع جیانگلہ میں پوسٹرس ، سماجی بائیکاٹ کی دھمکی

حیدرآباد۔15مارچ (سیاست نیوز) اترپردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار حاصل کرنے کے بعد مسلمانوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ شروع ہوچکا ہے اور انہیں گاؤں چھوڑ کر چلے جانے کا انتباہ دیا جانے لگا ہے۔ اترپردیش کے ضلع بریلی میں واقع موضع جیانگلہ میں دیواروں پر پوسٹرس چسپاں کرتے ہوئے مسلمانوں کو کاؤں چھوڑنے کا انتباہ دیا گیا ہے اور نہ چھوڑنے کی صورت میں سنگین نتائج کا انتباہ دیتے ہوئے یہ ادعا کیا گیا ہے کہ گاؤں میں بسنے والے مسلمانوں کا نہ صرف سماجی مقاطعہ کیا جائے گا بلکہ انہیں زبردستی نکالا جائے گا۔دیواروں پر پائے گئے پوسٹرس میں موجود تحریر کے مطابق مسلمانوں کو جاریہ سال کے اواخرتک اس علاقہ اور موضع سے تخلیہ کرلینا چاہئے نہ کرنے کی صورت میں انہیں سنگین حالات کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ اس پوسٹر میں کہا گیا ہے کہ وہ وہی کر رہے ہیں جو امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کررہے ہیں کیونکہ اب ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکمرانی ہے اسی لئے انہیں ایسا کرنے سے کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ ان پوسٹرس کے چسپاں کئے جانے کے بعد بریلی کے موضع جیانگلہ کے مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور اس پوسٹر پر جاری کردہ کی جگہ پر نوضع کے ہندو تحریر کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان پوسٹرس کے چسپاں کرنے والوں نے سرپرستی میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ کا نام تحریر کیا ہے جس کے سبب مقامی عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے دیواروں پر چسپاں کردہ بیشتر پوسٹرس کو نکال دیا گیا ہے

 

اور اس سلسلہ میں 5نوجوانوں کو حراست میں لئے جانے کی بھی اطلاعات ہیں لیکن اس بات کی ابھی تک توثیق نہیں ہو پائی ہے۔ بریلی سے 70کیلو میٹر کی دوری پر واقع اس موضع میں مسلمانوں کی قابل لحاظ آبادی موجود ہے لیکن اس کے باوجود ان کے متعلق اس طرح کی کوششیں شہریوںمیںنفرت پھیلانے کا سبب بن رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ راتوں رات چسپاں کردہ ان پوسٹر س سے نہ صرف اس موضع میں بلکہ اترپردیش کے دیگر مواضعات میں بھی خوف و دہشت کی لہر پیدا ہو گئی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد مقامی عوام تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے متعلق غور کررہے ہیں۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ سابق میں اس علاقہ میں کبھی اس طرح کی نفرت نہیں دیکھی گئی لیکن اس ماحول کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست کے ایسے علاقو ںمیں جہاں مسلمانوں کی آبادی کم ہیں ان علاقو ںمیں مسلمانوں کو ہراسانی کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے اور انہیں ہراساں کرتے ہوئے گاؤں چھوڑنے کیلئے مجبور کئے جانے کی کوشش کی جانے لگی ہے۔ انتظامیہ کے بموجب یہ کوئی طبع شدہ پوسٹرس نہیں ہیں بلکہ زیراکس کے ذریعہ نقل بناتے ہوئے ان پوسٹرس کو دیواروں پر چسپاں کیا گیا ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ 2500کی آبادی پر مشتمل اس موضع میں 200سے زائد مسلمانوں کے گھر ہیں جو قریب 10فیصد ہوتے ہیں۔ گاؤں کے پردھان ریوا رام نے بتایا کہ موضع میں ان قابل اعتراض پوسٹرس کی اطلاع موصول ہوتے ہی انہوں نے پولیس کو مطلع کیا ہے اور شکایت درج کروادی گئی ہے ۔ ان پوسٹر میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے 6مسلم ممالک کے شہریوں پر امریکہ میں داخلہ پر عائد کردہ پابندی کا تذکرہ کرتے ہوئے اسی طرح کا رویہ اختیار کرنے کا انتباہ دیا گیا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT