Friday , July 21 2017
Home / Top Stories / یوپی میں گوشت کے تاجرین کی ہڑتال ، مٹن شاپس بند

یوپی میں گوشت کے تاجرین کی ہڑتال ، مٹن شاپس بند

بعض مقامات پر مچھلی اور چکن کی بھی قلت ، صرف غیرقانونی مسالخ کے خلاف کارروائی ، سیاسی رنگ نہ دیا جائے : حکومت
لکھنو ؍ نئی دہلی ۔27 مارچ  ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) اُترپردیش میں بی جے پی زیرقیادت حکومت نے آج یہ واضح کیا ہے کہ صرف غیرقانونی مسالخ کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے اور اس مہم کو مخصوص مذہب سے جوڑنا دراصل حکومت کو بدنام کرنے کی سازش کا ایک حصہ ہے ۔ ریاستی کابینی وزیر شری کانت شرما نے کہا کہ ادتیہ ناتھ یوگی حکومت کی اس مہم کا مقصد عوام کی صحت کا تحفظ یقینی بنانا ہے اور اُنھیں صاف ستھرا گوشت فراہم کرنا ہے ۔ ہماری حکومت سپریم کورٹ اور نیشنل گرین ٹریبونل کے احکامات پر عمل کررہی ہے ۔ اس وقت جو بھی کارروائی کی جارہی ہے وہ صرف غیرقانونی مسالخ کے خلاف ہے۔ جہاں تک گوشت کی دوکانات کے مالکین کا تعلق ہے ، وہ انھیں مشورہ دیں گے کہ ہڑتال کی بجائے ان احکامات کی پاسداری اُن کے لئے بہتر ہوگی ۔ گوشت کے دوکانات بالخصوص مٹن شاپ کے مالکین نے آج اپنے تجارتی ادارے بند رکھے ۔ انھوں نے غیرقانونی ا ور عصری مسالخ کے خلاف ریاست گیر مہم کے خلاف غیرمعینہ مدت کی ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ ریاست کے مختلف اضلاع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق آج بکری کا گوشت آسانی سے دستیاب نہیں ہوا، یہاں تک کہ بعض دوکانات پر چکن فروخت کیا جارہا تھا۔ ایک اور کابینی وزیر سدھارتھ ناتھ سنگھ نے کہا کہ چکن ، مچھلی یا انڈے فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی کوئی ہدایت نہیں دی گئی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ عہدیداروں کو یہ واضح طورپر حکم دیا گیا ہے کہ وہ اختیارات کا بیجا استعمال یا پھر ضرورت سے زیادہ سرگرمی کا مظاہرہ نہ کریں۔ انھوں نے کہاکہ نیشنل گرین ٹریبونل نے تمام غیرقانونی مسالخ کو بند کرنے پر زور دیا تھا ۔ 2015 ء میں ٹریبونل نے کہاتھا کہ یہ مسالخ ماحولیات کیلئے خطرہ ہیں لہذا اُنھیں بند کردیا جانا چاہئے ۔ انھوں نے اپوزیشن کی تنقیدوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مسئلہ پر ریاستی حکومت کے خلاف غلط پروپگنڈہ کررہی ہیں۔ شرما نے کہاکہ بعض سیاسی جماعتیں حکومت کی اس کارروائی کو ایک مخصوص مذہب سے جوڑ رہی ہیں جو ریاستی حکومت کو بدنام کرنے کی بڑی سازش کا حصہ ہے۔ انھوں نے کہاکہ عوام کافی سمجھدار ہیں اور وہ اس سازش کا شکار نہیں ہوں گے ۔ ریاست بھر میں ہڑتال کے پہلے دن آج غیرمعمولی اثر دیکھا گیا ۔ لکھنو میں مٹن کی دوکانات بند تھیں اور گوشت دستیاب نہیں تھا ۔ لکھنو میونسپل کارپوریشن کے چیف وٹرینری آفیسر کے کے راؤ نے بتایا کہ بلدی حدود میں تقریباً 330 گوشت کی دوکانات ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق دارالحکومت میں تقریباً 5,000 گوشت کی دوکانات ہیں ۔ چائنا گیٹ کا علاقہ جہاں ایک درجن سے زائد نان ویجٹیرین اشیاء فروخت کرنے والی دوکانات پائی جاتی ہیں ، ہڑتال کے سبب سنسنان نظر آرہا تھا ۔ قدیم لکھنو علاقہ کے اکبری گیٹ میں بھی دوکانات بند تھے ۔ لکھنو بکرا گوشت بیوپار منڈل نے اپنی ہڑتال میں شدت پیدا کردی ہے اور کہا ہے کہ اسے ختم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ منڈل کے ایک عہدیدار مبین قریشی نے کہا کہ آج بیشتر دوکانات بند تھیں۔ انھوں نے کہاکہ ہم فوری طورپر یہ ہڑتال ختم نہیں کریں گے ۔ اس شعبہ سے وابستہ تاجرین کو اپنے روزگار کی فکر لاحق ہے کیوں کہ حکومت کی اس کارروائی سے لاکھوں افراد بیروزگار ہونے کا اندیشہ ہے ۔ مشرقی اُترپردیش میں آج گوشت بالخصوص مٹن کی قلت تھی ۔ بلیا میں چکن اور مچھلی کی بھی قلت دیکھی گئی ۔ جھانسی میں مٹن دستیاب نہیں تھا ، یہاں تک کہ کئی مقامات پر چکن اور مچھلی کی بھی قلت دیکھی گئی ۔ آگرہ میں بھی یہی صورتحال تھی اور کہیں بھی مٹن فروخت نہیں کیا جارہا تھا ۔ تاہم عوام کو مچھلی اور انڈے فروخت کرتے دیکھا گیا ۔ اس دوران مرکزی وزیر ایم وینکیانائیڈو نے کہا کہ حکومت اُترپردیش کے غیرقانونی مسالخ کے خلاف کارروائی کے فیصلے کو فرقہ وارانہ رنگ دینا غلط ہے ۔ انھوں نے کہا کہ نئی حکومت کسی بھی قانونی مسلخ کو نشانہ نہیں بنارہی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT