Saturday , August 19 2017
Home / اداریہ / یوپی میں ہائی وولٹیج ڈرامہ

یوپی میں ہائی وولٹیج ڈرامہ

غرق ہوجاؤں تو رہ جائے گا طوفاں کا بھرم
میں جو بچ جاؤں تو ہوجائے گا ساحل رسوا
یوپی میں ہائی وولٹیج ڈرامہ
سماج وادی پارٹی میں شدید اختلافات کے باوجود چیف منسٹر اکھلیش یادو اور ان کے چچا شیوپال یادو پارٹی صدر ملائم سنگھ یادو کے تجربات کے برعکس کوئی قدم نہیں اُٹھاسکتے ۔ ملائم سنگھ یادو جیسے 50 سالہ تجربہ رکھنے والے سیاستداں کو اپنی ہی پارٹی کے اندر پھوٹ کے آثار کو روکنے میں مشکل آرہی ہے ۔ یہ خاندانی جھگڑا بھی ہے اور سیاستداں کے وقار کا مسئلہ بھی ۔ پارٹی کے اندر ملائم سنگھ یادو کا اثر دیکھتے ہوئے یہ اندازہ کیا جارہا تھا کہ پارٹی کو پھوٹ کا شکار ہونے سے بچائیں گے ۔ 2017 ء کے اسمبلی انتخابات سے قبل سماج وادی پارٹی کو شدید نقصان پہونچا ہے ۔ انتخابی دوڑ میں ہر کوئی پارٹی سے بالاتر ہوکر خود کو مضبوط بنانے کی فکر کرے تو سماج وادی پارٹی کے موجودہ حالت کی طرح واقعات رونما ہونا ممکن ہوتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایک تجربہ کار سیاستداں ہونے کے باوجود ملائم سنگھ یادو نے پارٹی کے اندر اتنی نازک صورتحال پیدا ہونے کی اجازت کیوں دی ۔ صرف دو ماہ پرانی بات ہے جب سروے کرنے والوں نے بتایا تھا کہ اُترپردیش میں اکھلیش یادو کا سیاسی موقف مضبوط ہے اور یہ تاثر دیا جانا شروع ہوا تھا کہ وہ ہی اُترپردیش میں دوبارہ اقتدار حاصل کریں گے مگر اچانک پارٹی کے اندر اقتدار کی جنگ اور خاندانی برتری کے لئے رستہ کشی نے صورتحال یکسر تبدیل کردی اب یوپی میں سماج وادی پارٹی کی سیاسی ساکھ پر بڑا سوال کھڑا کردیا گیا ہے ۔ ملائم سنگھ یادو یہاں جس طرح دباؤ کے تحت کام کرتے نظر آرہے ہیں ایسا ماضی میں کبھی نہیں دیکھا گیا ۔ یادو پریوار نے سماج وادی پارٹی کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے ۔ ایک حصہ اکھلیش یادو کا دوسرا شیوپال یادو کا ہے ۔ اس لئے اب یوپی کے سیاسی منظر نامہ پر بہوجن سماج پارٹی اور بی جے پی کے امکانات روشن ہونے لگے ہیں۔ یوپی میں مسلمانوں اور دلتوں کی اکثریت ہے ۔ دلت لیڈر مایاوتی کے حق میں ہے ۔ بی جے پی کے حق میں کتنے ارکان اسمبلی آئیں گے یہ وقت ہی بتائے گا ۔ البتہ بی جے پی نے پاکستان کے خلاف ہندوستانی فوج کی سرجیکل اسٹرائیک کا سہرا اپنے سر لے کر ووٹ فیصد میں اضافہ کرلیا ہے ۔ سماج وادی پارٹی کے اندر اس طرح کے پھوٹ کے آثار نمایاں ہونے کے باوجود یوپی کا سیاسی ماحول کس وقت کیا کروٹ لیتا ہے یہ کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا ۔ اگر اکھلیش یادو کو سماج وادی پارٹی سے نکال دیا گیا یا پھر انھوں نے ہی خود علحدہ ہونے کا اعلان کردیا تو ٹکٹ کی تقسیم کا مسئلہ پارٹی کو لے ڈوبے گا۔ یوپی کی حکومت میں پانچ سال کی مدت پورے کرنے والے چیف منسٹر اکھلیش یادو کو مستقبل میں پارٹی پر کنٹرول حاصل کرنے میں نازک دور سے گذرنا پڑے گا ۔ فی الحال اس نوجوان چیف منسٹر کو عوام میں مقبولیت حاصل ہے اور ان کا امیج بھی بہتر ہے ۔ ریاست کے ترقیاتی کاموں کے لئے ان کے رول کی ان گوشوں نے بھی ستائش کی ہے جو سماج وادی پارٹی کے کٹر حریف ہیں۔ یوپی میں لوگ انھیں پسند کرتے ہیں اور یوپی کے لہجہ میں یہ کہتے ہیں کہ ’’بھیا نے اچھا کام کیا ہے ‘‘ اگر بہار میں کئے گئے آر جے ڈی ، جنتادل یو اتحاد کی طرح یوپی میں بھی اکھلیش یادو نے عظیم اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے راشٹریہ لوک دل ، جنتادل یو اور کانگریس کو قریب کرلیا تو پھر یوپی کے نتائج یکطرفہ ہونے کی توقع پیدا ہوگی لیکن یوپی کا سیاستداں جانتا ہے کہ ملائم سنگھ یادو کے بغیر سماج وادی پارٹی کی کشتی کتنی دور تک چلے گی یہ کہنا مشکل ہے ۔ یوپی کے مسلمان بھی ایس پی کے حق میں ہوں گے تو بی جے پی کو برہمن طبقہ سے جو اُمید تھی وہ ختم ہوگی کیوں کہ برہمن طبقہ نے خود کو بی جے پی سے دور رکھنے کافیصلہ کیا ہے۔ یوپی کو بھی ایک عظیم سیاسی اتحاد ملتا ہے تو پھر کانگراس اس عظیم اتحاد کا اٹوٹ حصہ ہوگی لیکن سماج وادی پارٹی میں اکھلیش یادو اور شیوپال کے ٹکراؤ نے اُترپردیش کے سیاسی منظر کو ہی بدل کر رکھ دیا ہے ۔ اس سے کئی سیاستدانوں کی قسمت پر بھی اثر پڑسکتا ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی کو یوپی کی سیاسی اور سماجی و معاشی صورتحال میں ماضی کی حکمرانوں کی غلطیاں نظر آرہی ہیں ۔ انھوں نے دعویٰ کے ساتھ کہا کہ اگر بی جے پی کو اقتدار ملتا ہے تو وہ یوپی کو اُتم پردیش میں تبدیل کرکے رکھ دے گی ۔ ملائم سنگھ کی موجودگی میں سماج وادی پارٹی کو کمزور کردینا ممکن دکھائی نہیں دے رہا اگر یوپی میں سماج وادی پارٹی میں احتلافات نمایاں ہوں اور ملائم سنگھ یادو کو چیف منسٹر کی حیثیت سے منتخب کرلیا گیا تو یہاں سے یوپی کی سیاست میں ہائی وولٹیج ڈرامہ شروع ہوجائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT