Sunday , June 25 2017
Home / Top Stories / یوپی میں 65 اور اتراکھنڈ میں 68 فیصد رائے دہی

یوپی میں 65 اور اتراکھنڈ میں 68 فیصد رائے دہی

پولنگ بوتھس پر عوام کی طویل قطاریں، کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا: الیکشن کمیشن

لکھنؤ ؍ دہرہ دون ۔ 15 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش میں آج دوسرے مرحلہ کی رائے دہی 65 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ اتراکھنڈ میں ریکارڈ 68 فیصد رائے دہی ہوئی۔ دونوں ریاستوں میں صورتحال پرامن تھی۔ الیکشن کمیشن نے بتایا کہ اترپردیش کے 67 اسمبلی حلقوں میں بعض انتہائی حساس حلقے بھی تھے، لیکن رائے دہی پرامن رہی اور مجموعی طور پر ایسا لگ رہا تھا کہ ’’جمہوریت کا تہوار‘‘ منایا جارہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ اتراکھنڈ میں 68 فیصد سے زائدرائے دہی ریکارڈ کی گئی جو گذشتہ اسمبلی انتخابات کے مقابلہ 2 فیصد زیادہ ہے۔ اسمبلی کی 70 نشستوں کے منجملہ 69 پر رائے دہی ہوئی جبکہ کرناپریاگ حلقہ میں بی ایس پی امیدوار کی حادثاتی موت کے سبب رائے دہی کو ملتوی کرنا پڑا۔ اترپردیش میں آج بجنور، سہارنپور، مرادآباد، سنبھل، رامپور، بریلی، امرولہ، پیلی بھیت، کھیری، شاہجہاں پور اور بدایوں اضلاع میں رائے دہی ہوئی جہاں سیکوریٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ آج جن 67 حلقوں میں رائے دہی ہوئی حکمراں سماج وادی پارٹی نے 2012ء انتخابات میں 34 پر جبکہ بی  ایس پی نے 18، بی جے پی 10 اور کانگریس نے 3 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس وقت721 امیدوار بشمول 62 خاتون امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔ برہاپور (بجنور) میں سب سے زیادہ 22 امیدوار مقابلہ کررہے ہیں جبکہ دھناورا (امروہہ) میں سب سے کم چار امیدوار انتخابی میدان میں ہے۔ سماج وادی پارٹی کے مقبول لیڈر اعظم خاں اور ان کے فرزند عبداللہ اعظم کے علاوہ سابق کانگریس رکن پارلیمنٹ ظفر علی نقوی کے فرزند سیف علی نقوی، سابق مرکزی وزیر جتن پرساد اور دیگر کئی امیدواروں کی سیاسی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔ اتراکھنڈ میں الیکشن کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ 5 بجے شام تک 68 فیصد سے زائد افراد نے حق رائے دہی سے استفادہ کیا اور 5 بجے کے بعد بھی بوتھ کے باہر طویل قطاریں دکھائی دے رہی تھیں۔ کمیشن کے ترجمان نے کہا کہ قطعی رائے دہی 70 فیصد تک بھی ہوسکتی ہے۔ یہاں کئی حلقوں میں حکمراں کانگریس اور بی جے پی کا راست مقابلہ ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT