Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / ’’یوپی کے اسمبلی انتخابات میں عوام ذات پات سے بالاتر ہوکر ووٹ دیں‘‘

’’یوپی کے اسمبلی انتخابات میں عوام ذات پات سے بالاتر ہوکر ووٹ دیں‘‘

کالا دھن اور خاندان بچانے میں مصروف جماعتیں ریاست کو کیسے بچائیں گی ، لکھنو میں مہاپریورتن ریلی سے وزیراعظم مودی کا خطاب

لکھنو ۔2 جنوری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے اُترپردیش کے عوام پر زور دیا کہ وہ آنے والے اسمبلی انتخابات کے موقع پر ذات پات کے نام پر ترجیحات سے بالاتر رہیں۔ انھوں نے حریف جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو (قائدین ؍ جماعتیں) محض کالا دھن اور اپنے خاندانوں کو بچانے میں مصروف ہیں وہ ترقی نہیں لاسکتے ۔ وزیراعظم مودی نے آج یہاں مہا پریورتن ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی ( بی ایس پی ) اور سماج وادی پارٹی ( ایس پی ) کو سخت تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مسئلہ پر ان دونوں جماعتوں کے مابین کبھی کوئی اتفاق نہیں کیا لیکن آج یہ دونوں جماعتیں انھیں ( مودی کو ) ہٹانے کیلئے متحد ہوگئی ہیں کیونکہ وہ (مودی) کالا دھن ہٹارہے ہیں۔ مودی نے کہاکہ ’’کیا آپ نے کبھی ایس پی اور بی ایس پی کو متحد ہوتے دیکھا ہے۔ اگر ایس پی کہتی ہے کہ یہ طلوع آفتاب ہے تو بی ایس پی کہتی ہے کہ یہ غروب آفتاب ہے ۔ کئی سال بعد یہ دونوں جماعتیں ایک مسئلہ پر متحد ہوئی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ مودی کو بدلو ۔ مودی کو ہٹاؤ لیکن مودی کا کہنا ہے کہ آپ کے نوٹ بدلو  اور کالا دھن ہٹاؤ ‘‘ ۔ وزیراعظم نے کانگریس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایااور کہاکہ ’’چند جماعتیں ہیں جو منظرسے غائب تھیں اور ایک پارٹی ایس بھی ہے جو 15 سال سے ایک بیٹے کو آگے بڑھانے کی ناکام کوشش کررہی ہے ‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ایک اور پارٹی بھی ہے جس کی پریشانی یہ ہے کہ کالا دھن کہاں رکھا جائے ۔ وہ دور دور تک بینکوں کی تلاش میں ہے‘‘ ۔ وہ دراصل مایاوتی کی قیادت میں ایس پی کا بالواسطہ حوالہ دے رہے تھے جو نوٹ بندی کے بعد مبینہ بڑے پیمانے پر بینک ڈپازٹس کے سبب تفتیش کے دائرہ میں آرہی ہے۔ انھوں نے ملائم سنگھ یادو کے خاندان میں جاری جھگڑوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہاں ایک تیسری جماعت بھی ہے جو اپنے خاندان کے مقدر کو بچانے کیلئے اپنی تمام تر طاقت و توجہ مرکوز کرچکی ہے ‘‘۔ وزیراعظم مودی نے کہاکہ ’’اترپردیش کے عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا ایک پارٹی جس کے قائدین اپنی دولت بچانے میں مصروف ہیں کیا اُترپردیش کو بچاسکیں گے ؟ یا پھر ایک پارٹی جو پوری طرح خاندانی معاملت ( جھگڑوں) میں مصروف ہے وہ یوپی کو بچاسکے گی ؟ کسی کو دولت بچانا ہے ۔ کسی کو خاندان بچانا ہے لیکن وہ صرف ہم ( مودی) ہیں جو یوپی کو بچاسکتے ہیں‘‘ ۔ مودی نے ریلی میں عوام کی کثیرتعداد کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہا کہ ’’نہ صرف بی جے پی بلکہ ریاست کی ترقی ہی گزشتہ 14 سال سے جلاوطن ہے اور یہ صورتحال بہت جلد تبدیل ہوگی ۔ انھوں نے کہاکہ ’’اس ریاست کے عوام ذات پات اور خاندانی سیاست دیکھ چکے ہیں ۔ ایک مرتبہ ذات پات سے بالاتر ہوکر صرف ترقی کے لئے ووٹ دیں پھر دیکھیں کہ اُترپردیش بدلتا ہے یا نہیں ۔

TOPPOPULARRECENT