Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / یوگا ڈے پر ’اوم‘ کے جاپ کی ہدایت غیردستوری

یوگا ڈے پر ’اوم‘ کے جاپ کی ہدایت غیردستوری

حکومت کسی کو بھی ایسا کرنے کیلئے مجبور نہیں کرسکتی : پرسنل لا بورڈ
نئی دہلی ۔ 18 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ نے 21 جون کو یوگا ڈے تقاریب کے دوران ’’اوم‘‘ کا جاپ کرنے یو جی سی کی ہدایات پر شدید تنقید کی اور اسے غیردستوری قرار دیا۔ بورڈ کے رکن ظفریاب جیلانی نے کہا کہ ہندوستان کی حکومت دستور کے تحت چلائی جاتی ہے جو ایک سیکولر دستور ہے۔ اس میں کسی مخصوص طبقہ کے مذہبی احساسات کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت کو اس طرح کی ہدایات جاری کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا اور یہ دستور کی خلاف ورزی ہے۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کی کل جاری کردہ ہدایات کے بعد ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا جس میں تمام یونیورسٹیز اور کالجس سے کہا گیا ہیکہ وہ 21 جون کو یوگا ڈے کے موقع پر وزارت ایوش کے یوگا پروٹوکول پر عمل کریں۔ اس کے تحت یوگا کا آغاز ’’اوم‘‘ کے جاپ اور چند سنسکرت اشلوک سے ہوتا ہے۔ جناب ظفریاب جیلانی نے کہا کہ ’’اوم‘‘ ہندو مذہب کا ایک لفظ ہے اور دیگر طبقات جیسے مسلمانوں، عیسائیوں وغیرہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ حکومت عوام کو دیگر مذاہب کے منتروں کا جاپ کرنے کیلئے مجبور نہیں کرسکتی۔ اسی طرح حکومت کسی کو گیتا، رامائن یہاں تک کہ قرآن مجید پڑھنے کیلئے بھی مجبور نہیں کرسکتی۔ لہٰذا حکومت کے احکامات پوری طرح غیردستوری ہیں اور کوئی بھی اس کے مجاز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس مسئلہ پر بورڈ کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے اس بارے میں فیصلہ صرف آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ہی کرے گا۔ کانگریس اور جنتادل (یو) نے حکومت کے اس اقدام کی سخت مخالفت کی اور اسے بے حس قرار دیا جبکہ بی جے پی نے کہاکہ گذشتہ سال کے پروٹوکول پر عمل کیا جارہا ہے۔
یوگا کو لازمی قرار دینا قابل قبول نہیں
دارالعلوم دیوبند
میرٹھ ۔ 18 مئی (سیاست ڈاٹ کام) دارالعلوم دیوبند نے یوگا ڈے کیلئے آیوش کے پروٹوکول پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یوگا کو مذہبی رسومات سے مربوط کرنا غلط ہے۔ اگر مسلم طلبہ کویوگا کے دوران منتر یا اوم کا جاپ کرنے کیلئے مجبور کیا جائے تو انہیں ایسے پروگرام سے دوری اختیا ر کرلینی چاہئے۔ نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند مولانا عبدالقاسم نعمانی نے کہا کہ اگر یوگا صرف ایک جسمانی ورزش ہو تو ہم اس کی اجازت دے سکتے ہیں لیکن اوم کا جاپ اور ویدوں کے منتر پڑھتے ہوئے اسے مذہبی شکل دی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کیلئے اسے لازمی قرار دینا بھی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوگا آپ کیلئے فائدہ مند ہوسکتا ہے لیکن میرے لئے نہیں۔ اس لئے کسی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

TOPPOPULARRECENT