Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / یوگی آدتیہ ناتھ اور موریا کو نااہل قرار دینے کا کیس، ہائی کورٹ کی نوٹس

یوگی آدتیہ ناتھ اور موریا کو نااہل قرار دینے کا کیس، ہائی کورٹ کی نوٹس

مرکز اور یوپی حکومت کو جواب داخل کرنے کی ہدایت، پارلیمنٹیرین ریاستی وزیر نہیں بن سکتا

لکھنو۔24 مئی (سیاست ڈاٹ کام) الہ آباد ہائی کورٹ نے آج مرکز اور اترپردیش حکومتوں کو ہدایت دی کہ وہ ایک درخواست کے جواب میں اپنا ردعمل ظاہر کریں۔ درخواست گزار نے چیف منسٹر یو پی یوگی آدتیہ ناتھ اور ڈپٹی چیف منسٹر کیشوا پرساد موریا کو نااہل قرار دینے کی اپیل کی ہے کیوں کہ ان دونوں نے اپنے پارلیمانی عہدوں سے استعفیٰ نہیں دیا ہے۔ لکھنو بنچ ہائی کورٹ نے قبل ازیں اٹارنی جنرل کو ایک نوٹس جاری کی تھی۔ اٹارنی جنرل ملک کا اعلی ترین قانونی اکسری ہوتا ہے۔ جس کے باعث ہی ایڈیشنل سولیسیٹر جنرل اشوک مہتا اور یو پی ایڈوکیٹ جنرل راگھویندر سنگھ آج عدالت میں حاضر ہوئے۔ عدالت نے ان سے کہا کہ وہ ایک جنوابی حلف نامہ داخل کریں تاکہ اس معاملہ پر فیصلہ کیا جاسکے۔ یہ ڈیویژن بنچ جسٹس سدھیر اگروال اور وریندر کمار پر مشتمل ہے۔ بنچ نے سنجائی شرما کی جانب سے داخل کردہ درخواست پر حکم دیا ہے۔ درخواست گزار نے دستور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دستور میں واضح کیا گیا ہے کہ ایک پارلیمنٹرین کسی ریاستی حکومت میں وزیر نہیں بن سکتا۔ انوہں نے مطالبہ کیا کہ چیف منسٹر اترپردیش کی حیثیت سے یوگی آدتیہ ناتھ اور ڈپٹی چیف منسٹر کی حیثیت سے کیشو پرساد موریا کو مقرر کرنا دستور کے مغائر ہے۔ لہٰذا دونوں کے تقررات کو کالعدم قراردیا جائے اور ان کی پارلیمانی نشستوں کے مخلوعہ ہونے کا اعلان کردیا جائے۔ آدتیہ ناتھ گورکھپور کے رکن لوک سبھا ہیں اور موریا پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں کھلوپور کی نمائندگی کرتے ہیں۔ درخواست گزار نے پارلیمانی (انسداد ناایکٹ) قانون کے دستور دفعہ 3(A) کا حوالہ دیا اور اس کو چیلنج بھی کیا ہے۔ مرکزی قانون کے دستور میں بنایا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل کی سماعت کے بغیر اس کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے عدالت نے مرکز اور ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کی ہے۔ واضح رہے کہ ادتیہ ناتھ یوگی کو حالیہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی بھاری کامیابی کے بعد چیف منسٹر بنایا گیا اور ریاستی لیڈر موریا کو ڈپٹی چیف منسٹر بنایا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT