Thursday , August 24 2017
Home / مضامین / یوگی کی انفرادیت پسند روِش سے بی جے پی خائف

یوگی کی انفرادیت پسند روِش سے بی جے پی خائف

 

رادھیکا راماسشن
لکھنو کے شاستری بھون (ملحقہ عمارت) کے پنچم تال (پانچویں منزل) میں روایتی طور پر اتر پردیش کے چیف منسٹر کا دفتر قائم رہا ہے۔ تاہم، جب یوگی ادتیہ ناتھ چیف منسٹر بنے، انھوں نے دیکھا کہ پنچم تال پر تو دیگر مکین آچکے ہیں۔ کیشو پرساد موریا جو ادتیہ ناتھ کے تحت دو ڈپٹی چیف منسٹروں میں سے ہیں، انھوں نے چپکے سے سی ایم کے چیمبر میں خود کیلئے جگہ بنالی، شاید یہی سوچ کر کہ ادتیہ ناتھ کسی نئے دفتر کو منتخب کریں گے جو اُن کیلئے بی جے پی ہیڈکوارٹرس کے بازو لوک بھون میں بنایا جارہا ہے۔ لیکن لوک بھون میں تب ہنوز جاری کام کو دیکھتے ہوئے ادتیہ ناتھ کو موریا کی مبینہ چالاکی کے تعلق سے مطلع کیا گیا۔ کوئی وقت ضائع کئے بغیر ڈپٹی سی ایم کو ’’شائستگی سے کہہ دیا گیا‘‘ کہ ودھان سبھا میں الاٹ کردہ اپنے دفتر کو منتقل ہوجائیں۔ موریا کے نام کی تختی اُن کی منتقلی سے قبل نکال کر اس کی جگہ یوگی کی تختی لگا دی گئی۔ دوسری طرف موریا کے رفیق دنیش شرما نے حماقت کے مقابل ہوشمندی سے کام لیا۔
ادتیہ ناتھ کو سی ایم بنانے سے قبل کے دنوں میں موریا کے حامیوں نے لکھنؤ میں ایک اہم اجلاس کے دوران اُن کے حق میں نعرے لگائے تھے، جو انتخابی نتائج کا اعلان ہوجانے کے بعد منعقد کیا گیا تھا۔ حتیٰ کہ اب بھی بی جے پی ہیڈکوارٹرس میں کئی گوشے اُس کام کی تعریف کرتے ہیں جو موریا نے چناؤ سے ایک سال قبل پارٹی کی باگ ڈور سنبھالتے ہوئے انجام دیا۔ موریا کے ایک پرستار کا کہنا ہے کہ انھوں نے بی جے پی کیڈر میں جوش و خروش پیدا کیا جو لوک سبھا الیکشن کے بعد خوابیدہ ہوچلا تھا۔ خود موریا سے اُن کے مبینہ عزائم کے تعلق سے پوچھنے پر انھوں نے کہا: ’’وہ جو اشارہ کنایہ میں باتیں کررہے ہیں انھیں ہماری (بی جے پی) تنظیم کے تعلق سے کچھ اندازہ نہیں ہے۔ یوگی جی کو (سی ایم) بنانے کا فیصلہ اچھا فیصلہ ہے، یہ بی جے پی کا فیصلہ رہا۔ جہاں تک میرا معاملہ ہے، اقتدار کے نظام میں بہت تھوڑے لوگ اتنی تیزی سے عروج پر پہنچے جیسا میں نے کیا ہے۔‘‘

تاہم، یو پی بی جے پی میں یہی باتیں ہورہی ہیں کہ موریا ، سی ایم کے مقابل توازن قائم رکھنے کیلئے مناسب لیڈر ہے، کیونکہ ادتیہ ناتھ کی انفرادیت پسندانہ روش پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو ہنوز پریشان کرتی ہے۔ سنگھ نے آشکار کیا ہے کہ کئی برس قبل ادتیہ ناتھ کی تشکیل شدہ ’’ہندو یووا واہینی‘‘ نامی ’’سماجی‘‘ تنظیم کو اس کی منظوری حاصل نہیں کیونکہ ابھی تک گورکھپور اور مشرقی یو پی کے حصوں تک محدود واہینی نے مغربی اضلاع میں اپنی سرگرمیاں پھیلائے ہیں جو خود کو سنگھ اور اس کی معاون تنظیموں وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بجرنگ دل کے متوازی کام کرنے کی کوشش ہے۔ آر ایس ایس نے وی ایچ پی اور بجرنگ دل کی سرگرمیوں کو قابو میں کرنے ادتیہ ناتھ کے اختیارات پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ سنگھ نے اشارہ دیا ہے کہ واہینی نے سماجی طور پر اشتعال انگیز واقعات کیلئے اُکسایا جو گزشتہ دو ماہ کے دوران مغربی یو پی میں پیش آئے ہیں۔ادتیہ ناتھ نے اپنی طرف سے سنگھ کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے۔ 15 مئی کو وی ایچ پی کے زیراہتمام تقریب میں جہاں وہ مہمان خصوصی تھے، انھوں نے آر ایس ایس کی تنظیم کے طور پر ستائش کی جس نے ’’بے غرضی سے کام کیا‘‘ اور ’’فرقہ پرست بمقابل قوم پرست‘‘ کے مسئلہ کی یکسوئی کیلئے مباحث پر زور دیا۔
واہینی کے ساتھ آر ایس ایس۔ بی جے پی کے تال میل کے تعلق سے پوچھنے پر یو پی بی جے پی ترجمان چندرموہن نے کہا کہ پارٹی نے کبھی کوئی الیکشن ایسی کسی تنظیم کے بیانر تلے نہیں لڑا ہے۔ یووا واہینی کا کوئی کارکن ہمارے دفتر کو نہیں آتا ہے۔ اس کے پروگرام حسب معمول چل رہے ہیں کیونکہ یہ خودمختار تنظیم ہے۔ آج کل واحد فرق یہ ہے کہ میڈیا اس پر توجہ دے رہا ہے۔ تاہم، ڈپٹی سی ایم شرما سے جب پوچھا گیا کہ سہارنپور، میرٹھ اور سنبھل میں حالیہ تشدد کے پس پردہ کون ہے، انھوں نے کہا، ’’بی جے پی کے ورکرز پابند ڈسپلن ہیں لیکن میں یووا واہینی کو شامل نہیں کررہا ہوں‘‘، جو مؤثر طور پر اشارہ ہے کہ واہینی کو بدستور شبہ کے دائرے میں رکھتے ہوئے پارٹی خوش ہے۔واہینی کو دفاع پر مجبور ہونا پڑسکتا ہے، یہی کچھ اس کے جنرل سکریٹری پی کے مل کی باتوں سے عیاں ہوا، جنھوں نے کہا: ’’ہماری کوئی رجسٹرڈ پارٹی نہیں ہے۔ ہمارے تین ایم ایل ایز نے بی جے پی کے انتخابی نشان پر چناؤ لڑا ہے۔ بدبختی سے ہماری آرگنائزیشن کے بیانر کا حالیہ عرصہ میں ہمارے سیاسی حریفوں نے غلط استعمال کیا ہے تاکہ چیف منسٹر یوگی کو بدنام کیا جائے۔ یہ تو اَب عام منظر ہوچلا ہے کہ چور بدمعاش لوگ زعفرانی ’گمچے‘ پہن کر گھومتے ہیں اور یوگی جی کی تائید میں نعرے لگاتے ہیں۔ ہم نے تحقیق کی اور معلوم ہوا کہ وہ سماجوادی پارٹی کارکنان ہوتے ہیں۔ ’’مہاراج (ادتیہ ناتھ) فکرمند ہیں اور ہمیں بی جے پی کے ساتھ تال میل میں کام کرنے کیلئے کہا ہے۔‘‘
جہاں تک بی جے پی کا معاملہ ہے، وہ اس چوکھٹے کے تعلق سے صاف صاف موقف رکھتی ہے جس میں ادتیہ ناتھ اور ان کی واہینی کے ساتھ اس کے تعلقات استوار ہوں گے۔ ایک بی جے پی لیڈر نے کہا: ’’بلاشبہ، یوگی آج یو پی میں بہت مقبول چہرہ ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جیسا چاہے اپنی مرضی چلائے۔ لکشمن ریکھائیں ہیں۔ ہم یقین ہے وہ ان کو نہیں پھلانگیں گے۔‘‘ مثال کے طور پر ادتیہ ناتھ کبھی اس حق و اختیار سے تجاوز نہیں کریں گے جس کی بی جے پی کے ماقبل چناؤ منشور ’’سنکلپ پتر‘‘ میں صراحت ہے۔ ادتیہ ناتھ کو معلوم ہے کہ ان کی حکومت کو لازماً اپنی پیشرو حکومتوں سے مختلف ہونا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے نریندر مودی کے نقش قدم پر چلنے کا عہد کیا ہے۔ انھوں نے وی وی آئی پی کلچر کو مٹانے کیلئے تیزی سے اقدامات کرتے ہوئے وزراء اور عہدیداروں سے اپنی گاڑیوں سے لال بتیاں نکال دینے کیلئے کہا۔ عوام نے اس اقدام کو اچھا مانا ہے۔

اقتدار کے درجات

یوگی ادتیہ ناتھ
ان کا فخر اور وقار … ہندو یووا واہینی … پابندی کی زد میں تو نہیں آیا، لیکن اس کی سرگرمیوں کو شدید طور پر محدود کردیا گیا ہے۔ خود واہینی محتاط و چوکنا ہوگئی، اسے اچھی طرح اندازہ ہے کہ وہ بی جے پی یا آر ایس ایس کے عتاب کو دعوت دینا ہرگز نہیں چاہے گی۔
کے پی موریا
وہ شخص جسے اعلیٰ منصب لگ بھگ مل چکا تھا، لیکن پھر ایسا نہیں ہوا۔ موریا کو ڈپٹی چیف منسٹر مقرر کیا گیا مگر انھوں نے اپنے عزائم کو پوشیدہ نہیں رکھا ہے۔ کیا یہ بات مستقبل میں سیاسی جھگڑے کا نکتہ ثابت ہوسکتی ہے؟
دنیش شرما
نرم گفتار اور خاموش طبع شخص جن کے پاس حکمرانی کے بعض منصوبے ہیں۔ لیکن کیا ڈپٹی چیف منسٹر (جو موریا کے ساتھ مشترک عہدہ ہے) ہونے کے ناطے وہ یو پی ڈیولپمنٹ پراجکٹ کو مزید آگے بڑھا پائیں گے؟

 

TOPPOPULARRECENT