Wednesday , May 24 2017
Home / Top Stories / یوگی کے حلقہ میں بی جے پی رکن اسمبلی کی خاتون پولیس افسر سے بدسلوکی

یوگی کے حلقہ میں بی جے پی رکن اسمبلی کی خاتون پولیس افسر سے بدسلوکی

سینئر خاتون آئی پی ایس افسر اشکبار ، شراب کی دوکان کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو ہٹانے پر تنازعہ
گورکھپور ۔8مئی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) اُترپردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کے پارلیمانی حلقہ گورکھپور میں احتجاجیوں کو باہر نکالنے کے مسئلہ پر بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی سے تلخ بحث کے درمیان ایک خاتون آئی پی ایس افسر اشکبار ہوگئیں اور یہ واقعہ کیمروں میں قید کرلیا گیا جو بعد ازاں سوشیل میڈیا اور ٹیلی ویژن چینلوں کے درمیان منظرعام پر آنے کے بعد تنازعہ میں تبدیل ہوگیا ۔ گورکھپور شہر کے کریمنگر علاقہ میں یہ واقعہ پیش آیا جہاں چند افراد شراب کی دوکان کے خلاف احتجاج کررہے تھے جنھیں پولیس نے وہاں سے ہٹادیا ۔ اس دوران احتجاجیوں کی اس شکایت کے درمیان کہ سرکل افسر چارونگم نے زبردستی ہٹادیا بی جے پی کے مقامی رکن اسمبلی رادھا موہن داس اگروال وہاں پہونچ گئے ۔ احتجاجیوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے ایک عورت کی پٹائی کی اور 80 سالہ شخص کو گھسیٹا تھا جس پر رکن اسمبلی نے اس خاتون پولیس افسر سے ان کی کارروائی کے بارے میں سوال کیا اور کہا کہ حکومت کے احکام ہیں کہ گنجان آبادی والے علاقوں میں شراب کی دوکانیں نہیں رہیں گی ۔ بحث و تکرار اور الفاظ کے تبادلہ کے درمیان چارونگم اپنی دستی نکال کر آنسو پونچھتی دیکھی گئیں اور اس منظر کو کیمروں میں قید کرنے کے بعد مختلف ٹیلی ویژن چینلوں سے ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔ بعد ازاں خاتون پولیس افسر نے اس رکن اسمبلی پر ان سے بدسلوکی اور اہانت کرنے کا الزام عائد کیا ۔ چارونگم نے کہاکہ ’’رکن اسمبلی نے مجھ سے بدسلوکی کی اور بھرے ہجوم میں یہ اعتراف کرنے سے انکار کردیا کہ وہ ایک خاتون پولیس افسر سے مخاطب ہیں‘‘ ۔ فٹیج میں آنسو پونچھتی دکھائی جانے پر انھوں نے کہا کہ ’’میں رو نہیں رہی تھی کیونکہ یہ میری فطرت اور مزاج میں نہیں ہے ۔ لیکن میں اس وقت جذباتی ہوگئی جب میرے سینئر افسر نے میری تائید کی تھی ‘‘ ۔ چارونگم نے کہاکہ احتجاجیوں کو اس لئے ہٹادیا گیا کہ وہ ٹریفک روک رہے تھے اور جب رکن اسمبلی وہاں پہونچے اُس وقت سڑک پر احتجاجی نہیں تھے جس پر وہ ( رکن اسمبلی ) چراغ پا ہوگئے اور کہا کہ تمام احتجاجیوں کو جمع ہونے دیا جائے اور اُن کی طرف سے ترغیب دینے کے بعد ہی واپس کیا جائے ۔ دوسری طرف اگروال نے خاتون آئی پی ایس افسر پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے احتجاجیوں پر دست درازی کی جو اپنے محلہ میں واقع شراب کی دوکان بند کرنے کا مطالبہ کررہے تھے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہم شراب کی د وکانیں چلائے جانے کے خلاف ہیں۔ شراب کی د وکانات کے خلاف ہم پرامن احتجاج کررہے تھے ۔ خاتون پولیس افسر نے احتجاجیوں کو زبردستی ہٹادیا ۔ انھوں نے ایک عورت کی پٹائی کی اور ایک 80 سالہ شخص کو گھسیٹا اور اس حرکت کو بہ آسانی برداشت نہیں کیا جاسکتا‘‘۔ اگروال نے خاتون پولیس افسر سے بدسلوکی کے الزام کو مسترد کردیا اور جوابی الزام عائد کیا کہ پولیس اور شراب مافیا کے درمیان اندرونی ساز باز ہوگئی کیونکہ شراب کی ایک دوکان جو 15 دن سے بند تھی اچانک کھل گئی ۔ مقامی ٹی وی چینلوں کی طرف سے ٹیلی کاسٹ کئے گئے فٹیج پر تبصرہ کی خواہش پر اگروال نے جواب دیا کہ ’’کیا میں ان کے ساتھ بدسلوکی کرتے دیکھا گیا ہوں ؟ میں سی او ( چارو نگم ) سے نہیں بلکہ ایس پی ( سٹی ) سے بات کررہا تھا ۔ میری جسمانی حرکات و سکنات کو غور سے دیکھئے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT