Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / یو سی سی : لا کمیشن کے سوالنامے پر صرف بی ایس پی کا جواب باقی

یو سی سی : لا کمیشن کے سوالنامے پر صرف بی ایس پی کا جواب باقی

وزیراعظم مودی عوام پر آر ایس ایس کا ایجنڈا مسلط کرنے کوشاں، بی ایس پی لیڈر کا الزام

نئی دہلی۔11 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) یکساں سیول کوڈ (یو سی سی ) کے بارے میں لا کمیشن کے سوالنامے پر سیاسی جماعتوں کے ردعمل کا جہاں تک معاملہ ہے، ابھی تک صرف بی ایس پی (بہوجن سماج پارٹی) کا جواب باضابطہ داخل کیا گیا ہے، جس میں وزیراعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ عوام پر آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کا ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لا کمیشن کی جانب سے اپنے سوالنامے پر جواب داخل کرنے کی درخواست پر اپنے ردعمل میں بی ایس پی جنرل سکریٹری ستیش مصرا نے کہا کہ پارٹی مایاوتی کی جانب سے لکھنو میں 25 اکٹوبر کو جاری کردہ صحافتی بیان منسلک کررہی ہے۔ لا پیانل کے پیش کردہ 16 سوالات کا جواب دینے کی بجائے بی ایس پی نے گزشتہ ہفتے ارسال کردہ اپنے مکتوب میں کہا کہ پارٹی سربراہ کا جاری کردہ صحافتی بیان ہی اس سوال نامے پر اس کا جواب ہے۔ بی ایس پی کے بیان میں کہا گیا کہ بی جے پی مرکز میں جب سے برسر اقتدار آئی ہے، عوام پر آر ایس ایس کا ایجنڈا مسلط کرنے کوشاں ہے۔

اس بیان میں مایاوتی نے دستور میں مضمر حق مذہبی آزادی کے پس پردہ بھیم رائو امبیڈکر کے ویژن پر بھی زور دیا تھا۔ یکساں سیول کوڈ کے پیچیدہ مسئلہ پر اپنی مشاورت کو وسعت دینے کی سعی کرتے ہوئے لا کمیشن نے گزشتہ ماہ تمام قومی اور ریاستی سطح کی سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ اپنی رائے اور خیالات کا تبادلہ کریں تاکہ اس موضوع پر گفت و شنید کے لئے متعلقہ نمائندوں کو مدعو کیا جاسکے۔ پیانل نے اس موضوع پر پارٹیوں کے لئے سوالنامہ بھیجتے ہوئے ان سے کہا تھا کہ اپنی رائے 21 نومبر تک داخل کردیں۔ اس مسئلہ پر لا پیانل کی جانب سے سوالنامے کی اجرائی اور آرا کی طلبی کو اہمیت حاصل ہے کیوں کہ سپریم کورٹ نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ وسیع تر مباحث کو ترجیح دے گی جو عدلیہ کے ساتھ ساتھ عوامی گوشوں میں بھی منعقد کئے جائیں، اور اس کے بعد ہی ’طلاق ثلاثہ ‘ کی دستوری اہمیت کے تعلق سے کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ عام گوشوں میں ایسی شکایت پیش کی جارہی ہے کہ مسلم مرد حضرات اپنے اختیار طلاق کا من مانی استعمال کررہے ہیں۔ ہندوستان کی دستوری تاریخ میں پہلی مرتبہ مرکز نے 7 اکٹوبر کو سپریم کورٹ میں حلفیہ بیان داخل کرتے ہوئے طلاق ثلاثہ ، نکاح حلالہ اور کثرت ازدواج کی مخالفت کی اور بیان کیا کہ مسلمانوں میں ان پر عمومی طور پر عمل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ مرکز نے جنس کی مساوات اور سکیولرازم کے بارے میں نظرثانی کی تائید بھی کی۔ یہ تبدیلی کا پس منظر ایک مسلم خاتون کی جانب سے کثرت ازدواج، طلاق ثلاثہ اور نکاح حلالہ کے جواز کو چیلنج ہے۔ اس خاتون کو اس کے شوہر نے دبئی سے فون پر طلاق دے دی تھی۔ چنانچہ یہ خاتون سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی اور اپنی عرضی کے بارے میں مرکز سے ردعمل ظاہر کرنے کی استدعا کی۔

TOPPOPULARRECENT