Tuesday , March 28 2017
Home / Top Stories / یو پی اسمبلی انتخابات کے تیسرے مرحلہ میں 61فیصد رائے دہی

یو پی اسمبلی انتخابات کے تیسرے مرحلہ میں 61فیصد رائے دہی

اکھلیش ، راجناتھ سنگھ ، مایاوتی نے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ، کامیابی کے بارے میں متضاد دعوے

لکھنو۔19فبروری ( سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے چیف الکٹورل آفیسر ٹی وینکٹیش نے کہا کہ یو پی اسمبلی انتخابات کے تیسرے مرحلہ کی رائے دہی میں ووٹنگ کا فیصد 61.16 فیصد رہا اور رائے دہی بحیثیت مجموعی پُرامن انداز میں منعقد ہوئی ‘ جب کہ مرکز میں برسراقتدار بی جے پی اور اس کی حریف سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی نے اپنی اپنی کامیابی کے بارے میں ایک دوسرے سے متضاد دعوے کئے ہیں ۔چیف منسٹر اکھلیش یادو نے سائیفائی (ایٹاوہ) ،مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور ان کے ارکان خاندان نے لکھنؤ جبکہ بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے بھی لکھنؤ میں حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ اکھلیش نے کہا کہ عوام نے اس بار ایس پی ۔ کانگریس اتحاد کو کامیاب بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ الہ آباد سے موصولہ اطلاع کے بموجب بی جے پی نے آج سماج وادی پارٹی ۔ کانگریس اتحاد کو غیرفطری ‘ مصنوی اور موقع پرست اتحاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یو پی میں تبدیلی کی آندھی ریاست گیر سطح پر اور بی جے پی کی تائید میں چل رہی ہے ۔ بی جے پی کے قائد مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے کہا کہ ہمیں حیرت ہے کہ اکھلیش یادو کو کیسے معلوم ہوگیا کہ کانگریس یو پی میں تبدیلی لاسکتی ہے جب کہ ان کے سامنے اس کا پورا ریکارڈ موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صرف لال بہادر شاستری ‘ نرسمہا راؤ اور وی پی سنگھ مثالی شخصیتیں کہی جاسکتی ہیں ۔

نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب کانگریس ۔ ایس پی اتحاد پر تنقید کرتے ہوئے بی جے پی قائد مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری نے کہا کہ بی جے پی کارکنوں کی پارٹی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ’’ ماں بیٹے ‘‘ کی پارٹی اور سماج وادی ’’ باپ بیٹے ‘‘ کی پارٹی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاست سہولت ‘ تضادات ‘ مجبوریوں اور تحدیدات کا کھیل ہے ۔جب سماج وادی پارٹی کو احساس ہوا کہ وہ اپنے بل بوتے پر کامیابی حاصل نہیں کرسکتی تو اس نے بے بسی کے عالم میں کانگریس کا ہاتھ تھام لیا ‘ حالانکہ ملائم سنگھ یادو کبھی بھی کانگریس سے اتحاد کرنے پر تیار نہیں تھے ۔ ملائم سنگھ یادو کے آبائی قصبہ ایٹاوا سے موصولہ اطلاع کے بموجب سماج وادی پارٹی کے سرپرست ملائم سنگھ یادو نے آج کہا کہ پارٹی میں کوئی اختلافات نہیں ہے اور ان کے فرزند اکھلیش یادو دوبارہ یو پی کے چیف منسٹر بنیں گے ۔ وہ اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی میں کوئی پھوٹ نہیں پڑی ۔ اکھلیش یادو چیف منسٹر بنیں گے کیونکہ اُن کے دور حکومت میں کافی ترقیاتی کام ہوا ہے ۔ مایاوتی نے ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ 403 کے منجملہ 300 نشستوں پر بہوجن سماج پارٹی کامیابی حاصل کرے گی ۔ کانگریس اور بی جے پی کے برعکس وہ انتخابی ریالیوں میں عوام کی کثیر تعداد میں شرکت کو دیکھتے ہوئے یہ کہہ سکتی ہیں کہ آئندہ چیف منسٹر وہی ہوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ عوام ایس پی کے غنڈہ راج سے عاجز ہوچکے ہیں ۔
اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد انہوں نے رائے دہندوں سے کہا کہ وہ بھی سماج وادی پارٹی کی تائید میں ووٹ دیں ۔ اس سوال پر کہ پارٹی امیدواروں کی انتخابی مہم میں سرگرم حصہ کیوں نہیں لیا ‘ انہوں نے کہا کہ میں انتخابی مہم میں شامل تھا اور اگر میں صرف انتخابی مہم میں مصروف ہوجاتا تو دوسرے پہلو تشنہ تکمیل رہ جاتے ۔ یو پی میں 7مرحلوں میں رائے دہی مقرر ہے جن میں سے دو مکمل ہوچکے ہیں اور تیسرا مرحلہ آج منعقد ہوا ‘ باقی مرحلہ 23‘27 فبروری اور 4 و 8 مارچ کو منعقد ہوں گے ۔ رائے شماری اور نتائج کا اعلان 11مارچ کو مقرر ہے ۔ شیوپال یادو کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے ملائم سنگھ نے کہا کہ وہ زبردست کامیابی حاصل کریں گے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT