Friday , June 23 2017
Home / اداریہ / یو پی ‘ فرقہ پرست بے لگام

یو پی ‘ فرقہ پرست بے لگام

کیا ارادہ ہے ترے دل کا خبر کیا ہم کو
بے تکلف ترے اقرار سے جی ڈرتا ہے
یو پی ‘ فرقہ پرست بے لگام
اترپردیش میں حالانکہ ابھی بی جے پی نے اپنی حکومت قائم نہیں کی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ لوک سبھا انتخابات 2014 کی طرح اسمبلی انتخابات 2017 میں بی جے پی کی کامیابی نے ایک بار پھر فرقہ پرستوں کو بے لگام کردیا ہے ۔ یہاں فرقہ پرست عناصر ایک بار پھر اپنے ناپاک عزائم کو پورا کرنے سرگرم ہوتی نطر آر ہی ہیں۔ یہاں بی جے پی کو اسمبلی انتخابات میںدو تہائی اکثریت حاصل ہوگئی ہے ۔ حالانکہ ابھی یہاں پارٹی نے باضابطہ اپنی حکومت قائم نہیں کی ہے اور چیف منسٹر کا انتخاب بھی کیا جانا باقی ہے اس کے باوجود فرقہ پرست عناصر اپنے ایجنڈہ پر عمل آوری کی کوششیں شروع کرچکے ہیں۔ یہاں گاوں دیہاتوں میں مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ بریلی کے ایک گاوں میں مسلمانوں کو چلے جانے کا حکم دیدیا گیا ہے ۔ گاوں میں تقریبا دو درجن مقامات پر ایسے پوسٹرس ہندی زبان میں تحریر کئے گئے ہیں جن میں مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گاوں چھوڑ کر چلے جائیں۔ انہیں گاوں نہ چھوڑنے پر سنگین نتائج کا انتباہ بھی دیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ میں جو سلوک مسلمانوں کے ساتھ کر رہے ہیں اب اترپردیش میں مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک ہوگا ۔ اس کے علاوہ ریاست کے ایک اہم شہر دیوبند کا نام بدلنے کیلئے بھی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ اس شہر کے نام کو بھی ہندو طرز میں ڈھالنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے ۔ یہ دو واقعات دو دن میں سامنے آئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ فرقہ پرست عناصر یہاں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے کتنے بے چین ہیں۔ حالانکہ بریلی کے گاوں سے پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے پوسٹرس کو نکال دیا گیا ہے لیکن ابھی تک یہ پتہ نہیں چلایا جاسکا ہے کہ آخر یہ پوسٹرس اچانک ہی کہاں سے نمودار ہوگئے اور اس کیلئے کون ذمہ دار ہیں۔ ریاستی انتظامیہ ابھی چونکہ پوری طرح سرگرم اور کارکرد نہیں ہوا ہے ایسے میں ان عناصر کا پتہ چلانا فوری طور پر مشکل نظر آر ہا ہے لیکن ان پوسٹرس سے واضح ہوگیا ہے کہ آئندہ وقتوں میں ریاست میں مسلمانوں کے ساتھ کیا حالات پیش آنے والے ہیں ۔ یہ اندیشے بے بنیاد نہیں ہوسکتے کہ ریاست میں مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کیا جائے گا ۔
انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی اور وہ بھی دو تہائی اکثریت کا حصول اس کی ایک سیاسی کامیابی ہوسکتی ہے لیکن اس کے ذریعہ ریاست میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ شبہات ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ ریاست میں جب نئی حکومت تشکیل پا جائیگی تو فرقہ پرست عناصر اور بھی زیادہ سرگرم ہوجائیں گے اور اپنے نفرت انگیز اور ناپاک ایجنڈہ کو آگے بڑھانے کیلئے یہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ ان اندیشوں کو دیکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ ان عناصر کے خلاف لگام کسنے کا کام فوری طور پر شروع کیا جائے ۔ ریاست میں تشکیل پانے والی نئی بی جے پی حکومت کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس طرح کے عناصر کو اترپردیش کا فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول متاثر کرنے کی اجازت نہ دے کیونکہ اس کے ملک کے دوسرے حصوں پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور سماج میں اگر بے چینی اور عدم اطمینان کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو اس سے ملک کی ترقی متاثر ہوسکتی ہے ۔ ملک اور خاص طورپر اترپردیش ریاست کے سامنے معاشی مسائل ہیں۔ وہاں نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جانا چاہئے ۔ وہاں خواتین کی فلاح و بہبود کی نئی اسکیمات شروع کی جانی چاہئے ۔ وہاں فیکٹریاں اور کارخانے قائم ہونے چاہئیں۔ برقی کی پیداوار میں اضافہ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ انفرا اسٹرکچر کی فراہمی کو ترجیح دی جانی چاہئے ۔ لا اینڈ آرڈر کی بہتری حکومت کی فوری توجہ کی طالب ہے ۔ یہاں نگہداشت صحت کے شعبہ کو موثر بنانے کیلئے حکومت کی جانب سے فوری اقدامات کئے جانے چاہئیں۔
عوام کی بنیادی ضروریات سے جڑے ہوئے مسائل کو اگر پس پشت ڈال کر فرقہ پرستانہ اور آر ایس ایس کے ایجنڈہ پر عمل کیا جاتا ہے تو پھر اس سے نہ صرف سماج میں عدم طمانیت کا احساس پیدا ہوگا بلکہ ریاست کے عوام نے ترقی کی جن امیدوں کے ساتھ بی جے پی کو ووٹ دیا ہے وہ بھی دھری کی دھری رہ جائیں گی ۔ ان عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی کی ضرورت ہے جو سماج کے دو اہم طبقات کے مابین نفرتوں کا بازار گرم کرنے کیلئے سرگرم ہوگئے ہیں ۔ان عناصر کے ناپاک عزائم اور ایجنڈ ہ کو فوری روک لگانا چاہئے تاکہ ریاست میں مسلمان عدم تحفظ اور عدم طمانیت کے احساس کا شکار نہ ہونے پائیں بلکہ وہ بھی دیگر ابنائے وطن کی طرح پرسکون زندگی گذار سکیں اور اپنی زندگیوں کو ترقی کے ثمرات میں حصہ داری کے ساتھ بہتر بناسکیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT