Sunday , September 24 2017
Home / اداریہ / یو پی ‘ مفاد پرست عناصر پھر سرگرم

یو پی ‘ مفاد پرست عناصر پھر سرگرم

وہ اضطرابِ دل ہو کہ دل کی تسلّیاں
اب تو سکونِ درد بھی حاصل کہیں نہیں
یو پی ‘ مفاد پرست عناصر پھر سرگرم
سیاسی اعتبار سے ملک کی سب سے حساس ترین ریاست اترپردیش میں انتخابات کا بگل بج چکا ہے ۔ یہاں ملک کی دوسری ریاستوں کے ساتھ انتخابات ہونگے ۔ ہر ریاست میں الگ الگ مراحل میں انتخابات ہونگے ۔ اترپردیش کیلئے الیکشن کمیشن نے سات مراحل پر مبنی شیڈول جاری کردیا ہے ۔ ریاست میں انتخابات کا پہلا مرحلہ فبروری کے اوائل سے شروع ہوگا اور مہینے بھر مختلف مراحل میں رائے دہی ہوگی اور پھر 11 مارچ کو ملک کی دوسری ریاستوں کے ساتھ یہاں بھی ووٹوں کی گنتی کا کام ہوگا ۔ انتخابی شیڈول کے اعلان سے قبل ہی ملک کی اہم ترین سیاسی جماعتیں اتر پردیش میں اقتدار کیلئے اپنی دوڑ دھوپ کا آغاز کرچکی ہیں۔ ہر سیاسی جماعت اپنے طور پر رائے دہندوں کو رجھانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں تاہم ایسے عناصر زیادہ سرگرم ہوگئے ہیں جو بی جے پی کے زر خرید ہیں۔ یہ عناصر ہر شعبہ حیات میں ہیں اور خاص طور پر میڈیا میں ان کی بہتات دکھائی دیتی ہے ۔ ابھی جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہی ہوا تھا کہ یہ عناصر سرگرم ہوگئے ہیں اور بعض گوشوں کی جانب سے بی جے پی کو ریاست میں واضح اکثریت کی پیش قیاسیاں شروع ہوگئی ہیں۔ انتخابات ہندوستانی جمہوریت کی معراج ہیں۔ ان کے ذریعہ ملک کے عوام کو اپنی پسند کے امیدواروں اور اپنی پسند کی سیاسی جماعت کو ووٹ دینے کا موقع دستیاب ہوتا ہے ۔ رائے دہندے اپنی ذہنی آزادی کے ساتھ ووٹ کا استعمال کرتے ہیں اور اکثریت کے مطابق حکومت تشکیل پاتی ہے ۔ جس جماعت کو رائے دہندے اکثریت دیتے ہیں وہ جماعت عوام کی خدمت کیلئے حکومت سازی کے ذریعہ سرگرم ہوجاتی ہے ۔ یہ ملک کی ہر ریاست میں ہوتا ہے اور پارلیمنٹ کی تشکیل بھی اسی طریقے سے ہوتی ہے ۔ تاہم حالیہ چند برسوں سے دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ عناصر جو میڈیا میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں وہ اپنے عہدوں اور مقام کا بیجا استعمال کرنے لگے ہیں۔ یہ لوگ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے طور پر کام کر رہے ہیں اور وہ اپنی پسند اور ترجیحات کو رائے دہندوں پر تھوپنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ کسی نہ کسی اعتبار سے وہ رائے دہندوں کی ذہن سازی کرنے لگتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ ہر ایک کو اپنی پسند کی جماعت اور اپنی پسند کے امیدوار کے حق میں ووٹ استعمال کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔ سیاسی جماعتوں کو بھی یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ رائے دہندوں سے رجوع ہوں۔ ان کے سامنے اپنا ایجنڈہ اور ترقیاتی پروگرام رکھیں۔ دوسری جماعتوں کی خامیوں کو پیش کریں اور پھر ان کی رائے طلب کریں لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب ہر شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے افراد سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر اپنے اپنے طور پر رائے دہندوں کی ذہن سازی کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ وہ اپنی سیاسی وابستگیوں اور نظریاتی وابستگیوں کی بنیاد پر ایسا کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں اور یہ سب کچھ پیشہ ورانہ دیانت کے تقاضوں اور اصولوں کے مغائر ہے ۔ یہ الزامات بھی لگنے لگے ہیں کہ یہ عناصر اپنے ایجنڈہ کو سیاسی وابستگیوں کے ذریعہ پورا کرنے میں مصروف رہتے ہیں اور اس کے عوض وہ اپنے مفادات کی تکمیل بھی کامیاب طریقے سے کرلیتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک نازک دور سے گذر رہا ہے ۔معیشت بری طرح متاثر ہونے لگی ہے ۔ عام آدمی کی روزمرہ کی ضروریات کی تکمیل تک مشکل ہوتی جا رہی ہے ایسے میں عوام کو اپنی پسند کا تعین کرنے کیلئے موقع دینے اور ان کی ذہنی سمجھ بوجھ کو مزید اجاگر کرنے کی بجائے ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرنا ملک کی جمہوریت کے اصولوں کے مغائر ہے اور اس طریقہ کار سے ہر ایک کو گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔
اب جبکہ اترپردیش اور ملک کی دوسری ریاستوں میں انتخابات کا بگل بج چکا ہے ۔ ہر سیاسی جماعت اپنے طور پر تیاریاںپوری شدت کے ساتھ کر رہی ہے ‘ ہر جماعت رائے دہندوں سے رجوع ہوگی اور اپنا پروگرام اور منصوبہ ان کے سامنے پیش کریگی ایسے میں رائے دہندوں کو سوچنے کیلئے موقع دیا جانا چاہئے ۔ ہر جماعت کے قول و فعل میں اگر کوئی تضاد پایا جاتا ہے تو اسے عوام کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کی بجائے کسی ایک جماعت کی تشہیر کرنا کم از کم ذرائع ابلاغ کی اخلاقی ذمہ داری نہیں ہے اور اس سے جتنا ممکن ہوسکے گریز ہی کیا جانا چاہئے ۔ جو کام سیاسی جماعتوں کا اور سیاسی قائدین کا ہے وہ انہیں ہی کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے اور ذرائع ابلاغ کو کسی مسئلہ کا فریق بننے یا کسی جماعت کا ترجمان بننے سے گریز کرنا چاہئے ۔ ملک کی جمہوریت اور اس کے اصولوں پر کوئی آنچ آنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جاسکتی اور سبھی گوشوں کو اس سے بچنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT