Thursday , July 27 2017
Home / Top Stories / یو پی میں آج چوتھے مرحلے کی پولنگ ، کئی قائدین کی سیاسی ساکھ داؤ پر

یو پی میں آج چوتھے مرحلے کی پولنگ ، کئی قائدین کی سیاسی ساکھ داؤ پر

لکھنؤ،22 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش اسمبلی الیکشن کے چوتھے مرحلے میں کل 12 اضلاع کی 53سیٹوں پر ہونے والی پولنگ کنڈا کے راجہ بھیا کے ساتھ دہائیوں سے سیاسی افق پر اثر ڈالنے والے بڑے قائدین کی نئی نسل کا مستقبل بھی طے کرے گی۔ چوتھے مرحلے میں کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پرمود تیواری کی بیٹی اور رام پور خاص سے امیدوار آرادھنا مشرا، پرتاپ گڑھ میں کنڈا سے آزادامیدوار رگھو راج پرتاپ سنگھ عرف راجہ بھیا ، رائے بریلی میں رکن اسمبلی اکھلیش سنگھ کی بیٹی اور کانگریس امیدوار ادیتی سنگھ، اسمبلی کے سابق اپوزیشن لیڈر سوامی پرساد موریہ کے بیٹے اترکش موریہ (اونچاہار سیٹ سے) ، کرچھنا اسمبلی حلقہ میں سما جوادی پارٹی کے سینئر لیڈر ریوتی رمن سنگھ کے بیٹے اجول رمن سنگھ کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔اس مرحلے میں گاندھی نہرو خاندان کے اہمیت کا حامل الہ آباد اور کانگریس صدر سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقہ رائے بریلی کے علاوہ پرتاپ گڑھ، کوشامبی، جالون ، جھانسی، للت پور، مہوبا، باندہ، حمیر پور، چترکوٹ اور فتح پور میں ووٹ ڈالے جائیں گے ۔پرامن پولنگ کیلئے مرکزی فورسیز کے دو لاکھ سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے ۔ ریاست کے چیف الیکشن آفیسر ٹی وینکٹیش نے آج یہاں بتایا کہ پولنگ کیلئے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ تمام پولیس افسرا ن اور اہلکار اپنے اپنے علاقے میں پولنگ بوتھوں پر پہنچ رہے ہیں۔ حساس علاقوں میں ڈرون کیمرے لگائے جارہے ہیں۔ چوتھے مرحلے میں ایک کروڑ 84 لاکھ ووٹر 680 امیدواروں کی انتخابی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ الہ آباد شمالی سیٹ پر سب سے زیادہ 26 امیدوار اور کھاگا، منجھن پور اور کنڈا میں سب سے کم چھ، چھ امیدوار اپنی قسمت آزما ر ہے ہیں۔ 2012ء میں ان علاقوں میں سماجوادی پارٹی کو 24 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی جب کہ بی ایس پی نے پندرہ ، کانگریس نے چھ، بی جے پی نے پانچ اور پیس پارٹی نے تین سیٹیں جیتے تھے۔ اس دوران پان اور پانداری کیلئے ملک وبیرون ملک اپنی الگ شناخت رکھنے والا اتر پردیش کے بندیل کھنڈ کا مہوبہ
ضلع بھی ترقی کی نئی امیدوں کے ساتھ 23 فبروری کو اپنے نئے لیڈروں کی قسمت کا فیصلہ کرے گا۔ 17ویں اسمبلی کیلئے چوتھے مرحلے کی پولنگ میں یہاں کل ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی بھرپور کوشش ہوئی۔ روڈ شو اور ریلیوں میں فلمی ستاروں کے ڈپلیکیٹ کے سہارے بھیڑ جمع کرکے خود کو مضبوط امیدوار ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ گاؤں گاؤں جلسوںمیں سیاسی سورماؤں نے اپنے انتخابی ترکش کے سارے تیر ووٹروں پر چلائے۔ سڑک، بجلی، پانی، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات سے محروم بندیل کھنڈ کے انتہائی پسماندہ مہوبہ میں مسائل کی طویل فہرست ہونے کے باوجود انتخابات میں حیرت انگیز طور پر یہ کبھی موضوع نہیں بن سکا۔ ہر بار ووٹ کی تاریخ کے قریب آتے ہی یہاں کا ووٹر اپنی تمام مشکلات کو ترک کر کے ذات پات کی سیاسی بساط میں الجھ کر رہ گیا۔ یہاں کی دونوں چرکھاری اور مہوبہ سیٹوں پر آزادی کے بعد سے زیادہ تر کانگریس کاقبضہ رہا ہے۔ بعد میں دو دہائیوں سے ایس پی اور بی ایس پی باری باری جیت رہے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT