Saturday , October 21 2017
Home / مضامین / یو پی میں اکھلیش یادو کا پلڑا بھاری

یو پی میں اکھلیش یادو کا پلڑا بھاری

ظفر آغا
جیسا کہ راقم الحروف نے پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ ابھی کچھ عرصہ تک میری نظریں اتر پردیش کے انتخابات پر رہے گی تو وعدہ کے مطابق یہ کالم بھی یو پی چناؤ کی نذر ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یو پی انتخابات میں وزیر اعظم کا وقار داؤ پر ہے اور یہی وجہ ہے کہ ملک کی نظریں ان انتخابات پر ٹکی ہوئی ہیں۔ اترپردیش سیاسی اعتبار سے ملک کی اہم ترین ریاست ہے، اس کے علاوہ اس ریاست کے انتخابات میں مسلم ووٹ بینک کلیدی رول ادا کرسکتا ہے۔ ان اسباب کے تحت قارئین اور مبصرین کی نظریں یوپی انتخابات پر لگی ہوئی ہیں۔ آیئے پھر ایک بار یو پی کا رُخ کیا جائے۔
فی الحال اترپردیش کی سیاست حکمران پارٹی یعنی سماجوادی پارٹی میں چل رہی خانہ جنگی کا شکار ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے خود اپنے والد ملائم سنگھ یادو کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا ہے اور اس وقت جبکہ یہ کالم لکھا جارہا ہے اسوقت دہلی کے الیکشن آفس میں اکھلیش اور ملائم گروپس کے درمیان پارٹی کے نشان ’ سیکل ‘ کے مقدمہ پر سنوائی چل رہی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ یو پی کے عوام اکھلیش کے ساتھ ہیں یا ملائم سنگھ کے ساتھ۔ یعنی سماجوادی پارٹی کے بٹوارے کے بعد عوامی ہمدردی اکھلیش کے ساتھ ہے یاپھر ملائم سنگھ کے ساتھ ہے، اس سوال کا قطعی جواب تو انتخابی نتائج ہی دیں گے۔ فی الحال صورتحال کیا ہے ، اس فراق میں راقم نے کم از کم ایک درجن افراد سے یو پی میں ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ اس گفتگو میں ہندو ۔ مسلم اور امیر، غریب ہر قسم کے افراد شامل تھے۔ اس گفتگو کا لب لباب یہ ہے کہ اس وقت اتر پردیش میں اکھلیش یادو کے حق میں ہمدردی کی لہر چل رہی ہے۔ کیا اس بات میں دم ہے اور اگر ایسا ہے تو پھر اس کا سبب کیا ہے۔ تقریباً پانچ سالہ دور حکومت میں اکھلیش یادو کی امیج ایک صاف ستھرے وزیر اعلیٰ کی رہی ہے۔ ان کے بارے میں لوگوں کا خیال تھا کہ وہ نیک ارادوں کے لیڈر ہیں اور ریاست کی ترقی کیلئے اپنے طور پر کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ ایک مجبور سیاستداں ہیں جو اپنے والد اور اپنے چچاؤں کے ہاتھوں میں تقریباً گرفتار ہیں۔ اس وجہ سے وہ عوامی مفاد میں بہتر فیصلے کرنے سے قاصر ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک بیچارے لیڈر کی امیج تھی۔ اس امیج کی بنیاد پر ووٹر اکھلیش کے ساتھ ہمدردی تو کرسکتے تھے لیکن اس صورتحال میں بڑی تعداد میں ووٹ ملنے کی امید نہیں ہوسکتی تھی۔ لیکن آخر کار انتخابات سے قبل خود اپنے والد اور سیاہ امیج رکھنے والے چچاؤں کے خلاف اکھلیش نے بغاوت کردی۔ یعنی اب وہ ایک لاچار اور بے چارے لیڈر نہیں رہے بلکہ اکھلیش اب ایک باغی لیڈر ہیں جنہوں نے عوامی مفاد میں اپنی گرتی ساکھ والے باپ اور چچاؤں کے خلاف بغاوت کی ہے۔ یعنی عوامی اصطلاح اور ایک فلمی پلاٹ کے مطابق اس پس منظر میں اکھلیش ہیرو اور ملائم سنگھ اور ان کے بھائی ( اکھلیش کے چچا  ) ویلن بن گئے۔ ظاہر ہے کہ عوامی ہمدردی تو ہیرو اکھلیش کے ساتھ ہے۔ اس صورتحال میں ہندو، مسلم، امیر و غریب ہر قسم کے یو پی کے ووٹر کی ہمدردی اکھلیش کے ساتھ ہونا فطری ہے۔ یعنی اس پس منظر کے تحت یہ کہنا غلط ہوگا کہ فی الوقت اکھلیش یادو یو پی چناؤ کے بھی ہیرو ہیں اور ان کو باقی سبھی سیاسی شخصیتوں پر فوقیت حاصل ہے۔

یہ اندازہ غلط نہیں ہونا چاہیئے کہ کیونکہ سیاست میں جس شخصیت نے بھی اس سے قبل باغی کا رول سیاست میں ادا کیا ہے وہ بے حد کامیاب رہا۔ مثلاً اقتدار میں رہتے ہوئے 1969 میں اندرا گاندھی نے جب کانگریس کے بوڑھے ’ اولڈ گارڈز ‘ کے خلاف علم بغاوت بلند کرکے ایک نئی پارٹی بنائی تھی  تو انہیں ہندوستان کی عوام نے ملک کی سیاسی ہیروئن تسلیم کرلیا تھا۔ یہی صورتحال 1986 سے 1989 کے درمیان وی پی سنگھ کی بھی تھی جنہوں نے راجیو گاندھی کے خلاف علم بغاوت بلند کرکے 1989 کے لوک سبھا انتخابات میں راجیو کو شکست دی تھی۔ دو برس قبل دہلی میں اروند کجریوال بھی ایک باغی کی صورت میں ابھرے تھے اور انہوں نے نریندر مودی کی مقبولیت کو پس منظر میں ڈال دہلی کا چناؤ زبردست کامیابی کے ساتھ جیتا تھا۔ اس اعتبار سے بھی موجودہ صورتحال میں باغی اکھلیش یادو یو پی کے سب سے اہم لیڈر ہیں اور وہ انتخابی اعتبار سے بھی دوسروں پر فوقیت رکھتے ہیں۔

دوسری اہم بات جو یو پی چناؤ سے متعلق ہے وہ یہ ہے کہ آپ جب یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے اسوقت تک یو پی میں سماجوادی پارٹی اور کانگریس پارٹی کے اتحاد کا اعلان ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ اجیت سنگھ کی آر ایل ڈی پارٹی اور دیگر پارٹیاں اس اتحاد میں شامل ہوجائیں گی۔ اس صورتحال میں راہول گاندھی اور اکھلیش یادو اور ان کے ساتھ پہلی بار پرینکا گاندھی بھی انتخابی مہم میں شامل ہوں گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے دو نتائج ہوں گے۔ اول تو یہ وہ مسلم ووٹ بینک جو اس گھاٹ میں بیٹھا ہے کہ کس کو ووٹ دے کر بی جے پی کو ہڑپا جائے تو وہ کھل کر اکثریت کے ساتھ اکھلیش۔ راہول کے پرچم تلے اکٹھا ہوجائے گا۔ دوسرا نتیجہ یہ ہوگا کہ اکھلیش کے حق میں ہمدردی ایک انتخابی آندھی کی شکل اختیار کرلے گی جس کے سامنے بی جے پی سمیت دوسری پارٹیوں کا ٹکنا مشکل ہوجائے گا۔ اس اعتبار سے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اقتدار میں رہنے کے باوجود اکھلیش ایک بار پھر یو پی کے وزیر اعلیٰ بن سکتے ہیں جو ایک ریکارڈ ہوگا، کیونکہ عرصہ سے برسراقتدار وزیر اعلیٰ یو پی میں دوسری بار اقتدار حاصل نہیں کرسکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT