Saturday , August 19 2017
Home / مضامین / یو پی میں بھیا اور بھابی سے بی جے پی پریشان

یو پی میں بھیا اور بھابی سے بی جے پی پریشان

محمدریاض احمد

اترپردیش کے 403 اسمبلی حلقوں میں سے تاحال 363 حلقوں میں رائے دہی ہوچکی ہے ۔ اب صرف آخری اور ساتویں مرحلہ کے تحت 8مارچ کو 40نشستوں پر رائے دہی ہونے والی ہے   ۔ ملک میں یو پی اسمبلی انتخابات مرکز میں برسراقتدار بی جے پی اور ریاست کی حکمراں جماعت ایس پی کیلئے کرو یا مرو کی حیثیت رکھتی ہیں جبکہ بی ایس پی کی مایاوتی کی سیاسی ساکھ بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے ۔ دلچسپی کی بات یہ ہیکہ اکھلیش یادو اور راہول گاندھی کی زیر قیادت ایس پی ۔ کانگریس اتحاد سے لیکر بی جے پی اور بی ایس پی تمام کی تمام جماعتیں اپنے امیدواروں کے امکانات کا اندازہ لگانے کے باوجود کامیابی کے دعوے کررہے ہیں ۔ ان دعوؤں کے بیچ ریاست میں معلق اسمبلی کی گونج بھی سنائی دے رہی ہے ۔ معلق اسمبلی کی باتیں کرنے والوں میں بی جے پی رہنما بشمول وزیراعظم نریندر مودی سرفہرست ہیں ‘ جنہوں نے انتخابی مہم کو ایک نچلی سطح پر پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے جس انداز میں انتخابی مہم چلائی ہے ‘ اس کے بارے میں ایک محب وطن اور دردمند ہندوستانی کی حیثیت سے ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے عہدہ وزارت عظمی کے وقار پر کاری ضرب لگائی ہے ۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے ایسی بیہودہ باتیں کی جس کی عہدہ وزارت عظمی پر فائز شخص سے امید نہیں کی جاسکتی ‘ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو وزیراعظم نریندر مودی صدر بی جے پی امیت شاہ اور دوسرے بی جے پی قائدین کے جو بیانات سامنے آئے ہیں اس سے یہی لگ رہا ہیکہ بی جے پی کیمپ بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا ہے اور سیاسی قائدین اس وقت اول فول بکنے لگے ہیں ‘ انہیں اپنی شکست کا یقین ہوگیا ہے ۔ انتخابات کے اعلان سے قبل یہی رائے پائی جاتی تھی کہ بی جے پی کو ایس پی اور بی ایس پی پر برتری حاصل ہے ‘ اس کی سب سے اہم وجہ ملائم سنگھ یادو اوراکھلیش یادو کے درمیان اختلافات تھے لیکن جیسے ہی اکھلیش یادو نے پارٹی کی کمان سنبھالی ایک طرح سے بی جے پی قائدین کی امیدوں پر پانی پھر گیا ۔ اس کے بعد تو کانگریس کے ساتھ ایس پی کے اتحاد وار راہول گاندھی کے ہمراہ اکھلیش کی مشترکہ انتخابی ریالیوں  نے مودی جی سے لیکر سنگھ پریوار کے چھوٹے بڑے رہنماؤں میں ہلچل پیدا کردی ‘ انہیں دن میں بھی تارے نظر آنے لگے ۔ ریاست میں ان تمام تبدیلیوں کا سہرا چیف منسٹر اکھلیش یادو اور ان کی اہلیہ ڈمپل یادو ایم پی کو جاتا ہے ۔ 39سالہ ڈمپل اور 43 سالہ اکھلیش نے چند دن میں ہی یو پی اسمبلی انتخابات کا پانسہ پلٹ دیا ۔ آج اس جوڑے کو نہ صرف اترپردیش بلکہ ہندوستان کا طاقتور سیاسی جوڑا کہا جاسکتا ہے ۔ اب تک ہوئے 6مرحلوں کی انتخابی مہم میں اکھلیش یادو اور ڈمپل یادو نے رائے عامہ کو ایس پی ۔ کانگریس اتحاد کے حق میں ہموار کردیا ہے  جیسے کہ امکانات پائے جاتے ہیں اگر اس اتحاد کو کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اکھلیش یادو اور ڈمپل یادو کی یہ جوڑی قومی سیاست میں بھی ایک فیصلہ کن اور طاقتور جوڑی بن جائے گی اور 2019ء کے عام انتخابات میں اقتدار پر بی جے پی کی برقراری میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوگی ۔ اترپردیش اسمبلی انتخآبات کو 2019ء کے عام انتخابات کا سیمی فائنل سمجھا جارہا ہے ۔ اگر یو پی میں ایس پی ۔ کانگریس اتحاد کو اقتدار حاصل ہوتا ہے تو پھر اکھلیش ۔ ڈمپل یادو کی جوڑی اگلے عام انتخابات میں دوسری سیکولر طاقتوں کے ساتھ ملکر بی جے پی کے اقتدار کو اکھاڑ پھینکے گی ۔ یو پی سے ہمیں جو اطلاعات مل رہی ہیں ‘ان کے مطابق اکھلیش یادو اور ان کی اہلیہ یومیہ کم از کم 15 جلسوں سے خظاب کررہے ہیں ‘ کبھی وہ ایک ضلع میں ہوتے ہیں تو ایک گھنٹہ بعد وہ دوسرے ضلع میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ انتخابی ریالیوں کے معاملہ میں اکھلیش یادو نے وزیراعظم نریندر مودی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ وہ جہاں ہیلی کاپٹروں کا بہتر انداز میں استعمال کررہے ہیں وہیں انفارمیشن ٹکنالوجی کے استعمال کا بھی کوئی موقع نہیں چھوڑتے ۔ مودی جہاں اپنی پارٹی کو کامیابی دلانے بے چین ہیں وہیں اکھلیش یادو ایس پی ۔ کانگریس اتحاد کی کامیابی کو یقینی بنانے میں ہمہ تن مصروف ہیں ۔ اکھلیش اور ان کی اہلیہ ڈمپل کا سادہ سیدھا لباس بھی عوام کو ایس پی کی جانب کھینچ رہا ہے ۔ کھادی کا سفید کرتا پاجامہ اس پر سیاہ نہرو جیاکٹ اور سیاہ جوتے اکھلیش کی پہچان بن گئے ہیں جبکہ ڈمپل ایک خالص ہندوستانی ناری اور ایک وفاشعار بیوی کی طرح ساڑی زیب تن کرتے ہوئے جلسوں میں شریک ہورہی ہیں ۔ اکھلیش اور ڈمپل کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس جوڑی نے سب سے پہلے خاندان میں پھوٹ پڑے اختلافات پر قابو پالیا جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں لکھا ہے کہ اکھلیش رائے عامہ کو اپنی پارٹی کے حق میں ہموار کرنے کیلئے ڈیجیٹل ٹکنالوجی کا بہتر انداز میں استعمال کررہے ہیں ۔ اس ضمن میں یہ بتانا چاہوں گا کہ وہ فیس بک ‘ ٹیوٹر ‘ واٹس اپ پر کافی سرگرم ہیں ۔ ہیلی کاپٹر میں سفر کے دوران بھی فون کے بٹنس پر ان کی انگلیاں چلتی رہتی ہیں ۔ خود ان کا کہنا ہیکہ یہ 360ڈگری کی مہم ہے اور جہاں تک ڈیجیٹل آلات کے استعمال کا سوال ہے وہ اپنے حریفوں سے بہت آگے ہیں ۔ 27دنوں میں انہوں نے یومیہ 5گھنٹے کے اوسط سے جملہ 135 گھنٹے فضائی سفر کیا اور وہ جس بے باکی اور سرگرمی کے ساتھ مہم چلارہے ہیں یہ تب ہی ممکن ہوسکا جب ڈمپل یادو نے قدم قدم پر ان کا ساتھ دیا ۔ بتایا جاتا ہیکہ اکھلیش اور ڈمپل یادو نے محبت کی شادی کی ‘ حالانکہ وہ ٹھاکر خاندان سے تعلق رکھتی ہیں ۔ اکھلیش نے پارٹی کو غنڈہ عناصر سے پاک کرنے کی کوشش کی تب ڈمپل یادو نے ان کا بھرپور ساتھ دیا ۔ اب انتخابی جلسوں میں ہجوم کو جمع کرنے کا بھی فن ڈمپل نے سیکھ لیا ‘ وہ جہاں بھی جاتی ہیں ایک جم غفیر جمع ہوجاتا ہے ۔ ڈمپل رائے دہندوں کی نفسیات سے اچھی طرح واقف ہے اس لئے اپنے اکثر جلسوں میں وہ خواتین کے مسائل کو اُجاگر کررہی ہیں ۔ دونوں میاں بیوی بہت ہی مہذب انداز میں وزیراعظم سے لیکر اپنے دوسرے حریفوں کو نشانہ بنارہے ہیں ۔ حال ہی میں اکھلیش نے ’’ گجرات کے گدھوں ‘‘ والا ریمارک اس شائستہ انداز میں کیا کہ سمجھنے والے سب کچھ سمجھ گئے کہ وہ کس گدھے کی بات کر رہے ہیں۔ ڈمپل کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی من کی بات کرتے ہیں جبکہ اکھلیش  کام کی بات میں یقین رکھتے ہیں ۔ اپنے حامیوں کیلئے اکھلیش جہاں بھیاجی ہیں وہیں ڈمپل ان کی بھابی ہوگئیں ہیں ۔ اترپردیش کی فضاء میں آج کل یہ نعرے بہت گونج رہے ہیں ’’ وکاس کی چابی ‘ ڈمپل بھابی ‘‘ اور ’’ بھیا جی وکاس ہے ‘ بھابی جی کا ساتھ ہے ‘‘ ۔
اکھلیش اور ڈمپل یادو کی شخصیت کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا  ہے کہ دونوں رائے دہندوں سے قربت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ دونوں ہی نرم گفتار ‘ سادہ مزاج لیکن کرشماتی شخصیت کے مالک ہیں ۔ اگر ہم 2012ء کے اسمبلی انتخابات کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہیکہ پہلے مرحلہ میں جن 73حلقوں میں رائے دہی ہوئی ان میں سماج وادی پارٹی نے 24‘ بی ایس پی نے 24 ‘ بی جے پی 11‘ کانگریس 5 اور آر ایل ڈی نے 7حلقوں میں کامیابی حاصل کی ۔ دوسرے مرحلہ کے جن 66 حلقوں میں رائے دہی ہوئی ان میں سے ایس پی کو 34 ‘ بی ایس پی کو 18 ‘ بی جے پی کو 10 ‘ کانگریس کو تین اور دیگر کو 2نشستیں  مل پائیں ۔ تیسرے مرحلہ کے تحت جن 69 نشستوں پر پولنگ ہوئی ’’ دی ویک ‘‘ کے مطابق 2012 میں وہاں سے 54پر ایس پی ‘ 6پر بی ایس پی ‘ 6پر بی جے پی ‘د و پر کانگریس اور ایک پر آزاد امیدوار نے کامیابی حاصل کی تھی ۔ چوتھے مرحلہ کے تحت 53نشستوں پر رائے دہی ہوئی اس میں سے 2012میں ایس پی نے 24‘ بی ایس پی نے 15 ‘ بی جے پی نے 5 ‘ کانگریس نے 6اور دیگر نے تین نشستیں حاصل کی تھیں ۔ پانچویں مرحلہ میں 52 نشستوں پر انتخابات ہوئے 2012میں ان نشستوں میں سے ایس پی نے 38 ‘ بی ایس پی نے 3‘ بی جے پی نے 4 کانگریس نے 5 اور دوسروں نے دو حلقوں میں کامیابی حاصل کی ۔ چھٹویں مرحلہ میں 49 حلقوں می رائے دہی ہوئی جس میں سے ایس پی نے 2012 کے انتخابات میں 27‘ بی ایس پی نے 9 ‘ بی جے پی نے 7 ‘ کانگریس نے 4 اور دیگر نے دو حلقوں میں کامیابی حاصل کی ۔ 8مارچ کو آٹھویں مرحلہ کے تحت 60 نشستوں پر رائے دہی ہوگی ۔ 2012کے اسمبلی انتخابات میں ان حلقوں میں سے ایس پی نے 23‘ بی ایس پی نے 5‘ بی جے پی نے 4 ‘ کانگریس نے 3اور دیگر نے 5 پر کامیابی حاصل کی تھی ۔ اب دیکھنا یہ ہیکہ اکھلیش اور ڈمپل کس طرح 2012 کی تاریخ دہراتے ہیں ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT