Thursday , May 25 2017
Home / مضامین / یو پی میں بی جے پی کی جیت ۔ ملک میں 1857 جیسے حالات

یو پی میں بی جے پی کی جیت ۔ ملک میں 1857 جیسے حالات

ظفر آغا
لکھنؤ ہار گئے، لکھنؤ میں کل وہی ہوا جو 1856 میں واجد علی شاہ کے ساتھ ہوا تھا، اس کے بعد لکھنؤ اور پھر ایک برس بعد 1857 میں اس ملک کے مسلمانوں پر جو قہر ٹوٹا تھا وہی قہر ایک بار ٹوٹنے والا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس دور میں پہلے واجد علی شاہ کی شاہی گئی اور لکھنؤ لٹا تھا اور ایک برس بعد دہلی میں بہادر شاہ ظفر قید ہوئے اور پھر دہلی میں غلامی کی زنجیریں پہنائی گئیں۔ لیکن اس دور میں دہلی 2014 پوری طرح ہاتھوں سے نکل گیا اور تقریباً تین سال بعد لکھنؤ بھی جاتا رہا۔ یوں تو اس ملک کا مسلمان 1947 میں ہی کم و بیش دوسرے درجہ کا شہری بن گیا تھا۔ محمد علی جناح کی بٹوارے کی سیاست نے برصغیر ہند کے مسلمانوں کو پہلے دو حصوں میں بانٹ دیا اور پھر آگے چل کر وہی مسلمان تین حصوں ( ہندوستان، پاکستان اور پھر بنگلہ دیش ) میں بٹ کر ان کے ایسے ٹکڑے کئے کہ وہ ہر جگہ یا تو امریکہ کی غلامی کا شکار ہوا یا ہندوستان کی جمہوری سیاست کے نمبر گیم میں اقلیت ہوکر اکثریت کے رحم و کرم پر چلنے لگا۔ لیکن اب پھر سے دہلی اور لکھنؤ ہاتھ سے نکل جانے کے بعد اس ملک کی اقلیت کی قسمت میں تیسرے درجہ کی شہریت لکھ دی گئی ہے۔ جس قوم کے دفن کئے جانے کی زمین پر ملک کا وزیر اعظم سوال اٹھائے، اس قوم کو تیسرے یا پھر چوتھے درجہ کا شہری نہ کہا جائے تو پھر اور کیا کہا جائے۔؟

یہ تو رہا اُتر پردیش چناؤ کے بعد اس ملک کے مسلمانوں کا مستقبل۔ اب آنے والے دنوں میں کیا ہونے والا ہے، ہندوستان اس وقت اس سیاسی دور میں ہے کہ جس دور میں پاکستان نے 1977 میں قدم رکھا تھا۔ یاد ہوگاکہ 1977 میں پاکستان میں جنرل ضیاء الحق ذوالفقار علی بھٹو کو برطرف کرکے اقتدار میں آئے تھے۔ ایک روز صبح پی ٹی وی یعنی پاکستان ٹی وی پر نیوز اینکر خاتون نے ڈوپٹے سے سر ڈھک کر ’خدا حافظ‘ کو خیر باد کہتے ہوئے ’ اللہ حافظ ‘ کی اصطلاح کی شروعات کی تھی اور بس اس کے کچھ عرصہ بعد پاکستان میں نظام مصطفے کے قیام کا اعلان کردیا گیا تھا۔ اس طرح پاکستان ایک کٹر اسلامی مملکت میں تبدیل کردی گئی تھی۔ پھر اس ملک میں پہلے اسکولوں کے نصاب بدلے گئے جس میں تاریخ کو خاص طور پر مسلمان بنایا گیا۔ آہستہ آہستہ ملک میں اسکول کم ہوتے گئے اور مدرسوں کا سیلاب اُمڈ آیا، پھر جہاد کا نعرہ بلند ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے ملک کی سڑکوں پر حافظ سعید جیسے جہادیوں کا راج ہوگیا۔ اب یہ عالم ہے کہ پاکستان میں نہ تو مساجد محفوظ ہیں ، نہ مزارات پر زندگی کا بھروسہ ہے اور نہ ہی بازار محفوظ ہیں۔ یہ نتیجہ ہے پاکستان کو ایک کٹر مذہبی ملک میں تبدیل کرنے کا۔
ہندوستان میں 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے جس طرز کی سیاست کی شروعات کی ہے وہ ہندوستان کو ہندو پاکستان کی جانب لے جارہی ہے، ہم ابھی تک ایک سیکولر آئین کی قسم کھارہے تھے۔ اُتر پردیش میں بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد یہ طئے ہے کہ اس سال جون میں نائب صدر اور پھر جولائی؍ اگسٹ تک صدر جمہوریہ ہند سنگھ کا کوئی پرچارک منتخب ہوجائے گا اور راجیہ سبھا میں بھی بی جے پی کی اکثریت ہوگی۔ سنگھ اور بی جے پی آئین میں لفظ سیکولر کی شمولیت پر پہلے سے بھی اعتراض کرتے چلے آرہے تھے۔ ظاہر ہے کہ اب آئین میں تبدیلی ہوگی اور لفظ ’سیکولر‘ ختم کردیا جائے گا۔ باالفاظ دیگر ہندوستان کو باقاعدہ ایک ہندو راشٹر کا درجہ دے دیا جائے گا۔ سنگھ نظریاتی سطح پر اقلیت کے تصور کو تسلیم ہی نہیں کرتی ہے، اس لئے اقلیت کے نام پر دکھاوے کیلئے جو کچھ مراعات ملتی ہیں وہ سب ختم ہوجائیں گی اور آئینی سطح پر مسلمان دوسرے درجہ کا نہیں بلکہ تیسرے درجہ کا شہری بنادیا جائے گا۔

یہ تو رہا مسلمانوں کا مستقبل۔ اب سوال یہ ہے کہ ہندو اکثریت پر مذہب کا نشہ کیسے سوار کیا جائے گا، کیونکہ ہندو کوئی متحد گروہ نہیں ہے وہ ذاتوں میں بٹا ہوا ہے۔ اس کو ذاتوں کے خانے سے نکال کر ایک متحد گروہ بنانا ضروری ہے۔ اس کے لئے وہی ہوگا جو پاکستان میں ہوا، اور ہورہا ہے۔ یعنی سنگھ کو ایک ہندو جہاد کا نعرہ بلند کرنا ہوگا۔ وہ نعرہ اس سے قبل 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے وقت اٹھ چکا ہے۔ اس بار بابری مسجد کا نام نہیں ہوگا اس کی جگہ صرف رام مندر کا نعرہ ہوگا اور اتر پردیش میں اپنی حکومت کے قیام کے بعد ایودھیا میں رام مندر کے قیام کا جہاد شروع ہوگا۔ جس طرح پاکستان میں ہندوستان کے خلاف حافظ سعید جیسے کردار درکار ہوتے ہیں ویسے ہی ہندوستان میں اب یوگی آدتیہ ناتھ جیسے ہندو جہادی کردار آپ کو نظر آئیں گے اور ملک پھر ایک بار مندر وہیں بنائیں گے کی صداؤں سے گونج اُٹھے گا۔
2019 کا لوک سبھا چناؤ رام مندر کے قیام کی فتح کا جشن اور اس کے کاندھوں پر سوار مودی حکومت کے دوسرے دور کا جشن ہوگا، اس کے لئے محض اتر پردیش ہی نہیں بلکہ پورے ملک کو 2002 کے گجرات میں تبدیل کرنا ہو تو کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی۔اس لئے دوسرے درجہ کے شہری تو کب کے بن چکے ، اب تیسرے درجہ کی شہریت کیلئے تیار رہیئے۔ لکھنؤ ہی کیا پورے ہندوستان میں 1856 اور 1857 جیسے حالات کیلئے تیار رہیئے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT