Thursday , July 27 2017
Home / مضامین / یو پی میں معلق اسمبلی بھی بی جے پی کی شکست کے مماثل

یو پی میں معلق اسمبلی بھی بی جے پی کی شکست کے مماثل

غضنفر علی خاں

اس وقت ملک کے وہ ذہن جو ذرا سی بھی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں جنہیں سیاسی شعور ہے ، ان کی نظریں اترپردیش میں جاری اسمبلی انتخابات پر ہے ۔ اوپنین پول بھی ہوئے ، کم از کم 3 قومی سطح کے ایسے اوپنین پول میں پیش قیاسی کی گئی ہے کہ اترپردیش میں کسی بھی پارٹی کواسمبلی میں قطعی اکثریت حاصل نہیں ہوگی اور غالب امکان اس بات کا ہے کہ یہاں 11 م ارچ 2017 ء کو ہونے والی رائے شماری  میں کانگریس ، سماج وادی اتحاد ، بی جے پی کو تقریباً برابر کی سیٹیں ملیں گی۔ تمام پولس میں کہا گیا ہے کہ اترپردیش کی ایک اور طاقتور علاقائی پارٹی بہوجن سماج کو ناقابل ذکریا بہت کم نشستیں حاصل ہوں گی ۔ حالانکہ یہ پارٹی ہمیشہ اس بڑی ریاست میں اقتدار کی دعویدار رہی ہے ۔ پارٹی کی لیڈر مایاوتی نے مشرقی اترپردیش میں مسلم ووٹوں کی بھاری تعداد کو دیکھتے ہوئے بڑی تعداد میں لگ بھگ 80 مسلم امیدوار کھڑے کئے ہیں لیکن انتخابی مہم میں جو نشیب و فراز دیکھنے میں آیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ریاست میں مسلم ووٹ بینک کا رجحان بہر صورت ووٹوں کی تقسیم سے بچنا ہے ۔ اگر یہی رجحان آخر تک برقرار رہے تو پھر مسلم ووٹ جو یو پی کی زائد از 50 حلقوں میں 20 فیصد یا اس سے زیادہ ہے بہوجن سماج کو نہیں بلکہ سماج وادی ۔کانگریس کے اتحاد کو ملے گا۔ جہاں تک مسلم ووٹ بینک کا سوال ہے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس میں بی جے پی کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ مسلم ووٹ سیکولر اتحاد  ہی کے حق میں جانے کے امکانات دن بدن بڑھتے جارہے ہیں۔ رہا سوال ہندو ووٹ بینک کا تو اس میں کانگریس سماج وادی اور کچھ بہوجن سماج کا حصہ ہوگا ۔ پورا زور لگانے کے باو جود جنوری کے آخری 3 ہفتوں کے دوران بی جے پی کو اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ جس ووٹ بینک پر اس کا انحصار تھا وہ ثابت و سالم intact نہیں رہا ۔ اس میں اب تین حصے ہورہے ہیں۔ انتخابی مہم کے ابتدائی مراحل پر بی جے پی کا بہت شور و غل تھا ۔ وزیراعظم مودی ، بی جے پی کے صدر امیت شاہ اور کئی مرکزی لیڈر  جن میں راج ناتھ سنگھ بطور خاص شامل ہیں کئی ریالیوں اور انتخابی جلسوں کو مخاطب کیا ۔ ووٹر کو لبھانے کے لئے انہیں کئی سبز باغ دکھائے ۔ انتخابی مہم کو فرقہ وارانہ رنگ دیتے ہوئے بی جے پی کے کچھ لیڈر خاص طور پر  ساکشی مہاراج اور کٹیار نے رام مندر کا راگ الاپا۔ ایک مرکزی وزیر نے 3 طلاق کو منسوخ کرنے کا وعدہ کیا ۔ غرض بی جے پی نے کوئی کسر نہ چھوڑی ۔اس دوران سماج وادی۔کانگریس اتحاد وجود میں آیا ۔ ابتداء میں اس اتحاد کو سماج وادی پارٹی کے بزرگ لیڈر ملائم سنگھ کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرناپڑا۔ چیف منسٹر اکھلیش یادو اور کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے کندھے سے کندھا ملاکر جلسوں اور ریالیوں کو مخاطب کیا۔ اترپردیش نئے نعرے لگانے کیلئے خاص شہرت رکھتا ہے۔ چنانچہ اس مرتبہ بھی کئی نئے نعروں میں راہول گاندھی اور اکھلیش یادو کو ’’یہ یو پی کے لڑکے ‘‘ کانعرہ بھی شامل رہا ۔ دونوں کم عمر ہیں اور بی جے پی کے مرکزی لیڈروں کے مقابلے میں ہیں فی الواقعی‘‘ لڑکے ہی کہلاسکتے ہیں یوپی کے ان دونوں لڑکوں نے ووٹرس کو بڑی حد تک متاثر کیا ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ریاست کے عوام عمر رسیدہ سیاسی لیڈروں کو کئی بار آزما کر دیکھ چکے ہیں ۔ انہیں کبھی اپنی امیدیں پوری ہوتی ہوئے نظر نہیں آئیں۔ یو پی کے ان لڑکوں نے عوام کی نئی امید بن کر انہیں متاثر کیا ۔ آج یہ عالم ہے کہ بی جے پی بغلیں جھانک رہی ہے ۔ اس کو یہ اندیشہ ہوگیا ہے کہ کانگریس ۔ سماج وادی اتحاد کا اثر بڑھ گیا ہے اور یہ اتحاد عوام کو ووٹ دینے کیلئے ایک نیا (بہتر تو نہیں کہا جاسکتا) متبادل بن گیا ہے۔ اوپنین پول میں (جو محض قیاس آرائی ہے) بی جے پی کو اس اتحاد سے ووٹوں کے حصول میں پیچھے بتایا گیا ہے لیکن فرق بہت کم ہے ۔ دونوں کو اکثریت حاصل نہیں ہوگی، اس کی پیش قیاسی کی گئی ہے جس کے نتیجہ میں اترپردیش کے اس انتہائی اہم الیکشن کے بعد یہاں ایک معلق اسمبلی وجود میں آنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے ۔ اگر اسمبلی میں کسی کو قطعی اکثریت  نہیں ملتی ہے تو پھر یہاں نئی سیاسی صف بندیاں شروع ہوجائیں گی ۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ معلق اسمبلی کی صورت میں اترپردیش میں ’’نیشنل گورنمنٹ‘‘ بنائی جائے یا کوئی ایسی حکومت تشکیل دی جائے جس میں کم از کم دو پارٹیوں کو یکجا ہونا پڑے گا ۔ کانگریس۔ سماج وادی اتحاد کا سوال خارج از امکان ہے ۔ دونوں کے انتخابی وعدوں اور سیکولرازم کے تصور کے درمیان بعد المشرقین ہے ۔ اب یہ ضرور ممکن ہے کہ بہوجن سماج پارٹی کی لیڈر مایاوتی سے بی جے پی مفاہمت کرلے۔ ایسی صورت اس لئے بھی ممکن دکھائی دیتی ہے کہ گزشتہ تین مرتبہ مایاوتی نے بی جے پی کے ساتھ مفاہمت کرکے شریک حکومت بن چکی ہیں ۔ دونوں صورتوں میں بی جے پی کو ہی شرمندہ ہونا پڑے گا۔ بلند بانگ دعوؤں ، رام مندر کی تعمیر ، طلاق ثلاثہ جیسے مسائل چھیڑنے کے باوجود بی جے پی اپنے بل بوتے پر اپنے زور بازو پر حکومت نہ بناسکی تو یہی کہا جائے گا کہ بی جے پی کو یو پی اسمبلی کے چناؤ میں شکست ہوئی ہے ۔ بی جے پی اگر ووٹوں کے تناسب سے دوسرے نمبر پر بھی آتی ہے تو یہ اس کے لئے قطعی قابل فخر بات نہیں بلکہ یہ صورت حال بی جے پی کی ہار کے مماثل ہوگی ۔ بی جے پی صرف ہندو ووٹ بینک پر بھروسہ کر کے ہمیشہ ہی سے غیر سیکولر پارٹی رہی۔ اس مرتبہ یہ تقسیم زیادہ واضح ہوگئی ہے ، بی جے پی اتنی ساری تگ ودو کے بعد اگر اترپردیش میں حکومت نہیں بنا پائی تو اس سے ایک تاثر پیدا ہوگا کہ اترپردیش کے عوام کبھی بھی بی جے پی کے نظریات کی حامی نہیں رہے۔ 2014 ء سے 2017 ء میں بہت فرق پیدا ہوگیا ہے۔ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ وہ اور ان کی پا رٹی ’’سب کے ساتھ اور سب کے وکاس‘‘ پر ایقان رکھتی ہے ۔ اب اپنا اثر  کھوچکا ہے۔ اچھے دن کی آس میں کروڑہا عوام ابھی تک مصائب کا سامنا کر رہے ہیں۔ یو پی میں دریائے گنگا کی صفائی کا کام ابھی تک شروع نہیں ہوا ہے ۔  بے روزگاری جو تھی وہ آج بھی ہے ۔ ان دو ڈھائی برسوں میں عوام کے تجربہ میں کوئی نئی چیز نہیں ہوئی ہے ۔ وہی حالات ہیں جو مودی کے اقتدار پر آنے سے قبل تھے ۔ مودی کا جادو اب ختم ہوچکا ہے ۔ اس پر یہ بھی ہوا کہ وزیراعظم محض اپنے شخصی فیصلے کی بنیاد پر نوٹوں کی منسوخی کا اعلان کر کے ملک کے عوام کو ناقابل تصور و مصائب کا شکار بنادیا ہے ۔ یہ کہنا کہ نوٹوں کی منسوخی کے فیصلے  نے بی جے پی کے روایتی ووٹ بینک پر کوئی اثر نہیں ڈالا ، خود فریبی کے مماثل ہے ۔ اس کا اثر شہری اور دیہی عوام دونوں پر یکساں ہوا ہے ۔ رائے دہی کے دوران ووٹر یہ نہیں بھول سکتا کہ کس طرح 8 نومبر 2016 ء سے لیکر 30 ڈسمبر 2016 ء کے دوران اس کو تکالیف ہوئیں ہیں۔ کس طرح شادی بیاہ کی تقاریب رک گئیں ووٹ دینے کے آخری فیصلے کے دن یہ تلخ یادیں ووٹر کو مجبور کرسکتی ہیں کہ وہ بی جے پی کو اپنا ووٹ نہ دے۔ ابھی کئی مراحل کی رائے دہی باقی ہے ۔ اس لئے وزیراعظم اور ان کے ساتھی پرجوش انداز میں مہم چلا رہے ہیں لیکن انہیں اس بات کا احساس ہورہا ہے کہ کانگریس سماج وادی پارٹی کا اتحاد ایسے اعترضات کا سامنا نہیں کر رہا ہے جیسے بی جے پی کے لیڈروں اور کیڈر کو کرنا پڑ رہا ہے ۔ بی جے پی نے جس شدت سے ریاست میں مہم چلائی ہے اس کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پارٹی نے اخلاقی معیارات کو تک نظر انداز کردیا ۔ نہ تو کوئی سنجیدہ مسئلہ مہم پر مخاطب رہا اور نہ کسی قومی سطح کی کوئی بات کی گئی ۔ پلیٹ فارم پر بی جے پی نے اپنی ساکھ خود خراب کی ہے۔ اب اگر عوام اس کو سبق سکھانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے پارٹی کو تیار رہنا چاہئے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT