Wednesday , June 28 2017
Home / ہندوستان / یو پی میں مودی کی بونس ووٹ ملنے کی امید ’’ہوا ، ہوائی‘‘

یو پی میں مودی کی بونس ووٹ ملنے کی امید ’’ہوا ، ہوائی‘‘

آر ایس ایس اور بی جے پی کوٹہ سسٹم ختم کردینے کوشاں ۔ ملائم سنگھ بیٹے کی چاہت سے متاثر ۔ مایاوتی کی انتخابی تقریر
چنداؤلی ( یو پی ) ، 2 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سربراہ بی ایس پی مایاوتی نے وزیراعظم نریندر مودی کی اس توقع کو ’’ہوا ہوائی‘‘ (قیاسی) قرار دیا کہ بی جے پی کو ’بونس‘ ووٹ حاصل ہوں گے، اور دعویٰ کیا کہ عوام نے خود اُن کی پارٹی کو ووٹ دینے کیلئے اپنا ذہن بنا لیا ہے۔ انھوں نے ایک انتخابی ریلی میں کہاکہ رائے دہندوں نے پہلے ہی اپنا ذہن بنا لیا ہے کہ بی ایس پی کا ساتھ دیں گے۔ وہ فرقہ وارانہ بھائی چارہ کی ہولی کھیلیں گے۔ گزشتہ روز مہاراج گنج میں الیکشن ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے دعویٰ کیا تھا کہ رائے دہندے پہلے ہی ابتدائی پانچ مرحلوں میں بی جے پی کی فتح کو یقینی بناچکے ہیں اور اب وہ بقیہ دو راؤنڈس میں اضافی ووٹ پارٹی کو ’’تحفہ اور بونس‘‘ کے طور پر دیں گے۔ مایاوتی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی ملک میں ریزرویشن سسٹم ختم کردینا چاہتے ہیں۔ اگر بی جے پی اس ریاست میں حکومت تشکیل دیتی ہے تو وہ کوٹہ سسٹم کو ختم کردے گی یا پھر اسے غیرمؤثر بنا ڈالے گی۔ انھوں نے سرپرست سماجوادی پارٹی ملائم سنگھ یادو کو مورد الزام ٹھہرایا کہ وہ اپنے فرزند اکھلیش یادو کیلئے ’’اندھی محبت‘‘ سے متاثر ہیں اور اپنے بھائی شیوپال سنگھ یادو کو الگ تھلگ کرنے کی ’’دانستہ‘‘ چال چلی گئی ہے۔ ’’ملائم سنگھ یادو بیٹے کی چاہت سے متاثر معلوم ہوتے ہیں اور بھائی شیوپال کی تک ہتک کی گئی ہے۔ یہ صورتحال پارٹی کے دو گروہوں کے درمیان ووٹوں کی تقسیم کی موجب بنے گی۔‘‘ مایاوتی نے دعویٰ کیا کہ زیادہ تر بہبودی اسکیمات جن کے بارے میں ایس پی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے شروع کئے ہیں، دراصل بہوجن سماج پارٹی حکمرانی کی مرہون منت ہیں۔ سابق چیف منسٹر نے مزید کہا کہ سماجوادی پارٹی نے بی ایس پی کی شروع کردہ اسکیمات کے ناموں کو بڑی سہولت سے بدل دیا ہے۔ کافی بڑھا چڑھا کر پیش کردہ سماجوادی پنشن یوجنا کا نام مہامایا غریب آرتھک مدد یوجنا تھا۔ نیز یہ بھی کہا کہ بی ایس پی اقتدار ملنے پر قانون کی حکمرانی کا ماحول یقینی بنائے گی۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی تو کسی وزارت اعلیٰ چہرہ کے بغیر چناؤ لڑرہی ہے، اور ایس پی کا سی ایم چہرہ ’’داغ دار‘‘ ہوچکا ہے اور اسے ناقص لا اینڈ آرڈر صورتحال اور جرائم میں اضافہ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT