Monday , July 24 2017
Home / اداریہ / یو پی میں مہا گٹھ بندھن سے گریز

یو پی میں مہا گٹھ بندھن سے گریز

اترپردیش جیسی سیاسی حساس ریاست میں انتخابی بگل بجنے کے ساتھ ہی سیاسی اور انتخابی ہر طرح کی سرگرمیاں شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ ہر جماعت میں خود کو انتخابات کا سامنا کرنے اور عوام کو رجھانے کیلئے تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔ امیدواروں اور نشستوں کا انتخاب شروع ہوگیا ہے اور ایسے میں امید کی جا رہی تھی کہ بہار کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے یہاں بھی برسر اقتدار سماجوادی پارٹی دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر مہا گٹھ بندھن قائم کریگی تاکہ بی جے پی کو بہار کی طرح یہاں بھی کراری شکست سے دوچار کیا جاسکے ۔ تاہم اب مہا گٹھ بندھن کی امیدیں ختم ہوگئی ہیں کیونکہ سماجوادی پارٹی نے اعلان کردیا ہے کہ ریاست میں سوائے کانگریس کے کسی اور جماعت سے اتحاد نہیں کیا جائیگا ۔ سماجوادی پارٹی نے راشٹریہ لوک دل کے زیادہ نشستوں کے مطالبہ کو تسلیم کرنے سے گریز کیا تھا جبکہ آر ایل ڈی کا کہنا تھا کہ اسے اپنی پسند کے حلقہ جات سے مقابلہ کا موقع نہیں مل رہا تھا ایسے میں مہا گٹھ بندھن کے قیام کی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں۔ اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ سماجوادی پارٹی اور کانگریس اترپردیش میں متحدہ مقابلہ کرینگے ۔ بی جے پی بھی وہاں حالانکہ چھوٹی موٹی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب رہی ہے لیکن ریاست میں بہوجن سماج پارٹی کیلئے تنہا مقابلہ کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں رہ گیا ہے ۔ اترپردیش کا جو موجودہ سیاسی منظر نامہ ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ ضروری سمجھا جا رہا تھا کہ سکیولر جماعتیں ریاست میں بی جے پی کی اقتدار پر واپسی کو روکنے کیلئے ایک عظیم اتحاد تشکیل دینگی ۔ اس اتحاد کے حق میں اسی وقت سے رائے ظاہر کی جا رہی تھی جب سے بہار میں یہ تجربہ کامیاب رہا لیکن بہار اور اترپردیش کے حالات میں کافی فرق ہے ۔ یہاں اصل اقتدار کی دعویدار بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی کبھی ایک نہیں ہوسکتے ۔ بہار میں نتیش کمار اور لالو پرساد یادو نے اقتدار کی دعویداری پر سمجھوتہ کرتے ہوئے اتحاد کیا تھا اور اس میں انہیں کامیابی ملی تھی ۔ حالانکہ بہار میں لالو پرساد یادو کی راشٹریہ جنتادل کو زیادہ نشستیں ملی تھیں لیکن انہوں نے چیف منسٹر کی گدی پر نتیش کمار کو ہی برقرار رکھنے کا پہلے ہی اعلان کردیا تھا اور انتخابی نتائج کے بعد بھی وہ اس اعلان پر قائم رہے تھے ۔
اترپردیش میں سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی میں اس طرح کا اتحاد نہیں ہوسکتا ۔ دونوں ہی اقتدار کی دعویدار ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کو اقتدار سے روکنے سے زیادہ ان کے پاس اپنے لئے اقتدار کو یقینی بنانا اہمیت کا حامل ہے ۔ یہ دونوں جماعتیں باہم اتحاد نہیں کرسکتیں ۔ ایسے میں امید کی جا رہی تھی کہ سماجوادی پارٹی اپنے داخلی اختلافات کے بعد دوسری جماعتوں کو ساتھ ملانے سے گریز نہیں کریگی ۔ اس نے ریاست میں نئی توانائی سے مقابلہ کا عزم دکھانے والی کانگریس کے ساتھ اتحاد تو کرلیا ہے لیکن راشٹریہ لوک دل اور دوسری جماعتوں کو ساتھ لینے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔ نشستوں کے الاٹمنٹ اور تعداد کے تعلق سے جو اختلافات پائے جارہے تھے انہیں دور نہیں کیا جاسکا ہے اور اب سماجوادی پارٹی نے باضابطہ اعلان کردیا ہے کہ وہ ریاست میں سوائے کانگریس کے کسی اور سے اتحاد نہیں کریگی ۔ اس اعلان کے ساتھ ہی مہا گٹھ بندھن یا عظیم اتحاد کا خواب چکنا چور ہوگیا ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ اس ناکامی کے ریاست کے انتخابی نتائج پر اثرات کس حد تک مرتب ہوسکتے ہیں۔ یہ امید کی جا رہی تھی کہ اگر یہ مہا گٹھ بندھن تشکیل پاجاتا ہے تو پھر اس اتحاد کو اقتدار کا ملنا ممکن ہوسکتا تھا لیکن سماجوادی پارٹی کو اب بھی امید ہے کہ کانگریس کے ساتھ اتحاد کے ذریعہ اسے ریاست میں ایک بار پھر قطعی اکثریت کے ساتھ اقتدار حاصل ہوجائیگا ۔ سماجوادی پارٹی چونکہ ریاست میں برسر اقتدار ہے اس لئے اس کے دعوی کو بھی اہمیت حاصل ہے اور اسے یکسر مسترد کرنا دانشمندی نہیں ہوسکتی ۔
اب چونکہ مہا گٹھ بندھن کا امکان ختم ہوگیا ہے اس لئے کانگریس اور سماجوادی پارٹی کو اپنے اپنے لئے نشستوں کے انتخاب میں کافی احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔ محض سیاسی ساکھ کی خاطر مقابلہ کرنے کی بجائے کامیابی کے امکانات کو نظر میں رکھتے ہوئے نشستوں کی تقسیم عمل میں لانے کی ضرورت ہے ۔ اب جبکہ دونوں جماعتوں کے مابین نشستوں کی تعداد پر تقریبا سمجھوتہ ہوگیا ہے تو نشستوں کا انتخاب بھی اسی صلاحیت سے کیا جانا چاہئے ۔ جب آر ایل ڈی کی شمولیت کے ساتھ مہا گٹھ بندھن سے گریز کیا گیا ہے تو دونوں جماعتوں کو اپنی اپنی کامیابی کے امکانات کو پیش نظر رکھتے ہوئے نشستوں اور امیدواروں کا انتخاب کرنا ہی واحد بہتر راستہ رہ گیا ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT