Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / یو پی میں یوگی کی تنظیم ہندو یووا واہنی کی غنڈہ گردی

یو پی میں یوگی کی تنظیم ہندو یووا واہنی کی غنڈہ گردی

62 سالہ مسلم شخص شدید زد و کوب کی وجہ سے ہلاک ، مسلم نوجوان پر ہندو لڑکی کے اغواء کا الزام
بلند شہر ۔ 6 ۔ مئی : ( سیاست ڈاٹ کام ) : بلند شہر یو پی میں 6 افراد پر مشتمل ایک گروپ نے 62 سالہ مسلم شخص کو زد و کوب کر کے ہلاک کردیا ۔ اس مہلوک کا نوجوان پڑوسی چند دن قبل ایک دوسرے طبقہ کی لڑکی کو لے کر فرار ہوا تھا ۔ متوفی غلام محمد کے خاندان نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر اترپردیش آدتیہ ناتھ یوگی کی جانب سے قائم کردہ دائیں بازو کا گروپ ہندو یووا واہنی ہی اس قتل کا ذمہ دار ہے ۔ ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ پانچ تا 6 افراد پر شبہ ہے کہ یہ لوگ ہندو یووا واہنی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ رپورٹس کے مطابق غلام محمد اس 19 سالہ مسلم نوجوان کے پڑوسی تھے جس نے 18 سالہ لڑکی سے عشق کر کے چند دن قبل گھر سے لے کر فرار ہوا تھا ۔ مبینہ ہندو یووا واہنی سے وابستہ افراد کا گروپ لڑکی کے خاندان والوں کے ہمراہ وہاں پہونچے تو دیکھا کہ غلام محمد ایک آم کے باغ میں بیٹھے ہیں انہیں کھینچ کر سنسان مقام پر لے جایا گیا اور مبینہ طور پر شدید مار پیٹ کر کے ہلاک کیا ۔ مہلوک کے فرزند نے کہا کہ چار تا پانچ افراد میرے والد کو باغ سے گھسیٹ کر لے گئے اور جنگل میں لے جاکر شدید زد و کوب کیا اور تڑپتا چھوڑ کر چلے گئے ۔ جہاں ان کی موت واقع ہوئی ۔ سینئیر پولیس آفیسر منی راج نے بتایا کہ اس قتل کے سلسلہ میں 3 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے  ۔ پولیس اس بات کی توثیق کردی ہے کہ ملزمین کا تعلق آیا ہندو یووا واہنی سے ہے اگر اس قتل میں کسی گروپ یا تنظیم کا ہاتھ ہے تو حکومت کو اطلاع دی جائے گی اور قانونی رائے حاصل کی جائے گی جس کے بعد میں کارروائی ہوگی ۔ اسی دوران ’ لوجہاد ‘ کے معاملے میں نیا موڑ آیا ہے ۔ لڑکی نے اپنے عاشق پر اغواء کر کے عصمت ریزی کرنے کا الزام لگایا ہے ۔ متاثرہ لڑکی کی شکایت پر پولیس نے اس لڑکے کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے ۔ لوجہاد کے اس معاملے میں مذکورہ بالا 62 سالہ بزرگ کا قتل ہوا تھا ۔ سنسنی خیز الزام لگانے والی بلند شہر کی لڑکی کی تلاش میں یو پی پولیس نے دن رات ایک کردیا تھا ۔ اس لڑکی کا اغوا کرنے کے الزام میں شدید شور مچایا گیا تھا ۔ لوجہاد کے اس الزام میں 3 مئی کو ایک بزرگ کی پٹائی کر کے قتل کردیا گیا تھا ۔ پولیس نے ہندو لڑکی کو اس کے عاشق کے ساتھ دبوچ لیا تو لڑکی نے یہاں اپنا موقف تبدیل کر کے لڑکے پر الزام عائد کیا کہ اس نے اغواء کر کے عصمت ریزی کی ہے ۔ یوسف نامی اس لڑکے نے 27 اپریل کی شام اسے اغواء کیا تھا ۔ لڑکی نے بتایا کہ اسے نہیں معلوم تھا کہ یوسف ایک مسلمان ہے کیوں کہ اس نے نام بدل کر اس سے ملاقات کی تھی اور دھوکہ دے دیا تھا ۔ اس نے اپنا نام وجئے بتایا تھا ۔ پولیس کے سامنے لڑکی نے جو بیان دیا ہے اس بنیاد پر پولیس نے یوسف کے خلاف کیس درج کر کے جیل بھیج دیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT